میاں صاحب اور شیخ مجیب؟ توبہ کریں جی! - فیاض راجہ

مقام حیرت ہے کہ 1981 میں جنرل جیلانی کی عنایت سے وزیر بننے سے لیکر 2011 کے میموگیٹ سکینڈل میں کالا کوٹ‌ پہن کرسپریم کورٹ جانے والے میاں نوازشریف کے دلِ بے تاب میں اچانک، شیخ مجیب الرحمٰن بننے کی آرزو جاگ اٹھی ہے۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے " نظریاتی " ہونے کی کہانی " مجھے کیوں نکالا" سے شروع ہوئی تھی۔ پھر اس میں " میرے خلاف سازش ہورہی ہے" اور " باز نہ آئے تو سب بتادوں گا" کے " موڑ " آئے اور اب اپنے کلائمیکس پر یہ کہانی کچھ یوں پہنچی کہ میاں صاحب گزشتہ دنوں اسلام آباد میں میڈیا کو کہہ رہے تھے کہ ’’شیخ مجیب الرحمان محب وطن تھے لیکن انہیں باغی بنا دیا گیا، مجھے اتنے زخم نہ دو کہ میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکوں‘‘۔

اس سے پہلے کہ یہ کہانی اپنے اختتام کو پہنچے، ہم آپ کو ایک اور کہانی سناتے ہیں۔

کسی گاؤں میں ایک مولوی صاحب (گاؤں میں مولوی صاحب کو" میاں جی " بھی کہتے ہیں ) رہتے تھے ۔ ایک دن ان کے گھر میں ایک پڑوسی کی مرغی گھس آئی۔ مولوی صاحب کی بیوی نے کہا۔ " ایک عرصہ سے مرغی کا گوشت نصیب نہیں ہوا۔ اگر اس کو ذبح کرکے پکا لیا جائے تو بہت لطف آ ئے گا۔ "مولوی صاحب نے کہا۔ "دوسرے کی مرغی کا گوشت کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔ "مگر بیوی نہ مانی اور بار بار اصرار کرنے لگی، آخر مولوی صاحب بولے۔ " ٹھیک ہے، تم اس کو ذبح کرکے پکا لو مگر میں اس کا گوشت کھانےو الا نہیں۔کیونکہ میں مولوی ہوں اور ناجائز چیز کو استعمال کرنے کا مشورہ نہیں دے سکتا۔ میں اگر کوئی غلط کام کروں گا تو لوگ مجھے عزت کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔ "

بیوی نے مرغی کو ذبح کیا اور اور گوشت پکا کر تیار کر لیا۔ مولوی صاحب کے لیے الگ سے دال پکا لی گئی۔ دستر خوان پر کھانا چنا گیا۔ مولوی صاحب اور ان کی بیوی کھانے کے لیے بیٹھے۔ مولوی صاحب نے دال اور ان کی بیوی نے مرغی کے گوشت کے ساتھ روٹی کھانا شروع کی۔ درمیان میں مولوی صاحب للچائی نظروں سے مرغی کے سالن کو دیکھتے جا رہے تھے۔ بیوی نے بھانپ لیا اور مولوی صاحب سے کہا۔ "مرغی کی "بوٹیاں" آپ کے لیے ناجائز ہیں مگر "شوربا" لینے میں کوئی حرج نہیں۔ "

مولوی صاحب راضی ہوگئے تو بیوی نے ہانڈی میں سے مولوی صاحب کے لیے "شوربا" نکالنا شروع کیا۔ وہ بڑی احتیاط سے "شوربا" نکال رہی تھی مگر ایک "بوٹی" بھی کسی طرح نظر بچا کر چمچے کے کونے پر آن پہنچی، قریب تھا کہ پیالے میں گرتی۔ بیوی نے چاہا کہ چمچے سے "بوٹی" نکال کر دوبارہ ہانڈی میں ڈال دے مگر مولوی صاحب فورا بول اٹھے۔ " نہ نہ روکو مت! آپ سے آتی ہے تو آنے دو۔ "

یہ بھی پڑھیں:   حکومتی ترجمان فردوس اعوان، سلام - حبیب الرحمن

مملکتِ خدادا پاکستان میں تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہونے کا اعزاز رکھنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف ہمیشہ ہی سے قسمت کے دھنی رہے ہیں۔ سابق صدر جنرل ضیالحق نے 1981 میں آمریت کی مرغی پکائی تو میاں نواز شریف صرف "ذاتی تعلقات" کے "شوربے" پر بھی راضی تھے مگر سابق گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی کے "دست شفقت" سے انہیں وزارت خزانہ کی صورت گویا مرغی کے گوشت کی " بوٹی " بھی مل گئی۔

1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد مخدوم ذادہ حسن محمود پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار تھے اور انہیں اپنے برادر نسبتی پیر صاحب پگاڑا کی حمایت بھی حاصل تھی مگر ایک بار پھر میاں صاحب جو بظاہر وزارت کے "شوربے" پر اکتفا کر رہے تھے، مرغی کا سالن تیا ر ہونے پر ،وزارت اعلیٰ کی " بوٹی " کے بھی حقدار ٹہرے۔

1990 کے عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد نے کامیابی " حاصل " کی تو بظاہر ان کی منزل وزارت اعلیٰ کا " شوربا" ہی تھا کیونکہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان، غلام مصطفیٰ جتوئی کو وزیراعظم بنوانا چاہتے تھے اور مسلم لیگی ارکان کی اکثریت محمد خان جونیجو کو دوبارہ اس منصب پر فائز دیکھنا چاہتی تھی۔ مگر ایک بار پھر جب " مقتدر حلقوں " نے مرغی پکائی تو میاں نواز شریف کے حصے میں "شوربا" نہیں بلکہ ملک کی وزارت عظمیٰ کی " بوٹی " تمام رکاوٹیں عبور کرکے پہنچ گئی۔

مارچ 1993 میں ملک کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ کے سربراہ محمد خان جونیجو امریکا میں انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے خود کو مسلم لیگ کا صدر " منتخب " کروالیا۔یوں جمہوریت کی مرغی کے "شوربے" کے ساتھ ساتھ، ان کی پلیٹ میں کئی " بوٹیاں " بھی آگئیں۔ تاہم ان کے اس اقدام نے مسلم لیگ کے بہت سے رہنماؤں اور بزرگوں کو ان سے دور کردیا۔

فروری 1997 میں ہونےو الے عام انتخابات کے نتائج بڑے حیران کن تھے۔ سابق حکمران جماعت پیپلز پارٹی کو قومی اسمبلی کی صرف 18 نشستیں مل سکیں اور پاکستان مسلم لیگ نواز جسے صرف انتخابات جیتنے کا " شوربا " ملنے کی امید تھی، وہ قومی اسمبلی کی 134 نشستیں حاصل کر کے، ملکی تاریخ میں پہلی بار، دو تہائی اکثریت کی " بوٹیاں " بھی لے اڑی۔

12 اکتوبر 1999 میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے ملک سے جمہوریت کی بساط لپیٹ دی۔ اپریل 2000 میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو مبینہ طیارہ سازش کیس میں دو مرتبہ عمر قید بامشقت، 5 لاکھ روپے جرمانہ اور ان کی تمام جائیداد بحق سرکار ضبط کرنے کی سزا سنائی۔ جولائی 2000 میں احتساب عدالت نے معزول وزیراعظم نواز شریف کو ہیلی کاپٹر ریفرنس میں 14سال قید بامشقت، 21 برس کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہلی اور 2 کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ مذاق ہے کیا - مسزجمشیدخاکوانی

دسمبر 2000 میں،جب اے آر ڈی کی صورت ملک کی اکثر سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کے بچے کھچے " شوربے" کو بچانے کی فکر تھی میاں نواز شریف کے ہاتھ ان دنوں بھی " بوٹی " آگئی اور ایک دن اچانک 10 دسمبر 2000 کی رات پتہ چلا کہ میاں نواز شریف کی نہ صرف سزا معاف ہوگئی ہے بلکہ انہیں قید سے رہا کرکے سعودی عرب جلا وطن کردیا گیا ہے۔

2103 کے عام انتخابات سے پہلے، دو مرتبہ سے زائد وزیراعظم بننے پر پابندی کا قانون ختم ہوچکا تھا۔ میاں نواز شریف کی مسلم لیگ نواز کو، تیزی سے ابھرتی، عمران خان کی تحریک انصاف سے خطرہ تھا مگر وہ جانتے تھے کہ انتخابی نتائج کی مرغی کا " شوربا " ان کے ہاتھ ہی آئے گا لیکن جب نتائج آئے تو ان کی پلیٹ میں دو تہائی اکثریت کی " بوٹیاں " بھی موجود تھیں۔ 2014 میں عمران خان کے لانگ مارچ اور 2015 میں " منظم دھاندلی " کی کھوج لگانےو الے جوڈیشل کمیشن کے زمانے میں بھی جمہوریت " بچانے " کی کوشش میں میاں صاحب کی پلیٹ “شوربے” کے ساتھ ساتھ“بوٹیوں” سے بھی بھری رہی۔

2016 میں پانامہ کے ہنگامہ نے میاں صاحب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گزشتہ برس جولائی 2017 میں سپریم کورٹ سے پانامہ کیس میں میاں صاحب کی ناہلی کے فیصلے کے بعد، احتساب عدالتوں میں میاں صاحب کی آف شور کمپنیوں کا " شور " مچا ہو اہے۔

یہ آف شور کمپنیاں بھی بظاہر، مولوی صاحب کے ، پڑوسی کی مرغی جیسی ہیں جس کا صرف شوربہ ہی میاں صاحب پر حلال رہاہے، بوٹیاں صرف "بچوں" کے لیے تھیں۔ تاہم اگر کوئی ایک آدھ بوٹی شوربے میں سے اچھل کر خود سے ان کے پیالے کو رونق بخشتی رہی تواس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ گزشتہ 37 برسوں سے ان کا ایک ہی فارمولا ہے کہ " آپ سے آتی ہے تو آنے دو۔"

واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ ماضی میں میاں صاحب یہی ظاہر کرتے رہے کہ وہ تو شوربے پر راضی ہیں، بوٹیاں ان کی طرف خود بخود چلی آتی ہیں مگر اب کی بار، پانامہ کے شوربے سے نکلی آفشور بوٹیاں میاں صاحب کے لیے وبال جان بن گئی ہیں۔

ویسے میاں صاحب، سپریم کورٹ سے ناہلی کے بعد، جب سے " نظریاتی " ہو ئے ہیں انہیں لگنے لگا ہے کہ ملک کا بیڑہ غرق ہوگیا ہے۔ جی نہیں، میاں صاحب! ملکوں کے بیڑے اسی وقت غرق ہوجاتے ہیں جب حکمران پہلی بار یہ کہہ دیں کہ " آپ سے آتی ہے تو آنے دو۔" اور جب یہ معمول بن جائے تو حرام مرغی کے "حلال شوربے" میں بوٹیاں ڈال کر دینے والے بھی کہہ اٹھتے ہیں کہ " آپ سے جاتاہے تو جانے دو!"

Comments

فیاض راجہ

فیاض راجہ

محمد فیاض راجہ ڈان نیوز کے نمائندہ خصوصی ہیں۔ 16 برس سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نوائےوقت، جیو نیوز، سما ٹی وی اور 92 نیوز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.