بے جی - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

بے جی ہمارے گھر پہلی مرتبہ آئیں تو نہ وہ ہمیں جانتی تھیں نہ ہم انہیں جانتے تھے۔ البتہ وہ ہم سے خوب محبت سے ملیں۔ اگلے دن ہمارے کالج کا امتحان تھا۔ ہم نے اپنے کمرے کی جانب قدم بڑھائے ہی تھے کہ آمنہ باجی کی آواز آئی۔ یہ مہمان دن کا کھانا یہیں کھائیں گے، اور کھانا تم بناؤ گی۔ ہم نے انکار کا ہر جتن کیا، مگر آمنہ باجی نے اپنے زخمی پاؤں کی طرف اشارہ کر کے ہمیں چپ کرادیا۔ انہیں صبح پاؤں میں کانچ چبھ گیا تھا۔ کافی گہرا زخم آیا تھا۔ ہم نے بے بسی سے کچن کی راہ لی۔ کیا پکایا کیسا پکایا کچھ یاد نہیں۔ البتہ اسی دوران بڑی باجی آگئیں اور ہنستے ہوئے بولیں، یہ مہمان خاتون کون ہیں جو تمہاری طرف محبت سے دیکھ رہی ہیں۔ ہم جھینپ گئے اور شرما کر کہا کہ وہ کسی اور کام کے لیے آئی ہیں۔ پھر اس کے بعد کیا ہوا یہ ایک لمبی داستان ہے۔

کچھ دن بعد بے جی ایک مرتبہ پھر ہمارے ہاں تھیں۔ چونکہ کشمیر سے آئی تھیں اور دیر گئے پہنچی تھیں اس لیے رات ہمارے گھر ہی رک گئیں۔ چھوٹے سے گھر میں ہم ان کی تیز اور پرشوق نگاہوں سے بچتے پھر رہے تھے۔ صبح جاتے وقت انہوں نے مجھے گلے لگایا اور بولیں کھایا پیا معاف کرنا۔ یہ کہنا اکثر دیہاتی لوگوں کا رواج ہے۔

وہ بیوہ عورت تھیں، جنہوں نے نہایت مشقتوں سے اپنے بچوں کو پالا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے ہمراہ ہجرت کرکے آئیں تھیں۔ ضلع کوٹلی میں کسی خدا ترس گھرانے میں کئی ماہ گزارے۔ شروع میں کئی ماہ کی شدید بیماری کاٹی، جس میں بقول ان کے انہیں کسی چیز کا ہوش نہ رہا تھا۔ دیگر مہاجر خواتین ان کے بچوں کا بھی خیال رکھتی تھیں۔ جب انہیں کچھ ہوش آیا، اور کچھ کرنے کے قابل ہوئیں تو گود میں موجود چھ ماہ کا بچہ سیاہ پڑ چکا تھا۔ جس کا سبب یہ تھا کہ ساتھی خواتین کام کاج کرتے ہوئے بچے کو افیون چٹا دیتی تا کہ وہ سویا رہے اور کسی کو تنگ نہ کرے۔

بے جی کچھ کام کاج کرنے کے قابل ہوئیں تو شوہر نورالدین کے ہمراہ کوٹلی شہر آگئیں، اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کے بجائے مشقت کرنے لگیں۔ کئی خواتین شاہی مسجد میں نمازیوں کے لیے پانی ڈالتی تھیں، وہ بھی ان میں شامل ہو گئیں اور تھوڑے عرصے میں اپنی جمع پونجی سے ہندوؤں کا چھوڑا ہوا ایک مکان پچاس روپے مالیت میں خرید لیا۔ شوہر کو معلوم ہوا تو وہ ناراض ہوئے کہ ہمیں یہاں مکانوں کی کیا ضرورت ہے کشمیر آزاد ہوجائے تو ہم واپس چلے جائیں گے۔

کشمیر تو خیر آزاد نہ ہوا، البتہ ان کو "سرساوہ" میں کچھ زمین الاٹ ہو گئی۔ اسی دوران دو بیٹوں اور ایک بیٹی کا اضافہ بھی ہوگیا۔ بے جی کوٹلی شہر اور سرساوہ دونوں جگہ آتی جاتی رہیں۔ "سرساوہ" کی زمین قبضے اور آبادکاری کے ابتدائی مراحل میں تھی جب ایک روز "نور الدین صاحب" میرپور سے کوٹلی آتے ہوئے حادثے کا شکار ہو گئے ان کی بس پہاڑ سے نیچے جا گری اور وہ جاں بحق ہوگئے۔

