لاشوں کی سیاست - حنظلہ عماد

کراچی کے پروفیسر حسن ظفر عارف ہوں، یا نقیب محسود، لاہور میں گلگت سے آیا دلاور ہو یا کوئی اور… ان سب کا قتل شدید قابل مذمت ہے کیونکہ اسلام میں تو کسی ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ مگر ان واقعات کے بعد کچھ گِدھ ان لاشوں پر منڈلانے لگتے ہیں۔ معذرت، اگر جملے تلخ لگیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان لاشوں کو نوچ کرکھانے والے ہمیں میں سے سامنے آجاتے ہیں۔ یہ ناپسندیدہ لوگ اس واقعہ میں سے ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کچھ نکات اخذ کرتے ہیں۔ بنا ثبوت اور تحقیق کسی کو مجرم مان کر اس کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ بعد ازاں، بہت سے سادہ لوح بھی ان باتوں میں آکر ہمنوا بنتے ہیں اور یوں معاملہ اِن گدھوں کا من چاہا رخ اختیار کر لیتا ہے۔

اب کراچی کے مرحوم پروفیسر کا معاملہ ہی دیکھ لیں۔ ان کے مبینہ پرتشدد قتل پر ہر شخص غمگین تھا اور مطالبہ یہی تھا کہ ان کے قاتل جلد گرفتار ہوں۔ مگر ان کی بیٹی کی طرف سے دیے گئے بیان نے حقیقت واضح کر دی۔ فیس بک پر پوسٹ کردہ ان کے بیان کے مطابق پروفیسر ظفر عارف کے جسم پر تشدد کے کوئی نشان نہیں تھے اور نہ ہی انہیں کسی نے اغوا کیا تھا۔ ان کے نزدیک ان کے والد دل کا دورہ پڑنے سےطبعی موت کا شکار ہوئے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس بات کا تذکرہ بھی کیا کہ کچھ لوگ اور پارٹیاں ان کے والد کی فوٹوشاپڈ تصاویر اور ویڈیوز کی مدد سے بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہے ہیں جو ان کے خاندان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اب اس بیان کے تناظر میں ان تمام دانشوروں کی طرف سے بھگاری گئی دانش کو سامنے رکھیں اور فیصلہ کریں کہ یہ کسی مظلوم کی حمایت تھی، انصاف کی جدوجہد تھی یا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا کہ جس میں جیسے ہی کوئی لاش میسر آئی اور گدھ جمع ہوگئے؟ یہ بات قابل فہم ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں جو ترمیم شدہ تصاویر اور ویڈیوز کو دیکھ کر واقعتاً پروفیسر کے لیے درد محسوس کر رہے ہوں اور ان کے لیے انصاف کے لیے کوشاں ہوں تو ایسے احباب سے گزارش ہے کہ ایسی کسی بھی خبر کے سامنے آنے پر تحقیق لازمی کر لیا کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   سیاسی آوازوں کو نہ دبائیں - یاسر محمود آرائیں

دوسرا واقعہ بھی کراچی ہی کے نقیب محسود کا ہے۔ اب ایک مخصوص طبقے کے بقول انہیں صرف اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ وہ پختون تھے۔ ثبوت کے طور پر ان کے گھر والوں کا بیان نشر کیا جارہا ہے کہ ان کا فرد معصوم تھا اور کسی بھی کارروائی میں ملوث نہ تھا۔ہمارا موقف ہرگز یہ نہیں کہ نقیب گناہگار تھا کیونکہ فرد جرم عائد کرنا میرا کام نہیں ہے لیکن گزارش اتنی ہے کہ اس قتل کو صوبائی اور لسانی تعصب کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔ کراچی یا ملک کے دیگر حصوں میں پولیس یا دیگر سیکیورٹی اداروں کی غلطیوں سے صرف نظر ممکن نہیں مگر سوشل میڈیا پر ہماری طرف سے ایسے جملے یا سٹیٹس جو تعصبات کو ہوا دیتے ہوں یقیناً دشمن کے لیے فائدہ مند اور وطن عزیز پاکستان کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

مزید برآں، یہ خارج از امکان ہے کہ قتل ہونے والا صرف پختون ہونے کی بنیاد پر قتل کیا جائے کیونکہ جس میڈیا نے اسے بے قصور دکھایا، وہی میڈیا اسے تحریک طالبان پاکستان جنوبی وزیرستان کا حصہ اور حب چوکی میں نیٹ ورک کا حصہ بھی بتا رہا ہے۔ اب اصل حقیقت تو خدا بہتر جانتا ہے مگر آپ سے اتنی گزارش ہے کہ اپنے جملوں اور تحریروں سے وطن عزیز پاکستان کی وحدت کو نقصان نہ پہنچائیں بلکہ اسے مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