یہ صنّاعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے - ربیعہ فاطمہ بخاری

مغرب کی تقلید ویسے تو ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے، آزادی کو ستّر سال گزر گئے لیکن اکثریت آج بھی ذہنی طور پر مغرب کی غلام ہے جس کا واضح ثبوت ہمارا تعلیمی نظام اور انگریزی بولنے کی صلاحیت رکھنے والوں کے سامنے ہمارا احساس کمتری ہے۔

ہمارے یہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جنہیں شاید مغربی معاشرت اور مغرب کی تقلید ہی انہیں پاکستان کے معاشرتی مسائل کا واحد حل نظر آتی ہے۔ میں چونکہ خود چھوٹے چھوٹے بچوں کی ماں ہوں، مجھے کوکنگ کا بھی شوق ہے اور ساتھ ہی ساتھ میں صحافت کی طالبِعلم رہ چکی ہوں، تو اپنے ہر ایک شوق کے حوالے سے جہاں بہت سے لوکل فیس بک پیجز کو فالو کرتی ہوں، وہیں کچھ بین الا قوامی اخبارات و رسائل کے پیجز کو بھی فالو کرتی ہوں۔ ان پیجز پہ شیئر کی جانے والی پوسٹس اور کمنٹس سیکشن میں دیے گئے کمنٹس میں مجھے بچوں اور ان کے ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی کے درمیان تعلق بالکل اپنے معاشرے جیسا لگا اور میں اس شش و پنج میں پڑ گئی کہ شاید ہمارے یہاں مغرب کی تصویر کشی کچھ زیادہ ہی منفی انداز میں کی جاتی ہے۔

اسی مخمصے میں تھی کہ آج اتفاقاً فیس بک پر سی این این کے پیج پر اور ایک اپنی پاکستانی نژاد برطانوی دوست کی فیس بک وال پر دو خبریں اکٹھی میری نظر سے گزریں جنہوں نے مجھے مخمصے سے نکال دیا۔ پہلی خبر ایک امریکن کامیڈین عزیز انصاری کے متعلق تھی، جو اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ date پر گیا، انہوں نے فلم دیکھی اور واپسی پر اس معاشرے کی روایت کے مطابق باہمی رضا مندی سے زنا کیا، جو ظاہر ہے کہ ان کے کلچر کا حصہ ہے، جس پر وہ بہت خوش بھی تھا، لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ اس خطے کی روایات کے منافی تھا، وہ لڑکی سوشل میڈیا پر آ گئی اور اس نے عزیز انصاری پر زنا بالجبر کا الزام لگا دیا۔ اس خبر کے کمنٹس سیکشن میں جھانکا کہ عوام الناس کی کیا رائے ہے؟ لیکن میری شش و پنج اس وقت ختم ہو گئی جب میں نے دیکھا کہ سبھی لوگ اس واقعہ کو بہت نارمل لے رہے ہیں/ کوئی لڑکی کی حمایت کر رہا ہے اور کوئی عزیز انصاری کی، جو یہ کہہ رہا تھا کہ یہ زنا بالرضا ہے۔ تب سمجھ آئی کہ وہاں جو تھوڑا بہت خاندانی نظام بچا ہے انہوں نے بچوں کی dating اور consensual sex کے ساتھ سمجھوتا کر لیا ہے اور یہ معاملات وہاں روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔

دوسری طرف ایک ایسے بچے کی ویڈیو تھی جسے اس کے والدین نے کسی بات پر روکا اورشاید پٹائی بھی کی ہواور وہ پولیس کو بلوا لایا، جج نے اسے سوشل کئیر سنٹر بھجوا دیا، وہاں اس بچے کو خود ہی احساس ہوا کہ گھر اس سنٹر سے کہیں پیاری جگہ ہے۔ وہ بچہ بھاگ کے گھر آ گیا لیکن چونکہ والدین کا اولاد پر سختی کرنا وہاں قانوناً جرم ہے تو پولیس اس بچے کو واپس سنٹر لےجانے کے لیے اس کے گھر آتی ہے۔ جہاں وہ بچہ مسلسل رو رہا ہے اور چھپنے کی کوشش کر رہا ہے اور واپس نہیں جانا چاہتا لیکن پولیس اسے لے جانے پر مصر ہے اور میں اس بات حیران ہوں کہ مغرب کی اندھی تقلید کرنے والے لوگ کس منہ سے اس معاشرے کی مثالیں منہ بھر بھر کے دیتے ہیں؟ آپ ایک ایسے معاشرے کو کیسے آئیڈیالاِز کر سکتے ہیں جہاں زنا جیسا قبیح فعل بھی "باہمی رضامندی" سے ہو تو ایک احسن اقدام ہے اور ماں باپ کا تربیت کی غرض سے بچے پر سختی کریں تو ریاستی ادارے انتہائی سختی سے ایکشن لیتی ہے؟ اقبال کی زبان میں مجھے تو یہی سوجھتا ہے

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی

یہ صنّاعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ چوہدری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */