امید اور مایوسی - امجد طفیل بھٹی

ایک کہاوت مشہور ہے " امید پہ دنیا قائم ہے "۔ واقعی سچی اور کھری حقیقت ہے کیونکہ آپ خود کو دیکھیں یا پھر اپنے ارد گرد بسنے والوں کو دیکھ لیں ہر کوئی اپنے دل میں کسی نہ کسی آس اور امید کے سہارے زندگی گزار رہا ہے۔ اگر کوئی بیمار ہے تو وہ صحت یاب ہونے کی آس لگائے بیٹھا ہے، اگر کوئی غریب اور تنگ دست ہے تو وہ اپنے اچھے دنوں کی امید لگائے اپنی غربت کے دن کاٹ رہا ہے، اگر کوئی قیدی ہے تو اپنی قید کو اپنی آزادی کی خاطر کاٹ رہا ہے، اگر کوئی مسافر ہے تو وہ منزل کے حصول کی خاطر سفر کی مشکلات کو جھیل رہا ہے اور اگر کوئی ناکام ہے تو وہ دل میں کامیابی کے حصول کی امید لگائے اپنی ناکامیوں کو برداشت کر رہا ہے، غرض یہ کہ ہر کوئی اچھی سے اچھی امید لیے زندگی کو گزارتا چلا جا رہا ہے۔

امید دو طرح کی ہو سکتی ہے ایک امید تو یہ ہے کہ انسان اپنے طور پہ دل میں کسی اچھی چیز کی خواہش کررہا ہوتا ہے اور ایک امید کسی دوسرے انسان کی طرف سے ایک انسان کو لگائی جاتی ہے۔ اپنے دل میں پیدا کردہ امیدوں میں سے کسی بھی آس یا امید کے ٹوٹ جانے سے اتنی مایوسی نہیں ہوتی جتنا کہ کسی دوسرے کی طرف سے لگائی ہوئی امید کے ٹوٹ جانے سے ہوتی ہے۔

لیکن … آجکل ہمارے معاشرے میں بے چینی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب لوگوں نے " اچھے " کی امید کرنا بھی چھوڑ دی ہے۔ خاص طور پر معاشی مسئلہ اس قدر زیادہ ہو چکا ہے کہ ہر کسی کو اپنی زندگی کی فکر لگی ہے اور ظاہر ہے ایسے میں کسی دوسرے کی امید پہ پورا اترنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ جب بھی کسی دوسرے سے کوئی پریشانی ظاہر کرتا ہے تو وہ ایک امید کے تحت ہی بات کر رہا ہوتا ہے کہ شاید اس کی پریشانی میں کمی ہو جائے چاہے وہ عملی ہو یا پھر تسلی کی صورت میں۔ لیکن کسی سے بھی کسی امید کے پورا ہونے کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی اور یہ ضروری بھی نہیں کہ اگلا بندہ آپ کی امید پہ پورا ہی اترے۔ آج کل لوگوں کے آپس میں تعلقات خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ بھی ایک دوسرے سے بلاوجہ امیدیں وابستہ کر لینا ہی ہے۔

جبکہ دوسری جانب امید کی ضد مایوسی ہے اور اسلام میں مایوسی کو کفر سے تشبیہ دی گئی ہے اور قرآن پاک میں ارشاد ہے " اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا " یعنی کہ مایوسی کو اس لیے کفر کہا گیا ہے کہ جب بھی کوئی انسان مایوس ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا اللہ کی ذات پر سے ایمان اٹھ گیا ہے اور شیطان بھی انسان کو اللہ سے دور کرنے کے لیے اس کے دل میں مایوسی اسی لیے ڈالتا ہے کہ انسان کا اللہ کے وجود پر یقین ختم ہو جائے اور جب اللہ کے وجود پر یقین ختم ہو جائے گا تو وہ خود بخود ہی کفر کا مرتکب ہو جائے گا۔ ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی مایوسی کا سب سے بڑا سبب ہی اللہ کے احکامات سے روگردانی ہے کیونکہ جب بھی کوئی انسان اللہ کے احکامات کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو اس کی زندگی میں سے سکون ختم ہو جاتا ہے اور نتیجتاً مایوسی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔

دنیا کی تاریخ اگر اٹھا کر دیکھ لی جائے تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ مختلف قوموں کے عروج و زوال کا سبب بھی امید اور مایوسی کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ آج ہم اگر ایک آزاد ملک میں آزاد زندگی گزار رہے ہیں تو یہ بھی ایک امید کی ہی بدولت ہے کیونکہ برصغیر کے مسلمانوں نے جدوجہد آزادی بھی ایک امید کے تحت ہی کی تھی۔ اگر اس وقت ہمارے لیڈران اور قائدین نے امید کی بجائے مایوسی دکھائی ہوتی تو شاید ہم کبھی بھی آزاد فضا میں سانس نہ لے رہے ہوتے۔

بطور قوم ہمارے کے لیے علامہ محمد اقبال کی ساری شاعری ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اقبال نے اپنی شاعری میں بارہا اپنی قوم کو امید دکھائی تھی اور اسی امید کی بدولت ہی ہماری قوم نے قائداعظم کی قیادت میں پاکستان جیسی عظیم مملکت کا قیام عمل میں لایا۔ جیسا کہ علامہ اقبال کا ایک مشہور زمانہ شعر ہے

نہیں ہے ناامید اقبالؒ اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی

یعنی کہ اقبال نے کبھی بھی اپنی قوم کو مایوسی میں نہیں پڑنے دیا بلکہ ہمیشہ سے ہی اپنی قوم بالخصوص نوجوانوں کو امید دکھلائی جس کی بدولت وہ اس قابل ہوئے کہ مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا قیام عمل میں لائے۔

اب اگر غور سے انسانی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ زندگی حقیقت میں امید اور مایوسی کا دوسرا نام ہے۔ کیونکہ جب تک ایک انسان زندہ ہے اس وقت تک اس کی زندگی میں امید اور مایوسی کی آنکھ مچولی جاری رہتی ہے۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */