عمران خان اور پارلیمان - آصف محمود

اس میں کیا شک ہے کہ عمران خان نے پارلیمان کے بارے میں جو زبان استعمال کی وہ نامناسب تھی اور اس کی تحسین نہیں کی جا سکتی لیکن پارلیمان نے اس پر جو رد عمل دیا کیا اس کی تحسین کی جا سکتی ہے؟ دستور پاکستانی کی دفعہ 62 اور 63 پر مبینہ طور پورا اترنے والے قوم کے نمائندوں کی حساسیت، اتنا غصہ اور اتنی برہمی دیکھی تو غالب یاد آ گئے:

پھر کھُلا ہے درِ عدالتِ ناز

گرم بازارِ فوجداری ہے

عمران خان کا معاملہ وہی ہے کہ وہ دنیا کی ہر زبان میں بات کر سکتے ہیں لیکن خاموش کسی زبان میں نہیں رہ سکتے۔ ایک رہنما کے طرز گفتگو کی تو بات ہی رہنے دیجیے وہ تو بسا اوقات گفتگو کی عمومی روایات سے بھی بے پروا ہو جاتے ہیں۔ جس پارلیمان کو وہ لعنت کا مستحق قرار دے رہے ہیں اس پارلیمان میں وہ گزشتہ دو سال میں صر ف دو دفعہ تشریف لے گئے لیکن تنخواہ ہر مہینے وصول فرماتے ہیں۔ کبھی انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ میں اس چیک پر لعنت بھیجتا ہوں اور آئندہ یہ رقم مجھے نہ دی جائے۔ اس حساب سودوزیاں کا حاصل سادہ سا ایک سوال ہے کہ یہ اصولی سیاست ہے یا وصولی سیاست؟

عمران خان پارلیمان سے اس بات پر خفا ہیں کہ اس نے عدالت سے نا اہل نواز شریف کو دوبارہ پارٹی صدر بنانے کے لیے قانون سازی کیوں کی لیکن بنی گالہ کے رومانوی ماحول میں رہ کر بھی وہ راز کی یہ بات نہیں جان پائے کہ غزل صرف مطلع کا نام نہیں ہے، اس میں مقطع بھی آ تا ہے۔ عمران صرف مطلع کہہ رہے ہیں، جب کہ غزل مکمل کرنے کے لیے لازم ہے کہ مقطع بھی کہہ دیا جائے اور مقطع یہ ہے کہ جس روز یہ قانون سازی ہو رہی تھی خود عمران خان بھی پارلیمان تشریف نہیں لائے تھے۔ یہ معاملہ اگر اتنا ہی اہم اور نازک تھا کہ اس پر قانون سازی کرنے والی پارلیمان لعنت کی مستحق ٹھہری تو اس معاملے سے بے نیاز رہتے ہوئے اس روز اسمبلی میں تشریف ہی نہ لانے والے پر کون سا حکم لاگوہو گا؟ عمومی یا استثنائی؟

عمران خان کی اس بات کی تائید کرنا تو ممکن ہی نہیں۔ جذبات جتنے بھی مجروح کیوں نہ ہوں سیاست ان جذبات کی تہذیب کا نام ہے اور سیاسی رہنما کا طرز گفتگو تلخ سے تلخ حالات میں بھی مہذب ہونا چاہیے۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ عمران کے جواب میں پارلیمان نے جس حساسیت کا مظاہرہ کیا ہے وہ مناسب ہے؟ میرے نزدیک اس کا جواب بھی نفی میں ہے۔

پارلیمان کے تو رنگ ہی اور تھے۔ یوں لگا آسماں ٹوٹ پڑا ہو اور اراکین پارلیمان اپنی بصیرت سے اسے سہارا دے رہے ہوں۔ کسی نے کہا عمران نے ہماری توہین کر دی ہے، کسی نے کہا اسے طلب کیا جائے، کسی نے کہا ہمارا استحقاق مجروح ہوا ہے اس لیے اس سے معافی منگوائی جائے، بلیغ الرحمان صاحب نے فرمایا یہ تو پاکستان کے عوام کی توہین ہو گئی ہے، جمعیت علمائے اسلام ( ف) کی شاہدہ اختر علی نے 73ء کے آئین کے تناظر میں فرمایا عمران خان کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ وہ یاد رکھے، خورشید شاہ صاحب نے شدت جذبات میں معلوم نہیں پیش گوئی فرمائی یا دھمکی دی کہ پارلیمان کے تقدس کو پامال کرنے والے اور اس کے حواری زندہ نہیں رہیں گے، ن لیگ کے میاں جاوید لطیف نے تو کمال ہی کر دیا، فرمایا پارلیمان کو گالی عوام کو گالی ہے اور عوام کو گالی ریاست کو گالی ہے اور ریاست کو گالی غداری ہے، یعنی عمران پر غداری کا مقدمہ قائم ہو جانا چاہیے۔ خواجہ آصف نے فرمایا عمران کو استحقاق کمیٹی میں طلب کیا جائے اور اگر وہ نہ آئے تو گرفتار کر کے پیش کیا جائے۔ رکیے صاحب رکیے! معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا، سپیکر صاحب نے بھی ابھی فیصلہ فرمانا ہے، خبر ہے کہ وہ رولنگ بھی جاری فرمائیں گے اور اس پر ایکشن بھی لیں گے۔ اس معاملے کی نزاکت کا ااحساس اس بات سے کیجیے کہ پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ نے توہین پارلیمان کا ایک قانون بھی تیار کر لیا۔ معلوم نہیں اس قانون کی روشنی میں عمران خان کو زن بچہ سمیت کولہو پسوایا جائے گا یا ملک بدر کر دیا جائے گا تاہم یہ معلوم ہوا کہ ہمارے قائدین بھوک سے مرتے عوام کے لیے پریشان ہوں نہ ہوں اپنے استحقاق کے دفاع کے لیے سب مردانہ وار داد شجاعت دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی ملاحظہ فرمائیں - اسماء طارق

عمران نے ایک بیان دیا، ان کے سیاسی حریف بھی جواب آں غزل کہہ دیتے۔ لیکن اتنے اہتمام سے پارلیمان کی کارروائی، حیرت ہی نہیں دکھ بھی ہوتا ہے۔ پارلیمان کو کس نے بتایا ہے کہ قراردادیں لا کر اور قانون بنا کر وہ عزت حاصل کر لیں گے۔ عزت کردار سے ملتی اور اپنے اخلاقی وجود کے تحفظ سے۔ فرض کریں پارلیمان عمران خان کو طلب کرے اور عمران خان پیش ہونے کا فیصلہ کر لیں اور وہاں کہیں کہ جناب والا، آپ میرے ساتھ پاکستان کی کسی گلی، کسی محلے میں چلے جائیے اور میرا مقدمہ دلوں کے وزیر اعظم کی پسندیدہ ’’ عوام کی عدالت‘‘ میں رکھ کر لوگوں سے پوچھیے کیا میں نے غلط کہا تو استحقاق کمیٹی کے معزز اراکین کا جواب کیا ہو گا؟

اس ملک میں اہل سیاست ایسے ایسے ارشادات فرماتے ہیں کہ ان پر قانون کا نفاذ ہو تودلوں کے وزیر اعظم سمیت آدھی کابینہ تو جیل میں پڑی ہو۔ ہر ریاستی ادارہ ان کے سینگوں پر ہے، لوگوں کی ماؤں بہنوں تک کو نہیں بخشا گیا، جس روز پارلیمان کے استحقاق کی قوالی پڑھی جا رہی تھی اسی روز خواجہ آصف نے ’’پیرنی‘‘ کو موضوع سخن بنایا اور یہ تو علم نہیں کہ ان کے ارشادات گرامی پر کسی کا سر شرم سے جھکا یا نہیں البتہ یہ معلوم ہے کہ تالیاں بہت بجیں۔ لوگوں کی بہنوں بیٹیوں پر فقرے اچھالنے والے ایوان کے استحقاق کے لیے پریشان تھے۔ یا یوں کہیے کہ ایوان کے استحقاق کے لیے پریشان حضرات ماؤں بہنوں پر فقرے اچھال رہے تھے۔

پارلیمان کے سامنے اور کتنے مسائل ہیں، داخلی بھی اور خارجی بھی۔ نہ صحت کی سہولیات ہیں، نہ تعلیم کی، پینے کا صاف پانی میسر نہیں، دودھ میں زہر کی ملاوٹ ہے، انجکشن لگنے کی وجہ سے دودھ دینے والی بھینسیں کینسر کا شکار ہو رہی ہیں، بچیاں قتل ہو رہی ہیں اور قاتلوں کا سراغ نہیں مل رہا۔ دکھوں کی گویا ایک مالا ہے جو ٹوٹ چکی ہے۔ خطے میں طرح طرح کے چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں، اسرائیل کے وزیر اعظم بھارت کا دورہ کر رہے ہیں۔ کوئی سنگینی سی سنگینی ہے؟ اور غریب عوام کے پیسوں پر اجلاس سجا کر زیر غور آیا تو کیا آیا؟ عمران نے ہمارا استحقاق مجروح کر دیا اسے طلب کیا جائے۔ تالیاں! کوئی بصیرت سی بصیرت ہے؟ اس فکری پختگی پر رشک آتا ہے۔ خلق خدا اپنی بیٹی زینب اور اپنے جوان رعنا نقیب اللہ محسود کو رو رہی ہے اور پارلیمان کو اپنے استحقاق کا غم لاحق ہو چکا۔ وہ آئی جی پنجاب یا راؤ انور کو طلب کرنے کی بجائے عمران خان کو طلب کرنا چاہتی ہے۔ زندہ اور پائندہ قوم نے کیسے کیسے نمائندے چن کر اسمبلی میں بھیجے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا عمران خان وعدے پورے کر سکیں گے؟ سید معظم معین

عمران خان نے تو غلط اسلوب میں بات کی، ہم افتادگان خاک اگر ہاتھ باندھ کر مودب انداز میں سوال کریں کہ اس پارلیمان نے ایک عام آدمی کے لیے اب تک کیا کیا ہے توکسی کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟ روزنامہ نائن ٹی ٹو میں آج ہی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ 2013 سے لے کر اب تک قومی اسمبلی پر 103 ارب روپے خرچ ہوئے ہیں، سپیکر کے دفتر پر 4ارب اورقائد حزب اختلاف کے دفتر پر، جنہیں برادرم اعجاز الحق وفاقی وزیر برائے حزب اختلاف کہتے ہیں، ایک ارب روپے خرچ ہوئے۔ جان کی امان پاؤں تو عرض کروں، اتنے اخراجات کے بعد آپ کی کارکردگی کیا ہے؟

میر ہوتے اور انہیں کوئی ریڈ زون میں گھسنے دیتا تو کیا عجب پارلیمان کے باہر کھڑے ہو کر کہتے:

گھر میں آئینے کے کب تک تمہیں نازاں دیکھوں

کبھو تو آؤ مرے دیدہِ حیران کے بیچ

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.