مکافات عمل – خرم علی راؤ

کچھ "قوانین قدرت" ایسے بھی ہیں جن کا اطلاق ہر "قوم اور مذہب" پر یکساں ہوتا ہے۔ ان ہی میں سے ایک "قانون مکافات"ِ عمل بھی ہے۔ یہ ایسا قانون ہے جس کی لاکھوں کروڑوں مثالیں کتابوں، روایتوں، حکایتوں اور کہاوتوں میں ملتی ہیں۔ ہر انسان اپنی زندگی میں کم و بیش اس قانون کا نہ صرف خود سامنا کرتا ہے بلکہ اس سلسلے متعدد مثالیں اس کے سامنے آتی رہتی ہیں۔ "مکافاتِ عمل" کے سلسلے کو دیکھ کر لوگ مختلف رویوں کا اظہار کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے دیکھ کر عبرت حاصل کرتے ہیں، اور یہی لوگ فائدے میں رہتے ہیں۔ جبکہ کچھ مزید ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اس عمل کو اتفاق قرار دے کر ٹال دیتے ہیں۔ اور کچھ لوگ وقتی طور پر متاثر تو ہوتے ہیں مگر پھر مصروفیات زندگی میں الجھ کر اسے فراموش کر دیتے ہیں۔

"ایک مشہور محاورہ ہے کہ جو اوروں کے لیے گڑھا کھودتا ہے خود اس میں گرتا ہے"۔ اس کی مثال تاریخ میں بھی ملتی ہے۔ ایک مرتبہ "عمر وبن ہشام"، جسے ہم سب "ابو جہل" کے نام سے جانتے ہیں نے اپنے خبث باطن اور "نبی پاکﷺ" سے نفرت کی وجہ سے انہیں نقصان پہنچانے کے لئے ایک منصوبہ بنایا۔ اور پھر اس بدبخت نے اپنے دروازے کے سامنے ایک "گڑھا" کھودا اور اس میں کیچڑ اور گارا بھر دیا اور اوپر سے اسے سوکھے پتوں وغیرہ سے ڈھانپ دیا، اور کسی کو بھیجا کہ وہ "حضورﷺ" کو بلا لائے۔

روایات میں آتا ہے کہ "نبی کریمﷺ" سو سے زائد بار "ابو جہل" کے پاس دعوت دین لے کر گئے کہ شاید وہ ایمان لے آئے۔ سو جب انہیں اس بدبخت کا بلاوا ملا تو اس خیال سے کہ شاید "ابو جہل" کا دل بدل گیا ہو اور وہ ایمان لے آئے "سرکار دوعالمﷺ" اس کے گھر کی جانب روانہ ہوئے۔ "ابو جہل" اپنے دروازے پر اس انتظار میں کھڑا تھا کہ نعوذ باللہ جب "آپﷺ" تشریف لائیں گے تو دروازے کے سامنے بنے گڑھے میں گر جائیں گے اور اس نے کئی لوگوں کو آس پاس اس مقصد سے چھپا بھی رکھا تھا کہ جب یہ واقعہ ہو تو سب تالیاں پیٹیں اور مذاق اڑائیں۔

جب "سرکار دوعالمﷺ" اس کے گھر کے نزدیک پہنچے تو "ابوجہل" اپنی خواہش پوری ہوتی دیکھ کر جوش میں آگیا۔ مگر "حضور پاکﷺ" کو اللہ نے بذریعہ وحی اس منصوبے سے آگاہ کر دیا۔ چنانچہ "حضورﷺ" واپس پلٹ گئے، "ابو جہل" یہ دیکھ کر بہت مایوس ہوا اور آپ کو آوازیں دینے لگا مگر "سرکارﷺ" نہ رکے، وہ یہ دیکھ کر ان کے پیچھے لپکا کہ آپ کو زبردستی لے کر آئے اور جوش میں اپنے ہی کھودے ہوئے گڑھے کو بھول گیا۔ ابھی وہ دو قدم ہی بڑھا تھا کہ خدا کی قدرت کی بدولت اپنے ہاتھوں کھودے گڑھے میں خود ہی گر گیا اور جن لوگوں کو تماشہ دکھانے کے لیے بلایا تھا ان کے سامنے خود تماشہ بن کر رہ گیا۔

"مکافاتِ عمل" کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ نیکی، صلہٗ رحمی، اور خدمتِ انسانیت کا انعام آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی ملتا ہے۔ اس ذیل میں ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔ ایک مرتبہ "حضرت امام حسنؓ، حضرت امام حسینؓ اور حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ"مدینہ سے مکہ کی طرف تشریف لے جارہے تھے۔ دوران سفر صحرا کے وسط میں ان حضرات کے پاس"زاد راہ" ختم ہوگیا اور ابھی بہت مسافت باقی تھی۔ تینوں حضرات کو صحرا میں ایک چھوٹی سی جھونپڑی نظر آئی۔