بے جی بیوہ ہوگئیں، جہاں بڑے بیٹے کام کاج میں لگ گئے وہاں بے جی نے بھی پوری ہمت سے گھر کے حالات کو سنبھالا دیا۔ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے بچوں کو چٹنی، قہوے اور لہسن کی چھِٹ سے روٹی کھلائی، اور غیرت کا سبق پڑھایا۔ ان کے شوہر کا سپلائی کا ٹھیکہ تھا، مگر ان کی وفات کے ابتدائی دنوں میں شراکت دار نے سامان غائب کردیا اور ساٹھ کی دہائی میں اٹھارہ سو روپے کے قرض کا تقاضہ شروع کردیا۔ بے جی اور بیٹوں نے محنت مزدوری کرکے کئی برس میں وہ قرض اتارا۔

سرساوہ کی زمین پر کچھ مقامی لوگوں نے قبضہ کرنا چاہا تو بے جی اکیلے ہوتے ہوئے بھی ڈٹ گئیں۔ کچھ ہمدردوں کی مدد سے کھیتوں میں ایک کمرہ تعمیر کیا اور وہیں رہنے لگیں۔ قبضہ گروپ انہیں ڈرا کر بھگانے کی کوشش کرتا رہا۔ رات کو پتھر پھینک کر ڈرایا جاتا مگر وہ ہمت کے ساتھ بیٹھی رہیں۔ البتہ ایک بیٹے اور بہو کو وہاں ساتھ آباد کرلیا۔ اس کے بعد وہ کبھی کبھار ہی شہر جاتیں، بچوں کو پیار کرتیں اور جلد ہی واپس گاؤں آجاتیں۔

ان کی تمام اولاد آہستہ آہستہ پیروں پر کھڑی ہو گئی۔ سب کی شادیاں ہو گئیں، مگر بے جی کی محنت و مشقت بھری زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ سب سے چھوٹے بیٹے "رزاق حمزہ" یعنی ہمارے میاں کالج میں لیکچرار بنے تو بے جی کو اپنے پاس لے آئے، اس وقت تک بے جی کافی تھک چکی تھیں۔

جب میں ان کے پاس آئی تو وہ تقریباً پچھتر برس کی تھیں۔ بے جی بارات کے ساتھ نہ آئی تھیں۔ انہوں نے ہمارا استقبال کیا، اور زمین پر بچھے فوم کے گدے پر بٹھا دیا۔ نہ کوئی رسم تھی نہ سلامی۔ سیون اپ کی بوتل سے مہمان نوازی کی گئی۔ بعد میں جب کبھی بے جی سے گلہ کیا کہ آپ نے تو سلامی بھی نہیں دی، تو وہ کہتیں:’’بیٹی میں نے آپ کو اپنا بیٹا دیا ہے‘‘۔ اس وقت تو اندازہ نہ تھا مگر وقت نے ثابت کیا کہ بے جی کی سلامی واقعی قیمتی تھی۔

میکے سے چکر لگا کر واپس لوٹے تو بڑی عید سر پر تھی۔ بھتیجی رفعت نے پوچھا: ’’چاچی جان مہندی لگا دیں گی‘‘؟ہمارے اقرار سے وہ خوش ہوگئی۔ تھوڑی دیر بعد پھر آکر بولی۔ ’’ابو پوچھ رہے ہیں۔ میرے کپڑے سی دیں گیں؟ مشین پڑوس سے لا دیں گے"۔ اور یوں شادی کے ایک ہفتے بعد رفعت کے کپڑے سی کردیے تو بے جی کا سوٹ بھی سیا۔ جو انہوں نے پاس بیٹھ کر سلوایا۔ ہم ان کی نگاہوں سے متاثر ہوئے۔ انہیں ہم سے بھی پہلے پتا چل جاتا کہ سلائی کچھ ٹیڑھی ہو گئی ہے، عید کے دن وہ سب کو بڑی خوشی سے بتا رہی تھیں کہ۔ ’’بیٹی ہی سوٹ لائی ہے اور سی کر بھی دیا ہے‘‘۔

بے جی پنڈی ہمارے میکے جاتیں تو سب میں گھل مل جاتیں، امی جان درس دینے جاتیں تو وہ بھی تیار ہو کر ساتھ ہو لیتی۔ مجھے بیڈ ریسٹ کے سبب میکے میں قیام کرنا پڑا تو بے جی کئی ماہ ساتھ رہیں۔ ان کا چہرہ روز بروز کھلتا چلا گیا، گویا بڑھاپا رخصت ہو گیا ہو۔ کمر ہولے ہولے سیدھی ہونے لگی، اور چند ماہ میں وہ لاٹھی کے بغیر سیدھا چلنے لگیں۔ میرےمیاں صاحب کہتے’’ہم نے بے جی کو اتنی باتیں کرتے اور ہنستے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا‘‘۔

اسی دوران بے جی نے نماز، کلمے، دعائے قنوت وغیرہ درست کیں، اور اقراء پائلٹ پراجیکٹ کی تعلیم ِبالغاں کی کتابیں بھی پڑھنا شروع کردیں۔ کاپی پر لکھنا شروع کیا، اور چند صفحات یاد بھی کر لیے، لیکن گھر میں نئے اضافے کے بعد ہم ایسے مصروف ہوئے کہ آہستہ آہستہ بے جی کا سبق بھی چھوٹ گیا۔

بے جی کا تعاون اور مدد مجھے ہمیشہ حاصل رہی۔ انہوں نے مجھے کبھی پیاز نہیں کاٹنے دیے۔ کیونکہ میری آنکھیں بہت بہتی تھیں۔ وہ سبزی کاٹ دیتیں، بچوں کو کھانا کھلا دیتیں، انہیں باہر گھما لاتیں اور گھر کے کتنے ہی کاموں میں مدد کردیتیں۔ قرآن کی کلاس اور درس ہر جگہ شوق سے ساتھ جاتیں، میری سب سہیلیاں ان کی بھی سہیلیاں تھیں۔ میں نے شادی کے بعد ہی بی اے، ایم اے اور ایم فل کیا۔ بے جی ہر امتحان کی تیاری میں پوری طرح میری مدد کرتیں۔ امتحان کے دنوں میں بچوں کو میرے کمرے کے قریب بھی نہ آنے دیتیں، اور تہجد میں میری کامیابی کے لئے ڈھیر ساری دعائیں کرتیں۔ انہیں دعائوں کا نتیجہ تھا کہ میں نے ماسٹرز میں پرائیوٹ سٹوڈنٹ ہونے کے باوجود یونیورسٹی میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔

بے جی کو بہت شوق تھا کہ میں بھی پروفیسر بنوں، مگر میں دو مرتبہ پبلک سروس کمیشن ٹیسٹ پاس کرنے اور ایک مرتبہ یونیورسٹی میں سلیکشن کے باوجود ملازمت جاری نہ رکھ سکی۔ وہ کئی مرتبہ کہتیں کہ اتنا پڑھنے کا کیا فائدہ، میں تو آپ کو بہت اوپر دیکھنا چاہتی تھی۔ لیکن ذمہ داریوں کی وجہ سے کوشش کے باوجود میں ان کی یہ خواہش پوری نہ کرسکی۔

بے جی نے شروع سے مجھے فری ہینڈ دیا۔ کیا پکانا ہے، کیسے سیٹنگ کرنی ہے، کیا خریدنا ہے، وہ کسی چیز میں مداخلت نہ کرتیں۔ اپنے لیے کسی چیز کی فرمائش بھی نہ کرتیں۔ انہیں بہت اصرار سے دینا پڑتا۔ انہیں اپنے لیے کبھی کچھ نہ چاہیے ہوتا مگر باقی سب کے لیے ان کی فرمائشیں بھی ہوتیں۔ اگر کوئی اور فرمائش کرتا تو بے جی اسکے پورے ہونے تک بے چین رہتیں، سستی ہوتی تو ناراضی ان کے چہرے پر آجاتی۔

بے جی نے ہماری ہر ترقی میں ہمارا ساتھ دیا۔ میاں صاحب اسکالر شپ پر پی ایچ ڈی کرنے برطانیہ جانے لگے تو انہوں نے خوشی سے اجازت دی۔ ایک ماہ بعد ہی انہوں نے ہمیں بلوانا چاہا تو بھی انہوں نے انکار نہیں کیا بلکہ جس روز میں جا رہی تھی وہ خوشی سے کہنے لگیں ’’آج میرے بیٹے کا سیروں خون بڑھ جائے گا‘‘۔

وہ کوٹلی واپس چلی گئیں، میں انہیں خط لکھتی، اور وہ ہر آنے جانے والے سے پڑھوا کر خوش ہوتی رہتیں۔ ان چار سالوں میں ان پر کئی آزمائشیں آئیں۔ ان کی ٹانگ فریکچر ہو گئی، جوان پوتا شادی کے ایک ماہ بعد ٹریفک حادثے میں جان بحق ہو گیا۔ بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہوا، وہ صبر سے برداشت کرتی رہیں۔ ہم چار سال بعد واپس آئے تو بے جی کمزور ہوچکی تھیں، بڑھاپا غالب آگیا تھا۔ وہ ایک بار پھر ہمارے ساتھ رہنے لگیں۔

شادی کے دس برس بعد اللہ نے ہمیں بیٹا دیا تھا۔ یہ ہماری پانچویں اولاد تھی۔ تب بے جی نے کہا، اب میری ساری خواہشیں پوری ہو گئی ہیں۔ لیکن اس سے پہلے انہوں نے میرے سامنے کبھی اس حسرت کا ذکر نہ کیا۔ مظفر آباد میں ان کے تین چار پوتے پوتیاں بھی ہمارے ساتھ رہے۔ انکی شدت سے خواہش تھی کہ یہ سب پڑھ جائیں۔ اچھی تربیت پاجائیں۔ مظفر آباد میں بے جی بڑے شوق سے سبزیاں کاشت کرتیں، ان کی گوڈی کرتیں۔ صرف ہم ہی نہیں اہل ِمحلہ بھی وہ سبزیاں لے کر جاتے تھے۔

پودوں کے انتخاب میں میرا بے جی سے ہمیشہ اختلاف ہی رہا۔ مجھے پھول پسند تھے اور وہ سبزیاں لگانا چاہتی تھیں۔ ان کو سرسوں، بھنڈی، اور توری اچھی لگتی، جبکہ میں گلاب، چنبیلی اور دوسرے موسمی پھولوں کے پودے لگاتی۔ اور جہاں میرا پودا پھیلنے لگتا، یا ان کی سبزی پر اس کا سایہ پڑنے لگتا وہ بڑے آرام سے اسے تراش دیتیں کہ اس کے سائے سے سبزی مر رہی تھی۔

بے جی کو بلڈ پریشر رہنے لگا تھا۔ بعض اوقات ساری رات بیٹھ کر گزرتی۔ پھر بواسیر بھی ہو گئی۔ کئی دن پرہیز کے بعد وہ بالکل چڑ جاتیں۔ چاول بننے کی خوشبو سے ہی غصّہ شروع ہو جاتا۔ ہم آرام سے بے جی کو بد پرہیزی کروادیتے۔ لیکن اگر تکلیف ہو جاتی تو بے جی بھی چھپانے کی پوری کوشش کرتیں، اور جب زیادہ بے بس ہو جاتیں تو کان میں کہتیں، ’’بیٹی مجھے پرہیزی کھانا ہی دے دیں‘‘۔

۲۰۰۵ ء میں جب ہم کویت شفٹ ہونے لگے تو بے جی اداس ہوکر بولیں۔ ’’بیٹی، اتنی عمر آپ کے ساتھ گزاری، مجھے آخری وقت میں تنہا نہ چھوڑو، میں آپ کے ہاتھوں میں مرنا چاہتی ہوں"۔ مگر ہماری اپنی مجبوریاں تھیں۔ میاں اور تین بچے ایک سال پہلے شفٹ ہو چکے تھے۔ اب باقی بچوں کے نئے سال کا آغاز کرنا تھا۔ ہم نے بات ہنسی میں اڑائی اور کہا۔ ’’بے جی آپ نے تو ابھی سینچری کرنی ہے۔ مگر ان دنوں بے جی اکثر یہی کہتیں، اب مجھے لگتا ہے کہ میرا آخری وقت قریب ہے۔ اور پھر یہی ہوا، ہمیں کویت پہنچے دو ہفتے بھی نہ ہوئے تھے کہ بے جی فوت ہو گئیں۔

بے جی کو حج کرنے کی بہت خواہش تھی۔ جب ہم حج کرنے گئے، اس وقت ان کی عمر تقریباً ۹۵ برس تھی۔ ہم نے لوگوں سے مشورہ کیا تو سب نے کہا کہ اتنی عمر میں ان کے لیے بہت مشکل ہوگی، اس لئے ہم انہیں چھوڑ گئے۔ وہاں جاکر مگر افسوس بھی ہوا۔ اس سے اگلے سال وہ اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ اللہ آپ ان کی مغفرت فرمائے۔

Comments

Avatar

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */