اللہ کے بندو کہاں‌ بہکے پھرتے ہو - بشارت حمید

ہم باتھ روم میں گئے ہاتھ دھونے کے لیے ٹونٹی کھولی تو پانی نہیں آیا۔باہر کسی کو آواز دی کہ ٹینک میں پانی ختم ہوگیا ہے، پمپ چلادیں۔جیسے ہی پمپ آن ہوا فوراً پانی آنے لگا۔ ہم نے کمرے میں لگے بجلی کے سوئچ کو دبایا تو بلب روشن ہوگیا،دوسرا بٹن دبایا تو پنکھا چلنے لگا۔چند منٹ بعد اچانک دونوں چیزیں بند ہو گئیں پتہ چلا کہ لائٹ بند ہوگئی ہے۔کچھ دیر گزری تو لائٹ آگئی اور کمرہ پھر سے روشن ہو گیا اور پنکھا ہوا دینے لگا۔

یہ دونوں صورتیں ہم روزمرہ کی روٹین میں دیکھتے ہیں لیکن کبھی ہم نے سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی یہ ٹونٹی کھولنے سے جو پانی آتا ہے وہ کہاں سے آتا ہے؟ کس طرح یہ مجھ تک پہنچتا ہے؟ہمارے گھر میں پانی کو لانے کے لیے زمین میں گہرائی تک بور کرنا پڑا۔پھر اس میں فلٹر اور پائپ لائن ڈالنی پڑی۔پھر اس لائن پر پمپ لگانا پڑا پھر اس پمپ کو چلانے کے لیے بجلی کا کنکشن لگایا۔پھر پمپ نے جو پانی زمین سے کھینچا اسے سٹور کرنے کے لیے اونچائی پر ٹینک رکھنا پڑا پھر اس ٹینک سے پورے گھر میں جہاں جہاں ضرورت تھی پانی کی لائن بچھانی پڑی۔یہ سارا پراسیس مکمل ہوا تو پانی ہمارے ہاتھوں تک پہنچا۔

اسی طرح ہم جو انرجی بجلی،تیل اور دیگر صورتوں میں استعمال کرتے ہیں وہ پاور ہاؤس سے لے کر ہمارے گھر کے بلب اور پنکھے کو چلانے کے لیے کتنا سفر کرتی ہے اور کس طرح ہمارے بیڈروم تک پہنچتی ہے؟ پھر پاور ہاؤس یہ توانائی پیدا کرنے کے لیے جو پانی اور تیل استعمال کرتے ہیں وہ کہاں سے آتا ہے؟ کبھی ہم نے سوچا کہ یہ پانی نیچے کہاں سے آیا؟اس کو پیدا کرنے والا،اسے سطح زمین کے نیچے سٹور کرنے والا اور پہاڑوں پر برف کی صورت میں ہمارے استعمال کے لیے سٹاک کرنے والا کون ہے؟دوسرے زاویے سے دیکھیں تو ہم پانی کی سطح کے چند سو فٹ اوپر زمین کے خشک ٹکڑے پر بڑی بڑی بلڈنگیں بنا کر رہتے ہیں۔کبھی سوچا کہ اگر یہ پانی اوپر آجائے یا ہماری بلڈنگیں زمین میں دھنس جائیں تو ہمارا کیا بنے گا؟یا پھر اگر یہ پانی زمین کے اندر ہی جذب ہو جائے اور ہمارے پمپ اسے کھینچ ہی نہ سکیں تو ہم کدھر جائیں گے؟

"سورہ ملک" میں ارشاد ہے کہ "وہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے نرم کیا تو اس کے راستوں میں چلو پھرو اور اس اللہ کے دیے ہوئے رزق سے کھاؤ اور تمہیں اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے،بے خوف ہو کہ تم کو زمین میں‌دھنسا دے اور وہ زمین اس وقت حرکت کرنے لگے۔کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بے خوف ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے سو عنقریب تم جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے"۔ ایک دوسرے مقام پر فرمایا:"اگر تمہارا پانی جو تم پیتے اور استعمال کرتے ہو خشک ہو جائے تو اللہ کے سوا کون ہے جو تمہارے لیے میٹھے پانی کا چشمہ بہا لائے"۔

کیا ہم روزمرہ کی فضول مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر اللہ کی نشانیوں پر کچھ غور فرمانا پسند کریں‌ گے یا پھر جانوروں کی سی طرح بے عملی کی زندگی گزار کر اپنے خالق کی پہچان کیے بنا قبر میں‌ جا سوئیں گے؟

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.