برمحل - نزہت وسیم

وہ بازار سے گزر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک مشہور برانڈ کے جوتوں کے سٹور پر پڑی۔ وہاں تزئین و آرائش کا کام ہورہا تھا۔ وہ رُک گیا اور غور سے دیکھنے لگا۔ کسی بل بورڈ یا پوسٹر پر عورت کی تصویر نہیں تھی۔ سٹور کے چاروں طرف بڑے بڑے بورڈ لگائے گئے تھے۔ اور اندر بھی رنگا رنگ پوسٹر لگے ہوئے تھے۔ تمام پوسٹر جوتوں کے خوبصورت ڈیزائنوں اور رنگوں سے سجائے گئے تھے۔ ان میں نسوانیت کی بے حرمتی کی کوئی جھلک نہ تھی۔

اسے چند دن پہلے کا واقعہ یاد آگیا۔ جب اس کی بیٹی اسی سٹور سے جوتے خریدنے آئی۔ انہوں نے دیکھا کہ سٹور کے باہر ایک بڑا بل بورڈ لگا تھا جس پر ایک لڑکی کی تصویر تھی جو جُھک کر جوتا پہن رہی تھی۔ پنڈلیوں تک اونچا پاجامہ اور مختصر سی قمیض کے ساتھ، دوپٹے سے یکسر بے نیاز جوتے تک نگاہ جانے سے پہلے عورت کے خد وخال سے آشنائی ہو رہی تھی۔ یہ دیکھ کر اس کی بیٹی کا چہرہ غصے اور شرم سے لال ہوگیا۔ وہ تیزی سے سٹور میں داخل ہوئی اور سیدھی مینیجر کے کاؤنٹر پر پہنچی اور اس سے پوچھنے لگی۔ کیا آپ کی کوئی بہن ہے ؟ مینیجر نے اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے جواب دیا جی ہاں ! مگر آپ کیوں پوچھ رہی ہیں ؟ اس کی بیٹی تحمل سے بولی کیا آپ اپنی بہن یا بیٹی کی اس طرح کی بے ہودہ تصاویر بنا کر یہاں لگا سکتے ہیں ؟ آخر یہ بھی کسی کی بیٹی یا بہن ہے۔ جسے آپ بے حیائی کا پیکر بنا کر اپنے برانڈ اور سٹور کی تشہیر کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ کیا آپ گوارا کرسکتے ہیں کہ یہاں آپ کی بیٹی یا بہن کی تصویر لگی ہو اور ہر شخص اس کے بدن کا نظارہ کر رہا ہو ؟ آخر اپنی اور دوسروں کی عزت کے بارے میں آپ کا دوہرا معیار کیوں ہے ؟ آپ کیوں اسی طرح دوسروں کی ماں بہن، بیٹی کی عزت نہیں کرتے جیسی اپنی عورتوں کی کرتے ہیں ؟

یہ بھی پڑھیں:   اور زنجیر ٹوٹ گئی - صالحہ نور

مینیجر یہ سن کر سخت شرمندہ اور پریشان ہوچکا تھا۔ وہ معذرت کرنے لگا کہ اس میں میرا قصور نہیں اس سٹور کی مالکہ ایک خاتون ہیں، ہم ہر کام ان کی مرضی کے مطابق کرتے ہیں، آپ ان سے بات کیجیے۔ اس کی بیٹی نے کہا ٹھیک ہے بات کروائیں۔ اسی وقت سٹور کی مالکہ سے فون پر بات ہوئی۔ اس کی بیٹی نے ان سے کہا اگر آپ ان تصاویر کو یہاں سے نہیں ہٹائیں گے تو ہم اس سٹور سے خریداری نہیں کریں گے، نہ صرف یہ بلکہ جہاں بھی یہ برانڈ ہوگا نہ ہم خود خریدیں گے اور نہ ہی اپنے عزیزوں، رشتہ داروں اور ملنے جلنے والوں کو خریدنے دیں گے۔ سٹور کی مالکہ نے تسلی دی کہ ہم اس معاملہ پر غور کریں گے اور آپ کی شکایت دور کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ بے فکر رہیں۔ اور آج … وہ دیکھ رہا تھا کہ کسی پوسٹر پر عورت کی تصویر نہ تھی۔ تمام بل بورڈ خوبصورت رنگوں اور دلکش ڈیزائن کے جوتوں کی تصاویر سے سجے ہوئے تھے۔ سٹور میں ہر طرف رنگ پھیلے ہوئے تھے … اور حیا کے یہ رنگ نگاہوں کو خوب بھلے لگ رہے تھے۔ کہیں کوئی کمی نظر نہیں آرہی تھی، سٹور پر بھی خوب رش لگا ہوا تھا۔ اس نے بھی وہاں سے جوتے خریدے اور اپنی بیٹی کو یہ خوشی خبر ی سنانے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