جدید فتنے اور نوجوانوں کا کردار - غلام نبی مدنی

خلفیہ عبدالحمید ثانی عثمانی سلطنت کے34ویں اور آخری مؤثر ترین بادشاہ تھے۔ انہوں نے 31اگست1876ءسے لے کر 27اپریل 1909ء تک تقریبا33سال تک حکومت کی۔ آپ کا دور حکومت سلطنت عثمانیہ کے گزشتہ تمام ادوار سے زیادہ سخت اور پرفتن تھا۔ ایک طرف یورپ جدید سائنسی ایجادات کے ذریعے دنیا پر حاوی ہورہاتھا تودوسری طرف استعماری طاقتیں متحد ہوکر خلافت عثمانیہ کے ماتحت ریاستوں اور دیگر اسلامی ممالک پر قبضہ کرنے اور وہاں کی عوام کو فکری اور تہذیبی طور پر اپاہج بنانے میں مصروف تھیں۔ یہ استعماری طاقتیں مسلمان معاشروں میں آزادی اورحریت کے نام پر بے راہ روی، مذہب سے دوری اور اسلامی روایات کے خلاف میڈیا اوربعض زرخرید معلمین اورتعلیم گاہوں کے ذریعےنوجوانوں کو بغاوت پر ابھار رہی تھیں۔ یہ کام زیادہ تر سلطنت عثمانیہ اور خلیفہ عبدالحمید ثانی کے خلاف کیا جارہاتھا۔

چنانچہ ایک دفعہ استنبول میں ایک یہودی رائٹر نے ایک کالم لکھا جس میں خلیفہ عبدالحمید ثانی کی مذمت کی گئی اور اسے آزادی کے خلاف قراردے کر نوجوانوں کو ابھارا گیا کہ وہ خلیفہ عبدالحمید ثانی سے نجات حاصل کریں۔ لکھنے والے یہودی نے یہ بھی لکھا کہ خلیفہ اس قدر ظالم ہے کہ وہ اس مضمون کے چھپنے تک عین ممکن ہے اسے قتل کروادے۔ یہودی کالم نگار کا یہ مضمون جس دن اخباروں کی زینت بنا، اس سے گزشتہ رات یہودی سے مضمون لکھوانے والےایک غدار نے منصوبے کےتحت اس پر قاتلانہ حملہ کیا، جس میں وہ بری طرح زخمی ہوگیا۔ اگلے دن استنبول کے اخبارات میں یہودی کالم نگار کا مضمون شائع ہوا اور ساتھ ہی اس کے قتل کی خبر بھی مشہور ہوگئی۔ آزادی کے علمبرداربعض اساتذہ یونیورسٹیوں کے طلبہ کی بھی ذہن سازی کررہے تھے۔ چنانچہ اس خبر اور مضمون کے سامنے آنے کے بعد مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ اور بعض نوجوانوں نے احتجاج کا فیصلہ کیا اور شام کو خلیفہ عبدالحمید ثانی کے محل کے سامنے ایک مسجد کے سامنے احتجاج کرنے پہنچ گئے۔ ادھر مغرب اور مغربی آلہ کار خوش تھے کہ اس طرح کے احتجاجی مظاہروں سے خلیفہ عبدالحمید ثانی کا تخت ایک دن ضرور زمین بوس ہوجائے گا۔ خلیفہ عبدالحمید ثانی احتجاج کرنے والے طلبہ کے پاس پہنچے اور احتجاج میں شامل ایک طالب علم سے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے اور کیا کرتے ہیں؟طالب علم نے نام بتایا اور کہا کہ فلاں میڈیکل یونیورسٹی میں میڈیکل کاطالب علم ہوں۔ خلیفہ نے کہا وہ یونیورسٹی کس نے بنائی ہے؟نوجوان طالب علم خاموش ہوگیا۔ ایک اور طالب علم سے یہی سوال پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ فلاں یونیورسٹی میں انجینئرنگ کا طالب علم ہے۔ خلیفہ نے کہا وہ یونیورسٹی کس نے بنائی؟نوجوان خاموش رہا۔ خلیفہ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ امت کا قیمتی ورثہ ہیں، آپ کے لیے یہ یونیورسٹیاں اس لیے بنا ئیں تاکہ آپ امت کی فلاح وبہبود کے لیے اپنا کردار ادا کرسکیں۔ خلیفہ نےمزید کہا کہ آج استنبول سے برلن تک ٹرین جاتی ہے، ترکی سے لوگ یورپ جاکر تعلیم حاصل کرتے ہیں، سلطنت عثمانیہ کے تمام علاقوں میں یہودیوں، عیسائیوں اور ہرمذہب کے ماننے والوں کو مکمل آزادی اور مکمل حقوق حاصل ہیں۔ کیا یہ آزادی نہیں؟"۔ مجمع پر کچھ دیر کے لیے سکوت طاری ہوگیا۔ اس دوران خلیفہ کے خلاف احتجاج پر آئے طلباء کرام نے خلیفہ کے حق میں نعرے لگانے شروع کردیے۔ ادھر مغرب کی اذان سنائی دی تو نوجوان خلیفہ کے ساتھ نماز پڑھنے مسجد چلے گئے۔

خلیفہ عبدالحمید ثانی کے اس واقعے سے چند بنیادی چیزیں سامنے آتی ہیں۔

1) امت مسلمہ بالخصوص خلافت عثمانیہ کے زوال میں مغرب نے جس مؤثر ہتھیار کو آزمایا وہ میڈیا تھا۔

2) جن کے خلاف یہ ہتھیار آزمایا گیا ان میں اصل ہدف نوجوان نسل، طلبہ اور تعلیم گاہیں تھیں۔

3) استعماری طاقتوں کا ہدف نوجوانوں اور طلبہ کو آزادی کا نعرہ دے کر اسلامی اور تہذیبی روایات سے دور کرنا تھا۔

یہی چیزیں آج بھی امت مسلمہ بالخصوص پاکستان کے خلاف استعمال کی جارہی ہیں۔ جس میں اصل ٹارگٹ ہماری نوجوان نسل، طلبہ اور تعلیم گاہوں کو کیا جارہاہے۔ چنانچہ" میڈیا وار"کے ذریعےنوجوان نسل اور طلبہ کو ایسی چیزوں میں الجھادیا گیا ہے جن کا ان کی تعلیم اور ان کے مستقبل سے قطعا ًًکوئی تعلق اور جوڑ نہیں ہے۔ سوشل میڈیا اس کی واضح مثال ہے۔ نوجوان نسل کو اسلامی روایات اور اسلامی تہذیب کے بارے شکوک وشبہات میں مبتلا کرنے کے لیے ایسے لوگوں کو تعلیم گاہوں اور نوجوانوں تک رسائی دی جارہی ہے جو ان کو فکری طور پر مفلوج کررہے ہیں۔ معاشی مسائل میں نوجوان نسل اورطلباء کرام کو اس قدر الجھادیا گیا ہے کہ آج کا ہرطالب علم اور ہرنوجوان اپنے معاشی مستقبل کا سوچ سوچ کر ہی وقت گزاردیتاہے۔

ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے آج کے ہرنوجوان کو اپنے ماضی اور حال کو سامنے رکھ کر اپنے اور امت مسلمہ کے مستقبل کے بارے سوچنا ہوگا۔ ہر نوجوان کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ امت مسلمہ کے دشمنوں سے لڑنے کے لیے کس طرح خود کو تیار کرسکتاہے۔ اپنے شوق اور طاقت کے مطابق ہر نوجوان کو ہر اُس میدان کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کو اچھی طرح آزما سکے۔ اگر کوئی نوجوان صحافی بن سکتاہے تو اسے صحافت کے میدان میں اس نیت سے آنا چاہیے کہ وہ صحافت کو بطور جاب نہیں بلکہ بطور ہتھیار استعمال کرکے دشمنوں کو ان کی زبان میں جواب دے گااور امت مسلمہ کے اجتماعی مفاد کے لیے کام کرے گا۔ اگر ایک یہودی نوجوان تھیوڈور ہرزل صحافت کے ذریعے پوری دنیا میں ذلت ورسوائی کے شکار یہودیوں کو ایک جگہ اکٹھاکرکے، انہیں یہودیوں کے لیےعلیحدہ ملک اسرائیل بنانے کانظریہ دے کر یہودیوں کاقائد بن سکتاہے تو پھر ایک مسلمان نوجوان کیوں کر امت مسلمہ کے مفاد میں ایسا گراں قدر کام کرکے امت مسلمہ کا ہیرو نہیں بن سکتا؟اسی طرح اگر کوئی نوجوان سائنٹسٹ بننے کا شوق رکھتاہے تو اسے اس فیلڈ کو اس لیے جوائن کرنا چاہیے کہ اس کے ذریعے وہ امت مسلمہ کے غلبے کے لیے کوشش کرے گا۔ اسی طرح اگر کوئی نوجوان آئی ٹی کا شوق رکھتا ہے تو اسے ضرور بل گیٹس اور مارک زکربرگ جیسوں سے آگے نکلنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ اسی طرح دیگر شعبہ جات میں ہمارے نوجوانوں کو آگے آکر اپنی اپنی صلاحیتوں کو امت مسلمہ کے مفاد کے لیے آزمانا چاہیے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آج امت مسلمہ ایک بہت بڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔ مگر اس امتحان میں کامیابی دلوانے کے لیےامت مسلمہ کا ہر نوجوان اپنی صلاحیتوں کو صرف کرکے اپناکردار اداکرسکتاہے۔ اس لیے ہرنوجوان کوآج سے اس فکر کو اپنے ذہن میں بٹھالینا چاہیے کہ وہ اپنی ذات میں دنیا کا فاتح اور امت مسلمہ کا نجات دہندہ ہے۔ اسے کوئی دشمن ڈرا سکتا ہے، نہ اس کو فکری طورپر لایعنی چیزوں میں مشغول کرے کوئی اس کے ہدف سے بھٹکاسکتاہے۔ جس دن امت مسلمہ کے ہرنوجوان نے یہ عہد کرلیا اسی دن امت مسلمہ اپنے عرو ج کی طرف رواں دواں ہوجائے گی ان شاءاللہ۔

Comments

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، ایم اے اسلامیات اور ماس کمیونیکیشن میں گریجوایٹ ہیں۔ 2011 سے قومی اخبارات میں معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کے لیے خصوصی بلاگ اور رپورٹ بھی لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.