جنسی تشدد اور جنسی تعلیم - عابد رحمت

جب سے سانحہ قصور رونما ہوا ہے تب سے ایک گروہ مسلسل اور بڑی شدومد سے حکومت وقت سے یہ مطالبہ کررہا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم عام کی جائے۔ یہ گروہ زینب سے پیش آنے والے واقعے کا سبب جنسی تعلیم کے نہ ہونے کو قرار دیتا ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس واقعے کا تعلق جنسی تعلیم سے کیسے جڑتا ہے؟

فرض کریں اگر زینب جنسی تعلیم سے آشنا ہوتی تو کیا پھر اس کے ساتھ یہ دردناک واقعہ پیش نہ آتا؟ آخر جنسی تعلیم کا مقصد کیا ہے اور کیوں اسے جنسی تشدد سے جوڑا جاتا ہے؟ بادی النظر جنسی تعلیم کا مفہوم یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس میں بالغ ہوتے بچوں کو جنس کے حوالے سے معلومات فراہم کی جاتی ہیں، بلوغت کے بعد بچوں کو پیش آنے والی جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس معاملے میں پیش آنے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے دینی و سائنسی معلومات فراہم کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس کی تائید کے لیے کہا جاتا ہے کہ قرآن وحدیث میں بھی جنسی تعلیم کا ثبوت ملتا ہے، مرد و خواتین اس حوالے سے آپﷺ سے مسائل دریافت کیا کرتے تھے۔ اگر قرآن و سنت اس حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کرتے ہیں تو پھر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تعلیمی اداروں میں قرآن وحدیث کی تعلیم کو لازم قرار دیا جاتا مگر یہاں تو سرے سے ہی قرآن و حدیث کو نصاب سے خارج کیا جا رہا ہے۔

آخر اس جنسی تعلیم کی حقیقت کیا ہے؟ اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو یہ ایک ایسی تحریک ہے جو 2009ء سے بڑی تیزی سے پاکستان میں چلائی جارہی ہے۔ آج سے کچھ عرصہ قبل گوجرانوالہ کے سرکاری سکولوں میں "برگد" نامی ایک این جی او نے جنسی تعلیم شروع کی، جب اس تعلیم کاجائزہ لیا گیا تو ’’ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور‘‘ نکلے۔ اس تعلیم کے ذریعے بچوں کو دوسروں سے دوستی کرنے اور جنسی تعلقات قائم کرنے کے طریقے سکھائے جارہے تھے۔ ہائیکورٹ نے فوراً ایکشن لیتے ہوئے اس تعلیم پر پابندی عائد کردی۔ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے توسط سے جو جنسی تعلیم کی کوشش جاری ہے اس کا مقصد لوگوں کے دل و دماغ میں اس بات کو راسخ کرنا ہے کہ لوگوں سے جنسی تعلقات کس طرح رکھنے ہیں؟ باہمی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کرنا ہر فرد کا بنیادی حق ہے، یہاں تک کہ ہم جنس پرستی کی بھی اجازت ہے، جنسی تعلقات قائم کرتے ہوئے کن کن امور کی احتیاط ضروری ہے؟ خلاصہ کلام یہ ہے کہ معاشرے کو زنا بالرضا کا عادی بنایا جائے۔ یہ سب کچھ اسی جنسی تعلیم کے نصاب کا حصہ ہے۔

