ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو - عظمیٰ طور

آٹھ اکتوبر 2005ء سے پہلے میں بھی قدرے بے فکری تھی لیکن پھر زمین ہلنے لگی … اتنا ہلی کہ دل پھر جگہ پر نہ آ سکا پھر ۔ یہ میری زندگی کا بہت بڑا سانحہ تھا، جان لیوا، دل دکھانے والا میری نیند نوچ کر لے گیا یہ ۔ ٹھیک سے وقت تو نہیں یاد لیکن اس وقت میں کسی بے فکرے لمحے کو اوڑھے سو رہی تھی کہ زمین ہلنے لگی، آنکھ کھلی تو میرا کمرہ جھول رہا تھا۔ کلمہ پڑھتی رہی کہ اللہ خیر کرے زلزلے تو آتے رہتے ہیں یہ کچھ زیادہ ہے لیکن پھر بھی اللہ خیر کرے گا۔

جب زمین اپنی جگہ پر آئی تو اس زلزلے کی سنگینی کا احساس ہوا۔ لاہور تو بس جھولتا رہا، پر کہیں میرے وطن کی زمین پر کئی باغ اجڑ گئے، کئی آنگن تباہ ہو گئے ۔

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو

کہ ہم کو

تتلیوں کے جگنوؤں کے دیس جانا ہے

نیّرہ نور کی آواز میں روتے بلکتے بھاگتے جانیں بچاتے مرتے لوگوں پر یہ گیت میڈیا بھرپور انداز میں بجتا رہا۔ اس سب میں میڈیا نے خوب کردار نبھایا ، وہاں وہاں پہنچنا جہاں درد زیادہ ہوتا ہے، اتنی سفاکی دکھانے کے بعد بھی وہ زندہ رہا، مجھے حیرت ہے ۔

پورا ہفتہ، اب تو عمریں بیت گئی ہوں جیسے، آنکھیں بند کرتی تو ننھے ننھے ہاتھ میری جانب مدد کے لیے بڑھنے لگتے ۔ چیخیں میرا دل چیرنے لگیں ۔ عمارتیں میرے سر پہ گرتی رہیں ۔ میں سوتے میں ڈر جاتی، چیخیں مارتے ہوئے اٹھ بیٹھتی اور پھر میں نے سونا چھوڑ دیا ۔

لیکن میں کتنا جاگوں؟ کب تک جاگتی رہوں؟ کیا صرف میں ہی جاگوں؟ مجھے سونا ہے لیکن میں کسی بھی طرح سو نہیں پاتی ۔ روز صبح جب میری اندر و باہر کی پھٹی آنکھیں جلنے لگتی ہیں تو میں کسی بہت پرسکون مقام، کسی خوبصورت منظر کی جانب نظر کرنے کے لیے اس دنیا کا سامنا کرتی ہوں لیکن تصویر بھیانک سے بھیانک ہوتی چلی جا رہی ہے۔ میرے چہرے پر میری آنکھیں اتنی وا چکی ہیں کہ کوشش کے باوجود بند نہیں ہوتیں۔

روز ہر روز جب میں اپنے آس پاس دیکھتی ہوں تو مجھے وہی روتے بلکتے، چیختے چلاتے، اپنی جانیں بچاتے لوگ دکھائی دیتے ہیں، ننھے ننھے ہاتھ مدد کو پکارتے ہیں، میرا دامن نوچنے لگتے ہیں اور نیرہ نور کی آواز میں "ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو" چلنے لگتا ہے۔

میں لاکھ نظریں چرا لوں، کانوں پہ ہاتھ رکھ لوں لیکن مجھے نجات نہیں مل پاتی۔ یہ آوازیں میری آنکھوں کو اور بھی وا کر دیتی ہیں، میرا گلا دبانے لگتی ہیں، میری روح پر نشان چھوڑنے لگتی ہیں۔ میری بیڈ کے قریب رکھی میری چپلیں خون آلود ننھے ننھے بوٹوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ کبھی میری شال پہ خون کے دھبے بننے لگتے ہیں۔

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو

ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو

آئینہ دیکھتی ہوں تو ننھی ننھی پچیاں جو بیمار ذہنوں کی درندگی کا نشانہ بن گئیں، میرا چہرہ ان کے چہروں میں ڈھلنے لگتا ہے کہ

ہم کو تتلیوں کے جگنوؤں کے دیس جانا ہے

کبھی کوئی خون آلود بستہ میرے ہینڈ بیگ کی جگہ رکھا دکھائی دیتا ہے۔

امی! تتلیوں کے پَر بہت ہی خوبصورت ہیں

کبھی میرے ہاتھوں پر چہروں پر خراشوں کے نشان بننے لگتے ہیں۔

میں کیا کروں؟ کس سے کہوں؟ کہ بس اب اور نہیں ۔ میں اب اور مزید جاگ نہیں سکتی۔

آٹھ اکتوبر کی تاریخ روز آ جاتی ہے ، آٹھ اکتوبر جا ہی نہیں رہا، آٹھ اکتوبر میرے پیاروں پہ کسی آسمان کی طرح ہر وقت چھایا ہوا ہے۔ آٹھ اکتوبر! خدارا تم چلے جاؤ! ہم تھک گئے ہیں، ہم اور جاگ نہیں سکتے، ہمارے خواب ہماری امیدیں ہماری پھٹی آنکھوں میں دراڑیں بناتی بہہ گئی ہیں۔ تم چلے جاؤ تم چلے ہمیں سونا ہے!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */