چھوٹے میاں بھی طیش میں آگئے - یاسر محمود آرائیں

برسوں پہلے کہیں پڑھا تھا کہ انسان پر پڑنے والے دکھ،تکلیف اور مصیبت کی شدت کا صحیح اندازہ ایک ماں بھی نہیں لگاسکتی۔اس وقت اس بات کی صداقت پر مجھے یقین نہیں آیا۔کیونکہ مجھ ایسے جذباتی انسان کا خیال تھا کہ سگی ماں اور دیگر خونی رشتوں کے بارے میں تو یہ گمان بالکل باطل ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں اپنے دوست کی تکلیف بھی اپنی تکلیف سے بڑھ کر محسوس ہوتی ہے۔گزشتہ روز مگر شہباز شریف کی جانب سے نیب میں پیشی کے بعد کی گئی پریس کانفرنس نے مجھے اپنی اس سوچ سے رجوع پر مجبور کردیا اور یہ یقین دلا دیا کہ واقعتا انسان کو صرف اپنی ہی تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔کسی دوسرے کی تکلیف پر صبر اور برداشت کے مشورے تو ہر کوئی دے دیتا ہے مگر جب تکلیف خود کو محسوس ہوتی ہے تو جن شکوے شکایات سے وہ دوسروں کو روکتا تھا وہی خود شروع کردیتا ہے۔

شہباز شریف صاحب کل نیب کے بلاوے پر بغیر کسی پروٹوکول کے اپنی ذاتی گاڑی میں نیب آفس پہنچے۔بلاشبہ یہ قانون کی حکمرانی پر ان کے یقین کا ثبوت تھا اور اس بات کی تعریف ہونی چاہئے،لیکن نیب میں پیشی کے بعد انہوں نے جو رویہ اختیار کیا یہ کسی بھی قانون پسند شہری کو زیب نہیں دیتا اور اس عمل کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔تقریبا پچھلے نو سال سے وہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب پر مسلسل حکمرانی کررہے ہیں،لیکن محض نوے منٹ کی مواخذے کی کاروائی کے بعد ان کا اتنا سیخ پا ہوجانا ان کے صبر اور برداشت کو بیان کررہا ہے۔کل تک یہی شہباز شریف اپنے بڑے بھائی اور پارٹی قائد نواز شریف کی جانب سے عدلیہ کے خلاف کی جانے والے تنقید اور اپنے حق میں عوامی رابطہ مہم چلانے کی کوششوں سے ناصرف اختلاف کررہے تھے بلکہ کھلے عام ان کو اس سے گریز کے مشورے بھی دے رہے تھے۔لیکن محض ایک بلاوے پر انہوں نے بھی نا صرف نیب پر الزامات کی بوچھاڑ شروع کردی بلکہ اپنے خلاف نیب کی کاروائی کو بدنیتی بھی قرار دے ڈالا۔

میاں صاحب کے جارحانہ طرز عمل کی کسی طور حمایت نہیں کی جاسکتی مگر یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ وہ شہباز شریف کی نسبت کہیں زیادہ بدترین حالات کا شکار ہوئے تھے۔انہوں نے وزیراعظم کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود جے آئی ٹی کی پیشی بھگتائی تھی،بلکہ ان کے تمام بچے بھی بارہا اس کے سامنے پیش ہوتے رہے تھے۔اس جے آئی ٹی کی تشکیل نہایت متنازعہ انداز میں ایک واٹس ایپ کال کے ذریعے کی گئی تھی مگر پھر بھی میاں صاحب اور ان کی فیملی اس کے سامنے پیش ہوتی رہی۔اسی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے موقع پر نواز شریف کے بیٹے کی تصویر لیک کرکے شریف فیملی کی تضحیک کی کوشش بھی ہوئی مگر اس کے باوجود انہوں نے اس تفتیش کا بائیکاٹ نہیں کیا۔لیکن جب میاں صاحب کو نااہل قرار دے کر وزیراعظم ہائوس سے نکال دیا گیا تو پھر اس کے بعد انہوں نے اداروں کے خلاف تنقید اور اپنے خلاف احتسابی کاروائی کو انتقام قرار دینا شروع کیا۔شہباز شریف نے خود کو مگر پھر بھی میاں صاحب کی مزاحمتی پالیسی سے الگ رکھا ہوا تھا۔

