پریشر ککر - سمیرا امام

زمانہ طالب علمی میں صدیق سالک کی کتاب " پریشر ککر " پڑھی تھی ۔ زمانے گزرے، کتاب کی نہ تو کہانی یاد ہے، نہ مقصد ۔ تب شعور اتنا بیدار بھی نہیں تھا کہ مدعا و مقصد بہ آسانی سمجھ لیا جاتا لیکن آج کل کی کیفیات کے پیش نظر مجھے رہ رہ کر " پریشر ککر " اور " صدیق سالک " کے الفاظ یاد آتے ہیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کسی نے ہمیں زبردستی جکڑ کر پریشر ککر میں لا پھینکا ہے پریشر ککر کی سیٹی بج بج کر خطرے سے آگاہ کیے جا رہی ہے لیکن سب دم سادھے بیٹھے ہیں اور بالآخر ایک دن یہ پریشر ککر پھٹ جائے گا اور تباہی و بربادی کا موجب ہوگا ۔

آئیے کچھ دیر کو دنیا کی محفلوں سے اکتا کر کسی کوہ کے دامن میں بیٹھ کر کچھ گھتیاں سلجھاتے ہیں ۔

آپ گھر میں بیٹھے ہیں تو والدین بہن بھائی دادا دادی جتنے بھی اہل خانہ ہیں سب ہی دنیا کی ستم ظریفی سے نالاں و شاکی دکھائی دیں گے ۔

آپ گھر سے نکلیے، آس پڑوس، کولیگ، غرض جس سے بھی ملیے وہ حالات کی تیزی سے بدلتی صورت حال اور ابتری کا رونا روتا دکھائی دے گا ۔ حالات حاضرہ پر گفتگو معاشرے کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے ۔ انسانی فطرت کی حسِ بد خوئی کی بہترین تشفی موجودہ حالات کو جی بھر کر کوسنا ہو گیا ہے۔ آئیے اپنے ہی گھر سے شروع کرتے ہیں۔

"ٹی وی فساد کی جڑ ہے۔ "

"مارننگ شوز نے معاشرے کی بے راہ روی کو نئی شکل دی ہے ۔ "

"فیس بک نے نوجوان نسل کو برباد کر ڈالا ہے ۔ "

"انٹرنیٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے ۔ "

کیا واقعی؟ کیا یہی درست سوچ ہے؟

ٹی وی فساد کی جڑ کیوں بنا؟ کیونکہ ہم نے اس سے غفلت برتی ہم نے اس میڈیم کے درست استعمال کے طریقوں کو متعارف کروانے کی بجائے اس پر فتویٰ لگا کر حقِ مسلمانی ادا کر ڈالا اب ہمارا کام تو فقط پہنچا دینا ہے، و ما علینا الا البلاغ ! کوئی عمل نہیں کرتا تو خود ہی گناہ گار ہوگا ہمیں کیا ؟ بھاڑ میں جائے جہنمی نہ ہو تو !

یہی حال باقی تمام میڈیمز کا بھی ہے ۔ فیس بک سوشل میڈیا انٹرنیٹ ان سب کو استعمال کرنے کے صحیح اور درست طریقے متعارف کروانے کی ضرورت ہے، یہاں کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ہماری نسبت اغیار کا رویہ کیا رہا؟

انہوں نے ان تمام ذرائع ابلاغ کا فائدہ اٹھایا اور انہیں مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے لئیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔

پیارے مسلمانو! آپ کی آواز اس سوشل میڈیا کے ذریعے اس ٹی وی انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا کی چھ ارب آبادی تک پہنچ رہی ہے، آواز میں دم تو لائیے ۔ اگر آپ ان سب شیطانی آلات کو آگ لگا کر منہ پہ تالے ڈال کر خود کو گھر میں بند کر لیتے ہیں تو آگ تو جنگل میں لگ ہی چکی ہے آپ کے چپ رہنے سے کیا آپ تک نہیں پہنچے گی؟

آگ کو کب شعور ہے کہ کون دوست ہے کون دشمن؟ وہ جب جلانے پہ آتی ہے سب خاکستر ہوجاتا ہے ۔ اس آگ کو بجھانے کے طریقوں پہ بات کیجیے، یہ مت سمجھائیے کہ آگ لگانا جرم ہے گناہ ہے ۔ بخدا ہم نے نہیں لگائی لیکن ہماری ہی غفلت کے سبب لگی ہے، اب بھی اگر اس کو بجھانے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا تو وہ دن دور نہیں جب آپ کے اور میرے گھر میں پہنچ جائے گی، دہلیز تک تو آ پہنچی ہے ۔ اب جس کی جتنی استطاعت ہے وہ بروئے کار لائے تا کہ اسے بجھایا جائے۔

ہم نے شور مچا رکھا ہے کہ میڈیا جو چیزیں انٹرٹینمنٹ کے نام پہ عوام کو دکھا رہا ہے، وہ سراسر بے حیائی ہے اور اس سے معاشرے میں فقط فحاشی کو فروغ مل رہا ہے۔ میڈیا یہ سب کیوں دکھاتا ہے؟ اس میڈیا نے رفاہِ عامہ کا ٹھیکہ نہیں اٹھا رکھا، نہ ہی دین کی تبلیغ کے لیے نکلے ہیں، یہ پیسے کمانے نکلے ہیں اور جیسے اور جتنی اچھی طرح کما سکتے ہیں، کمائیں گے۔ یہ بزنس مین وہی دکھاتے ہیں، جس سے ان کا بزنس پروموٹ ہوتا ہے اور پیسے آنے کی رفتار بڑھتی ہے ۔ یہ جو "ٹی آر پی" یعنی "ریٹنگ" نامی بلا ہے اسی نے ان کو بتایا ہے کہ گھروں میں بیٹھی بیبیاں اور نوجوان نسل ناچ گانا کھیل تماشہ دیکھنا چاہتی ہے، جتنا دکھاؤ گے اتنے پیسے آئیں گے ۔ یہی ٹی آرپی بتاتی ہے کہ وزن کم کرنے والے پروگرام حسن کو دوآتشہ کرنے والے ٹوٹکے بتانے سے کیسے ان پہ ہن برسے گا ؟

یہ ہن کون برسا رہا ہے؟

یہ وہی معصوم شریف سادہ لوح خواتین جو صبح بچے کو بستہ دے کر اسکول بھیج کر ٹی وی کھول لیتی ہیں اور باجی فلانی، آنٹی ڈھمکانی کی چٹر پٹر گفتگو کو منہ کھولے زبان نکالے آنکھوں کی پتلیاں جمائے ایسے دیکھتی ہیں جیسے یہی زندگی کا مقصد ہو باقی سب فانی ہے ۔

یہ وہ خواتین ہیں جو معاشرے کی بے راہ روی سے نالاں ہیں ۔ جنھیں ساتھ والی کی بیٹی کی بے باک حرکتیں بالکل پسند نہیں، جو صوم صلٰوۃ کی پابند ہے، گھر سے باہر قدم تک نہیں دھرے، بس گھر کے اندر سے ہی فحاشی کو پروموٹ کر رہی ہیں ۔ گستاخی معاف!

اور یہ ان ہی پیارے بھائیوں کی اہل خانہ ہیں جنھوں نے شور مچا رکھا ہے کہ پیمرا فحاشی کو پروموٹ کر رہا ہے ۔ یہ فحاشی کوئی اور نہیں ہم اور آپ سب مل کر پھیلا رہے ہیں۔

اگر ہم سب ملکر اس شعور کو بیدار کر ڈالیں کہ ہم نے ہر گز اس پروگرام کو نہیں دیکھنا جو اقدار اور معاشرت کے خلاف ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کیا پھر وہی بزنس والے سب چھوڑ چھاڑ کے گھر بیٹھ جائیں گے؟ یا یقیناً آپ کی پسند کے پروگرام کسی حد تک ہی سہی مگر آپ کے لیے لائیں گے؟

گو ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جس وقت ہم سو رہے تھے اور فتاویٰ جاری کر رہے تھے عین اس وقت " وہ " مل بیٹھ کر سر جوڑے یہ پلاننگ کر رہے تھے کہ اگر مسلمان معاشرے کی تباہی چاہیے تو کیا کرنا ہوگا؟ وہ دین نہیں بدلیں گے لیکن اعمال ضرور بدل لیں گے اور جب ان کے اعمال اور افعال مکمل طور پر ہمارے رنگ میں رنگ جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے؟ اگر انہیں مسلمان کہا جائے یا کچھ اور … رنگ ان پہ بہر حال یہود و نصارٰی کا موجود ہوگا ۔

اسی پلاننگ کے نتیجے میں وہ میڈیا کو شاباشی دیتے ہیں عوام کی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ کر ان میں ہیجان بپا کرنے والے پروگرام چلاتے ہیں اور حالیہ واقعے کو دیکھیے تو نہ صرف یہ کہ خود ایسے بے حیائی پہ مبنی پروگرام چلا رہے ہیں بلکہ ہمارے ہی معاشرے میں انہیں پیسوں کے عوض امت کی بہنوں بیٹیوں کی ردائیں تار تار کرنے والے وحشی درندے بھی میسر ہیں۔

ایمان کو ختم کرنے کے آسان اہداف

1) نوجوان نسل کو لہو لعب میں الجھا دو ۔ (یہ موبائل فون کے فری پیکجز ' انٹرنیٹ کے ارزاں ترین نرخ اللہ واسطے نہیں ہیں)

2)ان کو ایسے کاموں میں الجھائے رکھو جو انہیں دین سے دور کر دے (پورن انڈسٹری کی روز افزوں ترقی کو دیکھ لیجیے۔ فقط دیکھنے کی حد تک کی بات پرانی ہو چکی ہے اب تو ان ہی فلموں کو بنوانے کا کام بھی ان ہی مسلمانوں سے لیا جانے لگا ہے)

3)گناہ کو دلکش خوبصورت بنا کر پیش کرو، معاشرتی قید و بند کو ڈبے میں بند کر کے، دریا برد کر دو ۔

انہوں نے میڈیا کو ہمارے خلاف بھرپور ایٹمی میزائل کی طرح استعمال کیا اور ہم نے ان ایجادات سے دین کا کام لینے کی بجائے ان میں ترقی کرنے کی بجائے فقط زبان سے توپیں چلائیں۔ ہمارے فلم میکر اپنی انڈسٹری کے مستقبل سے ہر گزمطمئن نہیں کیونکہ ان کی دیندار عوام کترینہ کا ٹھمکا اور کرینہ کا جھمکا دیکھنا چاہتی ہے، مُنی انہیں بدنام پسند ہے اور شیلا جوان ۔

کم بخت بھارت والے اس دیندار عوام کا پیسہ لوٹ کے لے جاتے ہیں اور یہ مظلوم فلم میکر دو پیسے کمانے کے چکر میں منی اور شیلا کا یہ حال کرتے ہیں کہ "صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں "

مُنی شیلا زنانہ نام ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ابھی اتنی غیرت باقی ہے کہ ان کا استعمال نہ کریں " بلی" تو جانور ہے، اس کی کونسی عزت ہوتی ہے جس پہ پیمرا یا سنسر بورڈ اعتراض کرے؟ تو کیا ہوا اگر انہیں کہتے ہیں بلی !

عزیزانِ گرامی آئیے ان تمام فحاشی پھیلانے والے پروگرامز کا بائیکاٹ کریں مکمل عقل و حواس کے ساتھ جنھوں نے ہمارے معاشرے کو داغدار کر ڈالا ہے۔ گو یہ جو لت ہمیں لگ چکی ہے اس سے مکمل طور پہ چھٹکارا پانا ممکن نہیں لیکن اتنا تو ہم کر ہی سکتے ہیں کہ جو چیزیں فحاشی و عریانی کا سبب بننے میں ممدومعاون ثابت ہو رہی ہیں، ان کی ریٹنگ بڑھانا بند کر دیں۔

پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری جہاں سے سبق آموز کہانیاں بھی دکھائی جاتی تھیں وہاں بھی آج یہ حال ہے کہ ساس کے مظالم دیور بھابی کا معاشقہ یا سالی بہنوئی کی کہانی کو غلط طریقوں سے عوام کے ذہن میں انڈیلا جا رہا ہے چونکہ معصوم عوام کو روتی بلکتی مظلوم خاتون کا کردار پسند ہے تو پروڈیوسر ان کا مان کیونکر نہیں رکھے گا؟

اس وقت فقط یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ ان پروگراموں یا ڈراموں کو مت دیکھیے جو فحاشی کا سبب بن رہے ہیں تا کہ ان کی ٹی آر پی نہ بڑھے۔، بلکہ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ وہ مخلص لوگ جو معاشرے کو پر امن اور مقصدیت کی جانب راغب کرنا چاہتے ہیں ان شعبوں میں آگے بڑھیں اور خلوص نیت سے اپنا کام شروع کریں ۔ مارننگ شو کے نام پہ ہم ابھی تک چاچا تارڑ کو نہیں بھولے، انور مقصود کے چند اچھے پروگرام آج بھی دیکھنے والوں کو محظوظ کرتے ہیں، تلقین شاہ کی آواز آج بھی بھلی محسوس ہوتی ہے ۔

پی ٹی وی کا وہ دور جب اردو زبان و ادب کی ترویج کے لیے کام کیا جاتا تھا آج بھی واپس آ سکتا ہے اگر ناظرین اپنا انتخاب بدل لیں ۔

یو ٹیوب پہ فقط فحاشی والی ویڈیوز ہی نہیں پائی جاتیں بہت سے دوسرے مواد بھی دستیاب ہیں ۔ لیکن گناہ کی اس ترغیب کا کیا کیجیے جو بار بار آپ کی نگاہوں کے سامنے لائی جاتی ہے اور ایک دن آپ مزاحمت چھوڑ دیتے ہیں ۔ یہ وہی ترغیب ہے جو عزیِزمصر کی بیوی نے یوسف علیہ السلام کو دینے کی کوشش کی لیکن انہوں نے رخ پھیر لیا۔ گناہ کی شکلیں بدل چکی ہیں مگر نیکی و بدی کی یہ جنگ انسان کے وجود میں آنے کے دن سے جاری ہے ۔ اور اللہ کے بندے وہی ہیں جو ان کانٹوں سے اپنا دامن بچا کے چلیں گے۔

کیا وجہ ہے کہ ریٹنگ اور لائیکس صرف فحش پروگراموں کی زیادہ ہے؟ وجہ آپ کی اور ہماری غفلت بھی ہے ۔ حکمران سے تو ہم کیا توقع رکھیں کیوں نہ اصلاح کی ابتداء اپنی ذات سے کی جائے۔ ساحر لودھی کے ناچ شو کی ریٹنگ بڑھانا بند کر دیجیے تا کہ ننھی کلیاں محفوظ ہو سکیں ۔ اتنی چھوٹے پیمانے پہ کی جانے والی ابتداء تو ہم بھی کر سکتے ہیں کہ اسلامی اقدار کا کھلم کھلا مذاق اڑانے والے ان پروگراموں کو دیکھنا بند کر دیں اور انہیں رپورٹ کرتے رہیں ۔ اپنی آراء اور تجاویز ان پروڈیوسروں کو ارسال کر سکتے ہیں کہ ہماری دلچسپی کے پروگرام ناچ گانے کے علاوہ بھی ہیں۔ کہیں سے تو آغاز کیا جائے!

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */