کیا اسلام لبرل نہیں؟ - وقاص احمد

دنیا میں اس وقت پچاس سے اوپر اسلامی ممالک میں موجود مسلم معاشروں کی حالت زار، عدل و قسط کی صورتحال، معاشی، معا شرتی اور سیاسی منظر نامہ دیکھ کر یہ سوال کچھ غلط نہیں لگتا۔لیکن ظاہر ہے، لبرلزم کا ایک علاقائی، علمی، فکری اور ثقافتی پس منظر ہے جو اس سوال کو متنازع بنا تا ہے۔ لیکن اگر لبرلزم کے لفظ کو اس کے تاریخی پس منظر سے جدا کردیا جائے تو یہ کہنے میں مجھے کوئی دقّت نہیں ہوگی کہ اسلام ایک لبرل دین ہے جو انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے لبریٹ یعنی آزاد کرتا ہے۔

انسان کو فلاح و ترقی پانے، پاکیزہ و منزہ رہنے، ذاتی، خاندانی اور اجتماعی زندگی میں نشو نما اور بلندی پانے کے لیے جتنی ضروری آزادیاں درکار تھیں، اسلام نے وہ سب اُسے عطا کردیں اور اسے سمجھایا کہ ان تمام نعمتوں کا، ذہنی اور فکری، جسمانی آسودگیوں کا شکر نہ صرف قلب و زبا ن سے بلکہ اپنے عمل سے بھی ادا کرو۔ اسلام نے اپنے دینِ کامل ہونے کے اعلان سےقبل اور بعد کے تمام ظالمانہ، غیر عادلانہ، غیر منصفانہ، نفس پرستانہ اور استحصال پر مبنی نظریات، قوانین رسم و رواج کا خاتمہ اور ابطال کردیا۔ آنے والے گیارہ، بارہ سو سالوں میں نظریاتی اور فکری طور پر واقعتاً کوئی ایسی فکر، تحریک یا نظریہ پیدا نہیں ہوا جو اسلامی فکرو نظر کی عظمت کے قریب بھی پھٹک سکے۔ مسلمان دنیا میں کہیں بھی جاتے تو ان کا تعارف خدا خوف، نیک، کھلے ذہن والے، روشن خیال، بندہ پرور، انسان دوست، ظلم مخالف اور عدل و انصاف کے داعی اور عامل کی حیثیت سے ہوتا۔

یہاں ضمناً عرض کردوں کہ اسلام نے ان لوگوں کے لیے بھی نہایت عقلی، منطقی اور عادلانہ اصول و قانون بھی فراہم کیے جو اسلام کو نہیں مانتےاور دینِ حق کا انکار کرتے ہیں۔

لبرلزم کی مغرب زدگی اور اس میں شامل ظلم کے نئے انداز و طریقوں کو اگر کچھ دیر کے لیے ایک طرف رکھ دیا جائے تو اس لفظ کے لغوی مطلب یہ ہے۔

برٹانیکا لکھتا ہے کہ’’ لبرلزم ایک سیاسی نظریہ ہے جسکی بنیاد انسان کی آزادی کا تحفظ اور اس میں اضافہ کرنا ہے۔ حکومت کا کام انسانی آزادی کی فراہمی اور اسکا تحفظ ہے۔ گو کہ کبھی ایسا ہوسکتا ہے کہ حکومت خود لبرلزم کے خلاف اقدامات شروع کردے۔‘‘ ’’ڈکشنری ڈاٹ کام ‘‘ اور دوسری ویب سائٹس پر بھی مفاہیم برٹانیکا سے مختلف نہیں ہیں۔ اب اگر یہ عرض کیا جائے کہ اسلام اور اسلامی حکومت ان معنوں میں لبرل ہی ہوتی ہے تو لبرلز اور اسلامسٹس دونوں کو ہی گراں گزرے گا اور ان کی یہ بات ایک حد تک بجا بھی ہوگی۔

اصل مسئلہ لبرل قدروں کے تعین کا ہے۔ ان قدروں کا تعین مذہبی اور سیاسی تاریخ کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ اسلام اور مغرب کی لبرل قدروں کا منبع اور مرکز تاریخی اور نظریاتی لحاظ سے انتہائی مختلف ہے۔ مغربی لبرلزم کی اساس عیسائیت سے نفرت و بیزاری اور طبعی قوانین سے فوائدفراہم کرنے والی سائنس ہے ۔ وہ سائنس جس نے لوگوں کو رب اور خالق سے قریب کرنے کے بجائے دور کردیا۔ جبکہ اسلامی ’’لبرلزم ‘‘ کی بنیاد اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کے نتیجے میں جنم لینے والی اطاعت و بندگی ہے۔ مؤمنِ حقیقی کا اسلام کے ذاتی زندگی سے لیکر اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں پر محیط عدل و قسط کے قوانین اور نظام پر بھروسے و یقین کی وجہ رسول اللہ ﷺ کی عدیم المثل سیرت اور ان پر نازل کردہ معجزاتی قرآن حکیم ہے جو معجزاتی طور پر سینہ بہ سینہ امت کو منتقل ہورہا ہے۔

سترہویں صدی سے مغربی طرز کی لبرلزم نے اسلامی طرز فکر کو چیلنج کرنا شروع کیا اسپر ستم کہ مغرب کا ایشیا اور افریقہ پر سیاسی قبضہ ہوا نتیجتاً اور آج علماء اور اس کی آڑ میں اسلام پر تیر چلانے والوں میں اہل مغرب ہی نہیں خود مسلمان بھی شامل ہیں۔ مگر با علم اور باشعور مسلمانوں کی اکثریت جانتی ہے کہ معاملہ کی وجہ اکیڈمک اور علمیت سے زیادہ، اسلامی اصول و مبادی کی دھجیاں اڑانے والی مسلمان عوام، کچھ ضمیر فروش علماء اور حکمران ہیں۔ جن کی وجہ سے سوالات اسلام کے کامل اور عظیم نظریات کے خلاف اٹھتے ہیں اور صالح علماء اور اسکالرز کو آئے دن میڈیا پر بڑھ چڑھ کے اور کھول کھول کر اسلام کے اصول و مبادی و نظریات اپنوں کو ہی سمجھانے پڑتے ہیں کیونکہ اپنوں میں سے بیشتر کے پاس انٹرٹینمنٹ، ٹاک شوز اور دیگر تفریحات کے لیے تو وقت ہے لیکن دین کو سمجھنے کا نہیں۔

اسلام نے چودہ سو سال پہلے انسانی حریت و مساوات و فلاح و ترقی کے جو اساسات ابد الآباد تک کے لیے انسانیت کو فراہم کیے ان کا موازنہ مجبوراً کرنا بھی پڑجائے توعقل انسانی ششدر رہ جاتی ہے اور روح متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ نیچے بیان کیے گئے ہر نکتے پر اساتذہ نے بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔ اولین تین نکات کا تعلق انسانی تاریخ کے تین طاقتور طبقات سے ہے۔ سیاسی، مذہبی اور کاروباری اسٹیبلشمنٹ جسمیں جاگیر اور سرمایہ دونوں شامل کرلیں۔

۱۔ پہلا احسان جو اسلام نے انسان پر کیا وہ یہ کہ اِس نظریے اور ڈاکٹرائن کے پرخچے اڑا ئے کہ حکمرانی کسی خاندان، کسی نسل یا کسی خاص طبقے کی ہی اجارہ داری ہے۔ شورائیت (اس ضمن میں بہت سے ذیلی اصول نکل سکتے ہیں) کے ذریعے حکمران و امیر چننےکا حکم دیا گیا جو شخصی اور انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ دین پر چلنے والااور دین کا وفادار ہو۔ دین سے وفاداری ہی ریاست و عوام سے وفاداری ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر دین اسلام نے وضاحت کے ساتھ امیر یعنی حاکم یعنی انتظامیہ کے عوام سے متعلق فرائض بیان کیے۔ حکومت اور عوام کے مابین تعلقات کی نوعیت اور ان دونوں کی ذمہ داریاں بیان کیں۔ اس موضوع پر علماء اور دینی اسکالرز کی کتب کا جس نے بھی مطالعہ کیا ہے، اور جس کسی کی بھی بادشاہتوں اور حکومتوں کی تاریخ پر نظر ہے اس پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے اسلام کی فکری اور نظریاتی تعلیمات حکمرانوں کو اللہ اور عوام کے سامنے کس حد تک جوابدہ بناتی ہیں۔ لوگوں کا کس حد تک خادم بناتی ہیں۔ انسانی تاریخ میں حکمرانوں نے جو جبر اور استبداد کا بازار گرم کیا اس سے کون واقف نہیں ہے۔ گاندھی کی انسانی تاریخ بشمول پوری ہندو تاریخ پر نظر تھی لیکن وہ اپنے وزراء کو الیکشن جیتنے کے بعد خلفائے راشدین کی ہی مثال دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔

قرآن میں ارشاد ہوا

وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں،۔۔۔۱الاعراف157

۲۔ ایک اور بوجھ اور طوق جو اسلام نے عام لوگوں پر سے اتارا وہ تھا مذہبی طبقے کا بوجھ۔ اسلام نے انسان اور رب کائنات کے درمیان حائل سارے پردے اٹھادئیے۔ اسلام نے بتایا کہ مخلوق اپنے خالق، اپنے رب، اپنے اللہ سے براہ راست رابطہ کر سکتی ہے۔ دین کا مناسب علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض کردیا۔ عالم بننے کے لیے بھی کوئی نسلی، خاندانی شرط حائل نہیں ہونے دی۔ دینی رسومات کے لیے کسی عالم اور مولوی کا موجود ہونا کوئی ضروری قرار نہیں دیا گیا اگر بندے کو اُس موقع کے حوالے سے فرائض و محرمات کا پتا ہو اور وہ اگر اسے بخوبی کرسکتا ہو۔ توبہ اور استغفار میں، دعا میں انسان اور اس کے رب کے درمیان دوسرے مذاہب کی طرح پائی جانے والے رکاوٹوں کو پاش پاش کردیا گیا۔

قرآن میں ارشاد ہوا

اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں ﴿186﴾ سورۃالبقرہ۔

(اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے ﴿53﴾ سورۃ الزمر

۳۔ تیسرا احسان جو اسلام نے انسان پر کیا وہ ہے اسے جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کے سود سے نجات دی۔ چاہے وہ زمین کا سود ہو یا سرمائے کا۔ سود جو خوشنما بھیس بدل بدل کر دنیا کو بے قوف بناتا ہے اسلام اس کے فوری قلع قمع کا حکم دیتا ہے۔ ہمیں اندازہ نہیں ہے کہ اگر یہ ہوجائے تو کھربوں ڈالر ز لے کر ہر کھرب پتی آدمی انویسٹمنٹ کے بجائے خود کاروبار کرتا نظر آئے۔ رسک لے کر خود اسے جذب کرے گا، لا محالہ کمپنیاں اور ادارے و قائم کرے گا اور لوگوں کو نوکری پر رکھے گا۔ اس پوری سائیکل سے ہوسکتا ہے کوئی کھرب پتی سے ارب پتی بن جائے لیکن لاکھو ں کروڑوں لوگ غربت کی سطح سے نکل آئیں گے۔ سود کا بھیڑیا انسانیت کا کیا حشر کرتا ہے یہ مغرب میں بھی کوئی راز کی بات نہیں ہے۔ Oxfam اور Davos کی رپورٹس پڑھ لیں۔ سود کا نام لیے بغیر وہ سود کی تباہ کاریوں اور دولت کے ارتکاز کا ہی رونا رو تے نظر آئیں گے۔

قرآن کہتا ہے

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ سودا بیچنا بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ تو جس شخص کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا۔ اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں (جلتے) رہیں گے ﴿275﴾ خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا ﴿276﴾ سورۃالبقرہ

یہاں میں پوچھتا ہوں کہ پاکستا ن کی وہ کونسی’’ لبرل ‘‘نتظیم ہے جو سود کے خلاف پاکستانیوں کو عملاً آگاہ اور خبردار کر رہی ہے؟ پاکستان میں بسنے والے انسانوں کو اس جبر اور استحصال سے نجات دینے کی کوشش کر رہی ہے؟

۴۔ پھر زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کا ایسا معاشی نظام دیا کہ جس پر اگر صدقِ دل سے عمل کیا جائے تو کچھ شک نہیں کہ کم از کم دنیا سے ذلت اور مجبور کردینے والی غربت ختم ہوجائے۔

۵۔ کمیونزم جب اسلامی نظریات کو چیلنج کرتا نظر آیا تو ہمارے ترقی پسندوں نے قرآن کھولنے کے بجائے 'داس کیپٹل' کھول لی اور ایسا پرچار کیا کہ روس سے ایوارڈ جیت لائے۔ اسلام نے انسان کی طبیعت کو جانچتے ہوئے اسے جتنی وہ چاہے پرائیوٹ پراپرٹی رکھنے کا حق دیا اور لوگوں اور حکومت کو اس کے احترام کا حکم دیا۔ وہ الگ بات ہے کہ روحانیت اور تزکیہ کے حوالے سے اس کی تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔

مضمون طویل ہورہا ہے باقی نکات اور اختتا میہ عنقریب پیش کروں گا لیکن یہ واضح رہے کہ حافظ ابن قیم فرماتے ہیں کہ’’ دین اسلام کے ہر حکم میں عدل پنہاں ہے۔‘‘ اور یہ بات پتا ہونی چاہیے دنیا میں بھی عدل وہ ہی کر سکتا ہے جسے کیس کا پورا پتا ہو۔ معاملہ کے ہر پہلو پر اس کی نظر ہو۔ تبھی ججز فیصلہ کرنے سے پہلے فریقین کی جانب سے سارے دلائل سنتے ہیں لیکن اللہ نے اگر انسانوں کے لیے کوئی فیصلہ اور کوئی اصول مقرر کیا ہے، کسی چیز کو حلال یا کسی کو حرام قرار دیا ہے تو یاد رکھئے وہ اللہ نے اپنے علم و حکمت کے مطابق کیا ہے۔ یہ کوئی سروے اور سائنفک ریسرچ یا کسی مفکر کا نظریہ نہیں ہے جس کا نتیجہ محدود و دستیاب معلومات اور ڈیٹا پر منحصر ہوتا ہے جس میں مستقبل میں مزید ڈیٹا اور معلومات ملنے پر تبدیلی آسکتی ہے اور غلطیوں کی تصیح ہو سکتی ہے۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.