یہ درست ہے کہ میاں صاحب اپنی نااہلی کے فیصلے پر اگر خاموشی اختیار کر کے بیٹھ جاتے تو ان کی سیاست ہمیشہ کے لئے ختم ہوسکتی تھی۔کیونکہ عوام میں یہ تاثر پنپ سکتا تھا کہ واقعتا میاں صاحب قصوروار ہیں اسی لئے اب وہ خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہیں۔اس تاثر کی نفی اور خود کو سیاست میں زندہ رکھنے کی خاطر انہوں نے مزاحمت کا فیصلہ کیا۔اسی مقصد کے لئے انہوں نے جی ٹی روڈ پر ریلی بھی نکالی اور مختلف شہروں میں جلسے بھی کیے۔ان تمام مواقع پر انہوں نے عوام کے سامنے اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کے لئے عدلیہ کے خلاف خوب بیان بازی بھی کی،اور اپنے نااہلی کے فیصلے کو وہ کسی سازش کا نتیجہ قرار دیتے رہے۔کئی بار انہوں نے اپنے خلاف فیصلہ دینے والے ججز پر تعصب کا الزام بھی لگایا۔اس بحث سے قطع نظر کہ اخلاقی طور پر ان کا یہ طرز عمل درست تھا یا پھر غلط،مگر حقیقت یہ ہے کہ اس حکمت عملی کی وجہ سے ہی ن لیگ اب تک اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس سزا کے بعد ان کی جماعت کی مقبولیت پہلے سے بڑھ چکی ہے۔جس کا اندازہ چند حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات سے لگایا جاسکتا ہے۔

میاں صاحب کی جانب سے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کی کوشش پر ان کی جماعت کے بہت سے ارکان اور میاں شہباز شریف ان کے ساتھ نہیں تھے۔دونوں بھائیوں کی سوچ کا اختلاف صرف بند کمروں تک محدود نہیں تھا بلکہ شہباز شریف نے کھلے عام اس اختلاف کا اظہار بھی کیا تھا۔اس وقت ان کا یہ موقف تھا کہ اس طرح کی محاذ آرائی سیاسی طور مسلم لیگ اور شریف فیملی کے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہوگی۔خبریں یہ آتی رہیں کہ میاں صاحب نے اس مزاحمتی پالیسی سے اختلاف کی وجہ سے ہی شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے سے انکار کیا۔اس سب کے باوجود شہباز شریف اپنی سوچ پر قائم رہے اور عملا انہوں نے اپنے بڑے بھائی سے فاصلہ اختیار کیے رکھا۔کیونکہ اس وقت تک انہیں کسی قسم کا خطرہ نہیں تھا اور ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہورہی تھی لہذا انہیں میاں صاحب کی تکلیف کا اندازہ نہیں تھا۔گزشتہ روز مگر نیب کی جانب سے طلب کیے جانے کے بعد وہ بھی بھڑک اٹھے اور انہوں نے بھی پریس کانفرنس میں وہی لب ولہجہ اختیار کیا جس کی وجہ سے وہ میاں صاحب سے اختلاف رکھتے تھے۔

اپنے خلاف کاروائی کے بعد اس طرح کا ردعمل صرف شریف برادران کا طرہ امتیاز ہی نہیں ہے،بلکہ ہمارے تمام سیاست دان اسی مرض کا شکار ہیں۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی الیکشن کمیشن اور پی ٹی وی حملہ کیس سننے والی عدالت کے خلاف اسی طرح کی زبان استعمال کرچکے ہیں۔اپنے چند قریبی ساتھیوں کی کرپشن کے الزامات پر گرفتاری کے بعد زرداری صاحب کی جانب سے اینٹ سے اینٹ بجانے والا بیان کس کو بھولا ہوگا۔ایم کیو ایم اپنے خلاف تمام تر غداری کے ثبوتوں کے باوجود ہمیشہ یہ پراپیگنڈہ کرتی رہی ہے کہ اسے دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی سیاست دان جو اپنے خلاف اقدام کو انتقام اور سلیکٹڈ احتساب بتا کر ریاستی اداروں کو گالیاں دیتے ہیں مخالفین کے خلاف اسی طرح کی کسی کاروائی کی سب سے پہلے پذیرائی بھی ان کی جانب سے کی جاتی ہے۔جب مخالفین کے خلاف کاروائی ہورہی ہوتی ہے تو اس وقت یہی لوگ بغلیں بجاتے ہیں۔کل تلک اگر شہباز شریف بڑے میاں صاحب کی مزاحمتی پالیسی سے اختلاف کر رہے تھے تو اس کی وجہ صرف یہ تھی اس وقت تک احتساب نواز شریف تک محدود تھا اس لئے ان کو کسی قسم کی پریشانی نہیں تھی۔اس وقت اگر وہ اپنے بھائی کا ساتھ دیتے تو مقتدر قوتوں کے ساتھ ان کے بھی تعلقات بگڑنے کا خدشہ تھا اور اس صورت ان کے وزیراعظم بننے کی خواہش تلپٹ ہوسکتی تھی۔لیکن اب شہباز شریف کی جانب سے نیب کے خلاف سخت بیانات سے ثابت ہوگیا ہے کہ اس سے قبل بڑے بھائی کی مزاحمتی سیاست سے علیحدگی کی وجہ نظریاتی نہیں تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ اس وقت تک وہ خود اس تکلیف سے نا آشنا تھے۔جب خود انہیں وہی تکلیف محسوس ہوئی تو وہ بھی وہی کررہے ہیں جس کی وجہ سے کبھی ان کو اپنے بڑے بھائی سے اختلاف تھا۔

Comments

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں "باب الاسلام" اور صوفیوں کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔حافظ قرآن ہیں اور اچھا لکھنے کی آرزو میں اچھا پڑھنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com