انسان کی بے وقوفی - عزیر امین

انسان کی چند بے وقوفیوں میں سے ایک دوسرے انسان سے توقع رکھنا ہے۔کبھی انسان دوسروں سے کسی اچھے الفاظ کی توقع کرتا ہے اور کبھی کسی مدد کی،اور دوسرے انسان سے توقع لگا کر وہ اپنی زندگی کی قیمتی گھڑیاں ضائع کر دیتا ہے۔کبھی کسی پر تکیہ کرکے سوچتا ہے کہ

"مجھے امید ہے وہ میری ہاں میں ہاں ملائے گا"،

" مجھے یقین ہے کہ فلاں میرا ساتھ دے گا "،

"مجھے اُس کے کہنے پر بھروسہ ہے " یا

"مجھے بھروسہ ہے اس پر ،وہ مجھے اکیلا نہیں چھوڑے گا "

اگر آپ کی امید ،یقین اور اعتماد پر مطلوبہ شخص پورا اتر گیا تو آپ کی اُس سے توقعات مزید بڑھ جائیں گی۔مگر پھر مستقبل میں ہلکی سی بے اعتمادی بھی آپ کو بہت ٹھیس پہنچائے گی۔کیونکہ آپ کی توقعات اس شخص سے اتنی ہوچکی ہوں گی کہ آپ کو اس کی جانب سے کسی انکار کی امید بالکل نہیں ہوگی۔

لیکن اگر کوئی آپ کو پہلی بار میں ہی انکار کردے تو آپ کہیں گے کہ میرا دنیا سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔لیکن یہ کہنے سے پہلے کوئی یہ نہیں سوچے گا کہ آخر میں نے کسی سے کوئی توقع ہی کیوں لگائی؟

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک آپ اپنے جیسے انسان سے توقع سے لگا کر بیٹھے رہیں گے تو آپ کبھی خوش نہیں رہ پائیں گے۔اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو اعتماد اس ذات پر کریں،امید بھی اس ذات سے لگائیں جو آپ کی اور آپ جیسے دیگر تمام انسانوں کی ضروریات پوری کرتی ہے۔اور اگر آپ صدق دل سے اس ہستی سے توقع لگائیں گے تو وہ آپ کو کبھی مایوس نہیں کرے گی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */