المناک حادثات سے وابستہ ہمارے مفادات - عبدالصمد المدنی

جب بھی وطن عزیز میں کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے، ہمارے "نظریات، افکار اور سوچ" کا اختلاف کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نا ہوگا کہ کچھ لوگ اس سانحے سے بھی اپنے مفادات کے حصول کی کوشش شروع کردیتے ہیں۔ بطور مثال، "سانحہ قصور"کو ہی لے لیں جس کے درد والم کو پوری قوم نے شدت سے محسوس کیا۔ ایسے وقت میں بھی کچھ گروہوں نے اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر، جذباتی ماحول سے فائدہ اٹھانے کی ٹھان لی۔ ان میں سے چند طبقات کا میں یہاں ذکر کرتا ہوں۔

پہلا طبقہ ہمارا "میڈیا" ہے، جس کو ایک خبر مل گئی۔ ہر چینل اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں لگا رہا اور بھول گیا کہ معاشرے کو بے راہ روی کا شکار کرنے کا ایک سبب وہ خود بھی ہے۔ جب شرم وحیا سے عاری پروگرام، ان چینلز سے ہر وقت نشر ہو رہے ہوں، ناچ گانے کے شوز دن رات چل رہے ہوں، معصوم بچیوں کو ان میں نچایا جارہا ہو تو ایسے ہی سانحات رونما ہوں گے۔

دوسرا طبقہ ہمارے "سیاستدانوں" کا ہے، جو عوامی نمائندگی کے دعوے دار ہے۔ ان کو یہ چاہیے تھا کہ سب متفق ومتحد ہوکر مظلوم کو انصاف دلانے اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش کرتے لیکن یہاں پر بھی سیاسی مفادات آڑے آجاتے ہیں۔ حکومت کے خلاف اپوزیشن کو ایک بہانہ مل جاتا ہے، چوں کہ معصوم زینب پر قیامت "قصور" میں بیتی ہے، لہٰذا "پنجاب حکومت" ذمہ دار ہے۔ فلاں وزیر کو چاہیے کہ وہ استعفی دے دے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ ایسا سانحہ کہیں بھی اور کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔ جس سے ملک کا کوئی بھی علاقہ محفوظ نہیں ہے۔ جس کی واضح دلیل، اس جیسے چند اور واقعات ہیں جو کہ "سانحہ قصور" کے بعد رونما ہوئے ہیں۔

تیسرا طبقہ ان "لبرلز" کا ہے جو اپنا چورن بیچنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں۔ جن کو اس ملک کا اسلامی تشخص اور مشرقی روایات ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ جن کا رول ماڈل "مغرب اور اس کی حیا باختہ تہذیب" ہے۔ جو اس ملک سے سزائے موت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ جب بھی اسلامی حدود اور تعزیرات کی بات ہوتی ہے تو یہی لوگ اسے وحشیانہ اور جنگل کا قانون کہتے ہیں۔ جن کو مظلوم کے حقوق سے زیادہ ظالموں کی فکر دامن گير ہوتی ہے۔ ان کےنزدیک اس جیسے واقعات کی روک تھام کا ایک ہی طریقہ ہے کہ "سیکس ایجوکیشن" کو نصاب کا حصہ بنادیا جائے۔

سوال یہ ہے کہ کیا مغربی ممالک جہاں یہ تعلیم، نصاب کا حصہ ہے، وہاں ایسے حادثات نہیں ہوتے؟بلکہ اعداد وشمار کے مطابق وہاں ایسے واقعات کی تعداد یہاں سے کہیں زیادہ ہے۔

ایک کہنے والے نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ زینب کے والدین کو "عمرے" کے لیے نہیں جانا چاہیے تھا۔ بلکہ ان پر فرض تھا کہ وہ گھر میں رہ کر اپنی بچی کی حفاظت کرتے۔ کوئی اس سے پوچھے کہ وہ لوگ جو "حج وعمرے" کے لیے نہیں جاتے کیا وہ گھروں سے نہیں نکلتے؟معاش کے لیے اور دیگر حوائج و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کہیں سفر نہیں کرتے؟جو والدین گھر میں موجود ہوتے ہیں کیا ان کے بچوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات نہیں پیش آتے؟

باقی رہا "دیندار طبقہ"، تو وہ بیچارہ اکثر و بیشتر دفاعی پوزیشن میں ہوتا ہے۔ اور یہ طبقہ دوسرے طبقات کے نزدیک پرانے خیالات کا حامل ہے، جس کی پہنچ صرف مسجد تک محدود ہے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ان کی "قدامت پرست" سوچ ہی اس طرح کے واقعات کا بڑا سبب ہے۔ اب یہ اسلام پسند طبقہ تنہا اپنا دفاع کرے، میڈیا کو اس کی غلط روش پر ٹوکے، سیاستدانوں کو ان کی حقیقی ذمہ داری یاد دلائے یا لبرل اور سیکولر طبقے کی چالاکی اور ان کے دوہرے پن کا پردہ چاک کرے۔ اسی وجہ سے یہ طبقہ اپنے دفاع سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔

جب حالت یہ ہوجائے کہ اس طرح کے حادثات اور سانحات بھی ہمیں اپنے "مفادات" کو بھولنے نا دیں، بلکہ ہم ایسے سانحات کے انتظار میں ہوں تاکہ ان کو اپنے مفادات کے حصول کا ذریعہ بنائیں، تو پھر ہم کبھی یکجا نہیں ہو پائیں گے اور اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ اس صورتحال میں صرف دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے اور ہمیں اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */