فوج کا کیا قصور ہے؟ - سمیع احمد کلیا

مملکت خداداد پاکستان میں ایک عجیب ٹرینڈ بنا ہوا ہے کہ سب کچھ یا تو امریکہ کروا رہا ہے یا فوج کروا رہی ہے۔ یا پھر اکثر سیاسی جماعتیں یہ کہتی ہوئی پائی جاتی ہیں کہ فوج کا ایک آئینی کردار ہے، اس سے آگے اسے نہیں بڑھنا چاہیے۔ فوج کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور نہ مارشل لاء یا ایمرجنسی لگا کے ملک کے آئین کو معطل کرنا چاہیے بلکہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی پسماندگی کی ذمہ دار فوجی حکومتیں ہیں، ملٹری ڈکٹیٹروں نے ملک کو تباہ کردیا وغیرہ وغیرہ ۔

حیرت کی بات ہے کہ کیا پاکستان کی تاریخ 5000 سال پرانی ہے کہ لوگوں کو کچھ یاد نہیں یا لکھی ہوئی تاریخ موجود نہیں ہے، جس وجہ سے ہم کوئی بات یا واقعہ کے حتمی ہونے پر ہمیں شک ہے؟ کل 70 سال کی ہماری تاریخ ہے، جس کا ایک ایک واقعہ اور لمحہ لکھی ہوئی حالت اور لوگوں کی یادداشت میں محفوظ ہے۔ اس لیے ہم بخوبی جانتے ہیں کہ 1954ء بننے والی محمد علی بوگرا کی کابینہ میں ایوب خان، جو کہ حاضر سروس کمانڈر اِن چیف تھا، کو وزیر دفاع، سیاسی اور سول لوگوں نے بنایا۔ پھر سیاسی لوگوں نے اسکندر مرزا کو صدر بنایا اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آئین توڑ کے مارشل لاء انہی دونوں بندوں نے لگایا اور فوج اقتدار کے ایوانوں میں ایسی داخل ہوئی کہ اب حال اس شخص جیسا ہے جو دریا میں تیرتے ریچھ کو کمبل سمجھ کے ہاتھ لگا بیٹھا اور پھر چلاتا رہا کہ میں تو کمبل کو چھوڑتا تھا کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا۔

کچھ یہی حال سیاستدانوں کا ہے کہ اب وہ فوج کو طاقت و اقتدار کی غلام گردشوں سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن فوج نہیں نکل رہی۔ جب قائد اعظم نے فوج کا کردار اپنی تقاریر میں واضح کردیا تھا تو کیوں اسے اقتدار کا راستہ دکھایا گیا؟ عظیم قائد کے فرمان کی خلاف ورزی کرنے کی کچھ تو سزا ملنی تھی اور یہی سزا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

یہ بھی پڑھیں:   اندھی آنکھوں والا راجہ گِدھ موے گھر آوے گا - قادر خان یوسف زئی

وجہ پھر وہی ہے کہ ہمارے سول اور مقتدر سیاسی رہنما اب بھی قائد اعظم کے اقوال اور احکامات کو پس پشت پر ڈال کر ذاتی مفاد کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ فوج کے پاس سیاست میں آنے کا صرف اور صرف ایک جواز ہے اور وہ ہے ارباب سیاست کی نااہلی، جیسے جیسے منتخب حکومت بے وقوفیاں اور نااہلیاں کرتی ہے، عوام میں غیر مقبول ہوتی جاتی ہے اور عوام ذہنی طور پر مارشل لاء کے لیے تیار ہوجاتی ہے کیونکہ ان کی بنیادی ضروریات سیاست دان سے زیادہ فوجی پوری کرتا ہے۔ یوں عوام کی ہمدریوں اور حکمران کی نااہلی مل کے مارشل لاء اور ایمرجنسی کی فضا بنادیتی ہے اور ملک ایک بار پھر ڈکٹیٹرشپ کے شکنجے میں جڑا جاتا ہے۔ اگر حکمران اپنی نااہلی کا سدباب کرلیں تو پھر فوج اقتدار کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتی۔ اس کے علاوہ تمام حکومتی ادارے تباہ حال ہیں، اکثر کو اپنی ڈیوٹی کا پتا ہی نہیں ہے۔ جب متعلقہ ادارہ ناکام ہوتا ہے تو ہماری حکومتیں فوج کی طرف مدد کو آواز دیتے ہیں اور جب ایسا بار بار ہو تو پھر فوج یہ سمجھتی ہے کہ جب ملک کا ہر کام ہم نے ہی کرنا ہے تو پھر ملک چلانے کا کام بھی ہمیں دے دیں اور باقی سب گھر جائیں۔ کیا اس میں فوج کاکیا قصور ہے؟ آج بھی ہماری تمام کی تمام لیڈرشپ اور پارٹیاں فوجی ڈکٹیٹروں کی پیداوار ہیں۔ اسی صورت حال میں بات سمجھ سے باہر ہے کہ کہ فوج کا پروردہ فوج کے خلاف کس بوتے پر علم بغاوت بلند کرسکتا ہے؟ جبکہ ان کا نظریہ یہ ہے کہ ہم بنا سکتے ہیں تو ہم بگاڑ بھی سکتے ہیں۔

اس ساری بحث کا حاصل یہ ہے کہ جو گانٹھیں سول اور سیاست دانوں ہاتھوں سے باندھی ہیں، ان کو اب منہ سے کھولنا پڑے گا۔ سیاستدانوں نے ہی فوج کو اقتدار کا راستہ دکھایا اب اس راستے کو روکنا بھی سیاستدانوں کا کام ہے۔ اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنی نیک نیتی ثابت کریں کہ وہ خلوص نیت سے اپنی کی گئی غلطی کو درست کرنے کی کوشش کررہےہیں۔ جب سیاستدان خود ٹھیک ہوکے چلیں گے تو فوج کا اقتدار کا راستہ بند سمجھیں، ورنہ لیڈرشپ کا خلاء پُر کرنے کے لیے تو وہ بوٹ پالش کرکے اور پہن کے بیٹھے ہوئے ہیں۔