وہ اس جھونپڑی میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ ایک بڑھیا، ایک کونے میں بندھی مریل سی بکری اور معمولی سا سامان جھونپڑے میں موجود تھا۔ تینوں حضرات نے بڑھیا کو سلام کرکے کچھ کھانے کو طلب کیا، بڑھیا نے پانی پیش کیا اور کہا کہ کھانے کو تو کچھ نہیں ہے، بس میں اور میرا شوہر یہاں رہتے ہیں اور وہ کسی کام سے گیا ہوا ہے جب آئے گا تو شاید کچھ کھانے کو لے آئے۔ اس وقت صرف یہ بکری موجود ہے اگر چاہو تو اسے پکا کر کھالو۔ ان تینوں حضرات نے بکری ذبح کی اور سیر ہو کر کھایا، اور جاتے ہوئے کہنے لگے اماں، ہم "مدینے" کے رہنے والے ہیں، کبھی "مدینے" آنا ہو تو ہم سے مل لینا ہم تمہارے اس "احسان" کا بدلہ ضرور دیں گے۔

یہ کہہ کر وہ تو اپنے راستے چلے گئے۔ کچھ دیر بعد بڑھیا کا شوہر آیا تو بکری کو غائب پاکر استفسار کیا۔ بڑھیا نے جواب دیا کہ "مدینے" کے تین معزز "ہاشمی" مسافر آئے تھے۔ ان کی مہمان نوازی کردی۔ جاتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ کبھی مدینے آؤ تو ہم سے مل لینا۔ بوڑھے "بدو" کو بہت غصہ آیا۔ اور وہ اپنی بیوی پر خوب گرجا برسا کہ جانے کن لوگوں کو تم نے بکری کھلادی۔

کچھ وقت گزرا تو اس جوڑے نے "خشک سالی" کے سبب صحرا چھوڑ کر "مدینے" جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں پہنچ کر مزدوری کرکے اپنا گزارا کرنے لگے۔ ایک دن بڑھیا اور اس کا شوہر بازار سے گزر رہے تھے کہ حضرت "امام حسنؓ" نے انہیں دیکھ لیا اور پاس بلواکر پوچھا کہ اماں تم نے مجھے پہنچانا؟جب وہ پہچاننے میں ناکام ہوگئی تو "امام حسن"ؓ نے مسکرا کر فرمایا اماں میں ان ہی تین مسافروں میں سے ایک ہوں جن کی تم نے مہمان نوازی کی تھی۔

یہ کہ کر "امام حسنؓ" نے "2000 دینار اور 2000 بکریاں" انہیں ہدیہ کیں اور اپنے غلام کے ساتھ ان کو "امام حسین"ؓ کے پاس بھیج دیا۔ "امام حسین"ؓ نے بھی بڑھیا اور اس کے شوہر کا اکرام کیا اور اپنی جانب سے بھی ان دونوں کو اتنا ہی ہدیہ کیا جتنا ان کے بڑے بھائی نے کیا تھا اور انہوں نے بھی اسی طرح اس جوڑے کو اپنے غلام کے ساتھ "حضرت عبداللہ بن جعفرؓ" کے پاس بھیج دیا۔ انہوں نے پہلے تو تحقیق فرمائی کہ دونوں حضرات نے کتنا ہدیہ کیا ہے اور پھر اپنی جانب سے "4000 ہزار دینار" اور اتنی ہی بکریاں انہیں ہدیہ کیں، اور غلام ان کے ہمراہ کردیے کہ انہیں گھر تک چھوڑ آئیں۔ بڑھیا نے اپنے شوہر سے کہا کہ دیکھ اس مریل سی بکری کے عوض ہمیں اللہ نے اتنا دلوادیا ہے کہ ساری عمر بھی بیٹھ کر کھائیں تو ختم نہ ہو۔ (حیات الصحابہ، فضائل صدقات)

دیگر غیر مسلم اقوام نے بھی اس بات کو سمجھ لیا ہے کہ فلاحی کاموں کا صلہ ضرور ملتا ہے اور وہ آج فلاحی کاموں میں بڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اور شاید یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔ لیکن آج کے مسلمان اس چیز کو بھلا بیٹھے ہیں اور اسی وجہ سے مسلمان اس وقت ہر جگہ مصائب اور پریشانیوں کا شکار نظر آتے ہیں۔

"امام ابن تیمیہ" نے لکھا ہے کہ جب تو کافروں اور غیر مسلموں کو ترقی کرتا دیکھے تو جان لے کہ انہوں نے ضرور مسلمانوں کے طریقے اختیار کر لیے ہیں۔ اور جب تو مسلمانوں کو زوال وپستی میں دیکھے تو جان لے کہ انہوں نے ضرور غیر مسلموں کی بری خصلتوں کو اپنالیا ہے۔ غور کیا جائے تو ان کی بات سچ نظر آرہی ہے۔

لہٰذا بہت احتیاط کی ضرورت ہے کہ ہمارے کسی فعل، قول اور عمل سے کسی کو نقصان نہ ہو۔ اگر ہم ایسا کریں گے، اور بدنیتی سے کسی کو نقصان پہنچائیں گے تو ہوسکتا ہے کہ ہم وقتی طور پر اپنا مقصد حاصل کرلیں۔ مگر بالآخر ہم "مکافات عمل" کی زد ضرور آئیں گے۔

سو کوشش کیجیے کہ اگر آپ کسی کو فائدہ نہیں دے سکتے تو کم از کم آپ کی ذات سے کسی کو نقصان بھی نا پہنچے اور مسلمان کی شان کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ اس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