پاکستان کو فری سیکس سوسائٹی بنانے کے لیے مغربی معاشرے کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ وہاں جنسی تشددکے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں، اس لیے کہ وہاں جنسی تعلیم دی جاتی ہے۔ حالانکہ اگر ناقدانہ جائزہ لیا جائے تو مغربی معاشرے میں سب سے زیادہ جنسی استحصال ہوتا ہے۔ برائے سال 2002ء اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں خواتین سے آبروریزی کے واقعات کے اعداد و شماردیے گئے۔ اس رپورٹ کے مطابق صرف امریکا میں ہی 89110 جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ کیے گئے۔ مزید تفصیلات کے لیے یورپین سروے آف کرائم اینڈ سیفٹی کی ویب سائٹس کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے، اسی طرح یونائیٹڈ نیشنز آفس آن ڈرگس اینڈ کرائم کے انٹرنیٹ سے بھی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ مغربی معاشرے میں بھی جنسی تشدد ہوتا ہے البتہ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں لڑکیوں کو قتل کرکے کوڑے کے ڈھیر میں نہیں پھینکا جاتا۔ وہاں مرد و خواتین باہمی رضامندی سے زنا کرتے ہیں، یہ سب سرعام اور برملا جاری ہے اس لیے کہ وہاں جنسی تعلیم دی جاتی ہے۔ وہاں جنسی تسکین کے لیے صرف بالغ اور باہم رضامند ہونا شرط ہے۔ چند سال قبل مغرب میں ایک کم عمر لڑکی کے بطن سے پیداہونے والے بچے کی خاطر دو کم عمر لڑکوں میں جھگڑا شروع ہوگیا۔ ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ یہ بچہ اس کا ہے۔ یہ سب ہنوزجاری ہے مگر مغربی معاشرہ اپنی غلطیوں کو سدھارنے کی بجائے مشرقی خاندانوں کو توڑنا چاہتا ہے۔ جنسی تعلیم کے خواہاں اس رپورٹ کو بھی دلیل بناتے ہیں کہ پاکستان میں 2015ء میں 100,000لوگ ایچ آئی وی کے مرض میں مبتلاہوئے، جو لوگ جنسی تعلیم عام کرناچاہتے ہیں ان کانظریہ یہ ہے کہ دوسروں سے جنسی تعلق تو ضرور قائم کیاجائے مگر ایسے امراض سے بچنے کے طریقے جنسی تعلیم سے سیکھے جائیں۔

جہاں تک پاکستان میں جنسی تشدد کے واقعات کا تعلق ہے تو مجھے یہ اندیشہ لاحق ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ ان واقعات کے پس پردہ وہی لوگ ہوں جو اس ملک میں جنسی تعلیم عام کرکے مسلمانوں میں بے حیائی کوفروغ دینا چاہتے ہیں؟ اس لیے کہ جب کوئی سرمایہ دار اپنا سودا مارکیٹ میں لانا چاہتا ہے تو وہ مارکیٹ میں پہلے سے موجود چیز کی قلت پیدا کرتا ہے، ذخیرہ اندوزی کرتا ہے، مصنوعی مہنگائی پیدا کرتا ہے اورجب اس چیزکی مانگ بڑھ جاتی ہے تو پھر وہ اپنی چیز مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کرتا ہے۔

یہ معاملہ بھی کچھ ایساہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اگر جنسی تعلیم کا مطالبہ کرنے والوں کو بچوں کی اتنی ہی فکر ہے تو انہیں قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے ہنگامہ بپا کرنا چاہیے تھا، ملک میں اسلامی سزاؤں کو نافذ کرنے پر حکومت سے مطالبہ کرناچاہیے تھا، مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ اسلامی سزاؤں کو انسانیت کے خلاف قرار دینے والا طبقہ بھی یہی ہے۔ میرے اس شک کو اس رپورٹ سے بھی تقویت ملتی ہے کہ 2017ء کے ابتدائی 6 ماہ میں جنسی تشدد کے 764 واقعات رپورٹ ہوئے۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں ہی ان واقعات کی تعداد میں روز افزوں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پھر مجرم کے منہ سے اس کے گروہ کے بارے میں کچھ اگلوانے کی بجائے اسے پولیس مقابلے میں پار کردیا جاتا ہے۔ اسی لیے چیف جسٹس کو بھی یہ کہنا پڑا کہ زینب کامجرم زندہ چاہیے، وہ پولیس مقابلے میں نہ مارا جائے۔ حکومت کو اس نکتے پر بھی غور و تحقیق کرنا چاہیے، ممکن ہے گھر کاب ھیدی ہی لنکا ڈھا رہا ہو۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */