کیا مسئلہ محض راؤ انوار ہے؟ - ڈاکٹر اسامہ شفیق

ہمارا میڈیا، سوشل میڈیا، اور عوامی رائے عامہ جس طرح راؤ انوار کے خلاف ہے اب اس پر کوئی کلام نہیں کہ اس درندہ صفت خونی بھیڑیے کے دن گنے جا چکے ہیں۔ لیکن کیا محض راؤ انوار ہی اس نظام کا مسئلہ تھا کہ جس کو پوری طاقت سے اکھاڑ پھینکا چاہیے اور اس کے بعد راوی چین ہی چین لکھتا رہے گا؟ کیا میڈیا کو یکایک یاد آگیا کہ راؤ انوار کے پولیس مقابلے جعلی ہوتے تھے؟

تو کیا اس میڈیا کا ہی یقین کیا جائے جو اس سے قبل راؤ انوار کے پولیس مقابلوں میں مرنے والوں کو سنگین دہشت گرد قرار دیتا تھا؟ کیا اسی میڈیا کی بات مان لی جائے جو کل تک راؤ انوار کو نجات دہندہ اور بہادر پولیس آفیسر بناکر پیش کرتا تھا؟ کیا میڈیا کی آنکھوں پر اس وقت پردے پڑے تھے کہ جب ان کے لواحقین آکر احتجاج کرتے تھے کہ ان کو پیاروں کو سالوں اور مہینوں پہلے سادہ لباس، بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں والے اٹھا کر لے گئے؟ اس وقت یہ "آزاد میڈیا" ان کے لواحقین کی فریاد کیوں نشر نہیں کرتا تھا کہ جب ان کے لواحقین اپنے بے گناہ پیاروں کی لاشیں وصول کرتے تھے واویلا کرتے تھے کہ ان کو گرفتار کرنے کے بعد ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔

راؤ انوار محض اس کھیل کا ایک کردار ہے اصل اسکرپٹ لکھنے والے، معصوم لوگوں کو اغواء کرنے والے، ان کو راؤ کے حوالے کرنے والے کوئی اور ہیں کہ جنہوں نے یہ بندوبست کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہٹایا جانے والا راؤ انوار واپس کچھ عرصے بعد اس ہی پوسٹ پر براجمان ہو۔ یہ وہ ہیں کہ جو ماورائے عدالت قتل کے سہولت کار اور ماسٹر مائنڈ ہیں۔ یہ وہ ہیں جو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اغواء کرتے ہیں اور پھر ان کے گھر کے باہر پہرے بٹھا دیتے ہیں کہ کوئی کچھ نہ بولے موت کا سا سکوت۔ پھر اس کے بعد جب ان بن ہوتو ان کے گھر والوں کو بولنے کا کہتے ہیں، اس معاملہ کو عالمی سطح پر پر اٹھاتے ہیں۔ اپنی کتاب میں اس کا تذکرہ کرتے ہیں اور پھر دباؤ پر اس واقعے کو نکال دیتے ہیں۔

اس سے قبل ماضی قریب میں یہی خدمات چوہدری اسلم سے لی گئیں اور اس کے بعد اس کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔ اب راؤ انوار کی باری ہے اس کو بھی راستے سے ہٹا دیا جائے گا لیکن راؤ انوار، چوہدری اسلم اور ان جیسے کئی اور مسئلہ نہیں ہیں، مسئلہ طاقت اور اختیارات کا وہ نشہ ہے جس کو لگام دینا ضروری ہے۔ اگر قانون میں کوئی کمی ہے تو اس کو درست کریں، عدالتی نظام کی اصلاح کریں۔ اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والوں کو بھی اب سمجھنا ہوگا کہ خاک و خون کے اس کھیل میں نقصان دوطرفہ ہی ہوگا۔

اب یہ دھمکیاں نہیں چلیں گی کہ وہاں سے ماریں گے کہ پتہ بھی نہ چلے گا، اب دوسری طرف سے بھی ایسا ہی جواب ملتا ہے۔ قبائلی علاقوں، بلوچستان اور کراچی میں طاقت کے اس بے دریغ استعمال سے جو تباہی ہوئی وہ سب کے سامنے ہے۔ ریاست کو ناقابل تسخیر بنانے کے غلط طریقے نے ریاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اپنے ہی شہریوں کو فتح کرنے کی جبری کوششوں کو ختم کرنا ہوگا۔ بیدار ہوئے میڈیا، سوشل میڈیا اور رائے عامہ کو راؤ انوار کو ہٹانے کے بعد اس سے بھی بھرپور انداز میں عدل و انصاف کے نظام کو قائم کرنے کے لیے جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔

یاد رکھیں مسئلہ محض راؤ انوار نہیں بلکہ یہ نظام ظلم ہے جو ان جیسوں کو جنم دیتا ہے۔ لہٰذا درخت کی شاخیں کاٹنے سے کچھ عرصے بعد یہ دوبارہ پھوٹ جائیں گی۔ بس ایک بار ظلم کے اس درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک فیصلہ کن جدوجہد کریں۔