خدا کا غیبی ہاتھ - ڈاکٹر محمد عقیل

ہمارے ہاں کچھ اسکالرز کا تصورایک ایسے خدا کے تصور سے ملتا ہے جو کائنات بناکر سات پردوں میں چھپ گیا اور جیتے جاگتے انسان کو قوانین قدرت کے بے رحم موجوں کے حوالے کردیا۔ ان کے تصور کے مطاق خدا ایک ایسی ہستی ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا، جو کبھی کبھی پیغمبروں کے ساتھ ہی نمودار ہوا، ماننے والوں کی مدد کی، کافرو ں پر قہر ڈھایا اور اس کے بعد سات آسمانوں سے اوپر چلا گیا۔ ان کے مطابق ایسا واقعہ آخری بار چودہ سو سال قبل ہوا تھا اور اب خدا سب کچھ اسباب و علل کے سپرد کرکے چلاگیا ہے۔ اب وہ دوبارہ قیامت کے وقت ہی نمودار ہوگا۔ اس سے پہلے اب وہ نہ کسی پر اپنا عذاب نازل کرتا، نہ کسی کو انعام دیتا، نہ کسی کو سزا دیتا اور نہ اسباب سے ماورا کام کرتا ہے۔ ان کے نزدیک خدا اگر مداخلت کرتا بھی ہے تو قوموں کے اجتماعی معاملات میں ان کی اخلاقی حالت دیکھ کر ان کے عروج و زوال کا فیصلہ کرتا ہے۔ البتہ فرد کے اعمال کی جزا و سزا کا اس دنیا میں کوئی امکان نہیں۔

دوسری جانب ایک روایتی نقطہ نظر ہے جو دوسری انتہا پر کھڑا ہے۔ یہ فرد کی ہر بیماری کو غیر مرئی گناہوں کا نتیجہ قرار دے کر اس کے علاج پر توجہ نہیں کرنا چاہتا، جو ہر سیلاب کو زنا اور چوری کا نتیجہ قرار دیتا،جو ہر زلزلے کے پیچھے چند رسمی عبادتوں میں کوتاہی کو اصل سبب سمجھتا ہے۔ اس اپروچ کے نتیجے میں بیماری، سیلاب، قحط، موسموں کی شدت وغیرہ کے پیچھے جو طبعی اسباب ہوتے ہیں انسان کو حل کرنے کی بجائے قدیم زمانوں کی طرح قربانی، عبادت اور دیگر طریقوں سے خدا کو خوش کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ حالانکہ خدا کی ناراضگی اگر ہو بھی تو اس کی کچھ مادّی وجوہات بھی ہوتی ہیں جن کو حل کیے بنا قدرت بھی رسپانس نہیں دیتی۔ خدا کے یہ دونوں تصور آج کے مذہبی انسان کے لیے دو انتہائیں ہیں اور بہت مایوس کن ہیں۔

آج کے انسان کے ذہن میں یہ سوالات جنم لیتے ہیں اگر سب کچھ دوا ہی نے کرنا ہے تو بیماری دور کرنے کے لیے خدا سے دعا کیوں کی جائے؟ اگر رزق کی فراہمی کے لیے ساری کوشش انسان ہی نے کرنی ہے تو خدا سے رزق کی التجا کیوں کی جائے؟ اگر کوئی حادثہ مادّی قوانین کے تحت ہی ہونا ہے تو اس سے بچنے کے لیے خدا سے مدد کیوں مانگی جائے؟

اس کا جواب ہمیں اسکالرز کی بجائے براہ راست قرآن سے پوچھنا چاہیے کہ آیا خدا آج بھی کائنات میں اتنا ہی فعال، متحرک اور ظاہر ہے جتنا وہ پیغمبروں کے دور میں ہوتا تھا؟ کیا خدا ایک عام انسان کی زندگی میں بھی اتنی ہی دلچسپی رکھتا ہے جتنی وہ قوموں کے معاملات میں رکھتا ہے؟ کیا خدا انسانی اعمال کی جزا و سزا صرف آخرت ہی میں دے گا یا وہ چاہے تو اسی دنیا میں انجام دکھا سکتا ہے؟ اگر ان سوالوں کا جواب اثبات میں مل جائے تو خدا کو ماننے والوں کا توکل کہیں بڑھ جائے گا، پھر زندگی ہمہ وقت خدا کی معیت میں گذرتی نطر آئے گی، پھر خدا کی شفقت ہر وقت چاروں طرف دکھائی دے گی، پھر گھٹاٹوپ اندھیروں میں بھی خدا پریقین کا نور امید کی کرن بنتا رہے گا۔ پھر خدا کے عذاب کو آخرت تک موخر کرنے کی بجائے اس دنیا میں بھی خدا کی سزا کی پہلی قسط نازل ہوتی دکھائی دے گی۔

آئیے ان سوالوں کو جواب قرآن سے تلاش کرتے ہیں۔ پورا قرآن پڑھنے کی ضرورت نہیں، محض ایک سورہ ہی ان باتوں کو اتنے واضح انداز میں بیان کرتی ہے کہ کہیں اور جانے کی ضرورت ہی نہیں۔

۱۔ اصحاب کہف کا سبق اصحاب کہف کا واقعہ مختصرا یہ ہے کہ چند نوجوان توحید پر ایمان لے آئے جو ان کے زمانے کے مشرکانہ مذہب کی خلاف ورزی تھی۔ انہیں خدشہ تھا کہ ان کی قوم انہیں مارڈالے گی۔ چنانچہ انہوں نے تہیہ کیا کہ کسی غار میں چھپ جاتے ہیں۔ انہوں نے اللہ سے امید لگائی کہ ہمارا رب اپنی رحمت پھیلائے گا اور ہمارے لیے کام میں آسانی پیدا کردے گا۔ یعنی ہمیں قوم کے ظلم و ستم سے بچائے گا۔ اس کے بعد اللہ نے انہیں قوم کے ظلم و ستم سے بچانے کے لیے کم و بیش تین سو سال تک وہاں سلائے رکھا۔ اس کے بعد جب وہ بیدار ہوکر اپنی قوم کی جانب واپس گئے تو حالات بدل چکے تھے اور ان کی قوم بھی اسی مذہب پر ایمان لاچکی تھی جس کے وہ ماننے والے تھے۔

اس واقعے کو دیکھیں تو کس طرح معجزانہ طور پر اللہ نے ان نوجوانوں کی مدد کی۔ دیکھا جائے تو یہ چند نوجوانوں کا واقعہ ہے اور کسی پیغمبر کا واقعہ نہیں۔ خدا کی مدد کا اس معجزانہ طریقے سے ظاہر ہونا یہ بتاتا ہے کہ خدا اہل ایمان کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو اس پر جتنا یقین رکھتا وہ اس کے لیے اتنا ہی اپنی رحمت کشادہ کردیتا ہے۔ البتہ اس کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے؟ اس کا تعین خدا اپنی حکمت کے مطابق ہی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اس دعا کی قبولیت اس طرح نہیں ہوئی کہ ان نوجوانوں کی قوم فورا ایمان لے آئی اور ان کے لیے حالات سازگار ہوگئے۔ ایسا ہونے میں تین سو سال کا عرصہ لگا اور اس دوران وہ نوجوان محو استراحت ہی رہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قسم کا معجزہ آج بھی نمودار ہوسکتا ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ خود سے محبت رکھنے والوں کے لیے کس قسم کے اقدامات کرے۔ البتہ اس طریقہ کار کیا یہی ہوگا جو اصحاب کہف کے معاملے میں ہوا؟ تو ایسا کہنا مناسب نہ ہوگا۔ خدا کے معجزے ہمیشہ حالات و واقعات کے پس منظر میں نمودار ہوتے ہیں۔ ایک اور سوال یہ ہے کہ اس قسم کا معجزہ ہونا کیا آج ممکن ہے کہ کوئی تین سو سال تک سوتا رہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ خدا کا معجزہ جب بھی نمودار ہوتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی دوسری مادّی توجیہہ بھی ممکن ہوتی ہے اور یہ بظاہر اسباب کے پردے ہی میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اس وقت جب یہ نوجوان تین سو سال کے بعد دوبارہ بیدار ہوکر قوم کی جانب گئے ہوں گے تو لوگوں نے اسی قسم کی باتیں کی ہوں گی جیسا کہ ایسے واقعے پر آج لوگ کرتے۔ کچھ لوگوں نے اسے طبعی قوانین کا معاملہ قرار دیا ہوگا، کچھ نے جادو کہا ہوگا، اور کچھ نے من جانب اللہ قرار دیا ہوگا۔ اسی طرح آج بھی بے شمار واقعات ہمارے ارد گرد اللہ کی تدبیر سے ہوتے رہتے ہیں جن کے بارے میں حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی کیا حکمت ہے؟

۲۔ باغ والوں کا قصہ دوسرا سبق اسی سورہ میں باغ والوں کے قصے سے ملتا ہے۔ دو افراد کے باغ بہت خوب پھل لارہے اور نفع دے رہے تھے۔ ایک دن زیادہ مالدار شخص اپنی برتری اور تکبر جتانے لگا۔ وہ کہنے لگا کہ میرا مال اور میرا گروہ تجھ سے زیادہ بہتر ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ سب کچھ برباد ہوسکتا ہے۔ اول تو قیامت آئے گی ہی نہیں اور اگر آئی بھی تو مجھے میرا رب اس سے بھی زیادہ دے گا کیونکہ وہ مجھے پسند کرتا ہے۔ اس کے ساتھی نے اسے سمجھایا کہ تکبر نہ کرو اور اپنے نفس کو خدا کے ساتھ شریک نہ کرو لیکن وہ باز نہ آیا۔ تو اس کے تکبر کے نیتجے میں اس کا باغ تباہ کردیا گیا۔ اسی قسم کا ایک مضمون سورہ ن میں بھی ہے جب باغ والوں کو عذاب دے کر ان کا باغ تباہ کر کردیا گیا تھا۔

یہاں خدا کا دوسرا روپ دکھائی دیتا ہے۔ جس طرح خدا اپنے چاہنے والوں کو محفوظ رکھنے کے لیے انہیں دنیا میں تین سو سال تک سلاسکتا ہے، اسی طرح متکبر اور اناپرست مالداروں کا غرور توڑنے کے لیے ان کو عذاب سے دوچار کرسکتا ہے۔ یہاں دیکھا جائے تو ایسا نہیں کہ یہ واقعہ کسی پیغمبر کے دور میں ہوا ہو۔ یہ دو عام لوگوں کا معاملہ ہے اور خدا نے اپنی حکمت کے تحت ان کو ان کے کیے کی سزا دی۔ اس سے یہ علم ہوتا ہے کہ خدا چاہے تو انسان کے برے اعمال کی سزا اسی دنیا میں دے سکتا ہے اور چاہے تو اسے آخرت تک موخر کرسکتا ہے۔ قرآن میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے کہ جو برائی بھی تم پر آتی ہے وہ تمہارے اپنے اعمال کے سبب ہوتی ہے۔ البتہ یہ کہنا کہ ہر برائی ہمارے اخلاقی اعمال کے سبب آئی ہے، کہنا مناسب نہیں۔ کسی کو بخار آگیا، کسی کا مال چور ہوگیا، کسی کو کوئی اور نقصان ہوگیا تو یہ کہنا کہ چونکہ نماز نہیں پڑھی اس لیے یہ ہوگیا، چونکہ زکوٰۃ ادا نہیں کی اس لیے یہ ہوا، درست نہیں۔ ہمارے بخار کے طبعی عوامل ہوسکتے، مال چوری ہونے کے سماجی اسباب ہوسکتے ہیں۔ ہر معاملے میں خفیہ ہاتھ تلاش کرنا ایک وہم ہے۔ البتہ دوسرا نقطہ نظر بھی مناسب نہیں کہ سب کچھ طبعی یا سماجی اسباب ہی کے تحت ہوتا ہے۔ عین ممکن ہے کوئی برا واقعہ کسی اخلاقی کوتاہی کے سبب بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ ان آیات میں بیان ہوتا ہے۔ اسی لیے انسان کو اپنا احتساب کرتے رہنا اور متنبہ رہنا چاہیے۔

۳۔ تیسرا واقعہ : موسیٰ و خضر کا سبق۔ یہ واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام وحضرت خضر کا ہے۔ حضرت خضر کےبارے میں اکثریت کا رحجان ہے کہ وہ خدا کے تکوینی نظام کے نمائندے اور فرشتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی ان سے ملاقات کرائی جاتی ہے تاکہ حضرت موسیٰ کو اس دنیا میں ہونے والے واقعات کے پیچھے خدا کا غیر مرئی نظام دکھایا جائے۔ اسے قران میں بیان کرنے کی وجہ بھی اسی باطنی نظام کے بعض پہلووں کو واضح کرنا ہے۔ اس واقعے میں تین کیس بیان ہوئے ہیں۔ پہلا کیس ایک کشتی والے کا ہے جس کی کشتی میں حضرت خضر سوراخ کردیتے ہیں، پھر ایک بچے کو قتل کردیتے ہیں اور پھر ایک بستی میں داخل ہوکر ایک گرتی ہوئی دیوار کو تعمیر کردیتے ہیں۔حضرت موسیٰ ظاہری حالت میں تمام واقعات کو لیتے ہوئے دو واقعات کو ظلم سے تعبیر کرتے اور ایک واقعے پر اپنے دیگر اعتراضات پیش کرتے ہیں۔

حضرت خضر بعد میں ان واقعات کی تعبیر کرتے ہیں کہ کشتی میں سوراخ کرنے کا مقصد ظلم نہیں بلکہ اس کے غریب مالک کو ظلم سے بچانا تھا۔ کشتیوں کو وہاں کا حاکم اپنے قبضے میں لے رہا تھا لیکن وہ ایک ٹوٹی ہوئی کشتی دیکھ کر اسے قبضے میں نہیں لیتا۔ یوں وہ غریب ایک بڑے ظلم سے بچ جائے گا۔ بچے کو قتل کرنے کی توجیہہ یہ بتائی کہ اس بات کا امکان تھا کہ بچہ بڑا ہوکر اپنے والدین کو برائی اور فتنے میں مبتلا کردیتا۔ اللہ کے تکوینی نظام نے چاہا کہ وہ ان کے والدین کو نہ صرف اس آزمائش سے بچائے بلکہ اس سے بہتر اولاد عطا فرمائے۔ والدین کے نقطہ نظر دے دیکھا جائے تو فوری طور پر یہ ایک حادثہ اور سانحہ ہے جو ان کے ساتھ وقوع پذیر ہوا۔ لیکن اسی بظاہر نظر آنے والے شر میں کیا خیر پوشیدہ ہے؟ اس کی فوری طور پر ان کو خبر نہ ہوگی۔

تیسر ا واقعہ یوں ہے کہ وہ دیوار دو یتیموں کی تھی اس کے نیچے ان کے والد کا خزانہ دفن تھا۔ ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا اور خدا نے چاہا کہ یہ خزانہ انہی دو یتیموں کو ملے جن کا وہ حق ہے۔ اس لیے گرتی ہوئی دیوار کو حضرت خضر نے اس بستی کی بدسلوکی کے باوجود تعمیر کردیا۔ یہاں دیکھا جائے تو اللہ نے اس نیک آدمی کے اچھے عمل کا پھل اس دنیا میں بھی دیا اور اس کے بچوں کو مالی مشکلات سے محفوظ رکھا۔ ان تینوں واقعات سے کئی اسباق نکلتے ہیں۔

۱۔ بظاہر نظر آنے والے ظلم اور شر کے پیچھے بعض اوقات بڑی خیر ہوتی ہے لیکن اس خیر کو سمجھنے کے لیے وقت اور حکمت درکار ہوتی ہے۔

۲۔ من جانب اللہ ہونے والے واقعات اسباب ہی کے پردے میں ظاہر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور عین ممکن ہے کشتی میں سوراخ کسی بھاری چیز کے گرنے سے ہوا ہو، بچے کی موت کسی طبعی بیماری یا حادثے ہی سے ہوئی ہو، دیوار کی مضبوطی کسی طبعی قوانین کی صورت میں نمودار ہوئی ہو اور دیکھنے والے کو علم ہی نہ ہو کہ یہ سب کچھ کسی خاص مقصد کے تحت ہورہا ہے۔

۳۔ یہ تینوں واقعات انفرادی ہیں یعنی یہ کوئی قوموں کا معاملہ نہیں بلکہ افراد کا معاملہ ہے۔یعنی ایسا نہیں کہ خدا کسی پیغمبر کے ساتھ ہی نمودار ہوا اور قوم کے ساتھ معاملہ کیا۔ یہ وہ معاملات ہیں جو روزمرہ ہر کسی کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔

۴۔ ان تین واقعات کے اسباب ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ پہلے واقعے میں آدمی کی غربت کی بنا پر اس کی کشتی کو بچایا گیا۔ دوسرے واقعے میں والدین کو بڑی آزمائش سے بچانے کے لیے چھوٹی آزمائش میں ڈالا گیا۔ تیسرے واقعے میں باپ کے اچھے اعمال کا صلہ اسے دنیا ہی میں دیا گیا۔

۵۔ سوال یہ ہے کہ آیا ہمارے ساتھ جب اس قسم کا واقعہ پیش آئے تو ہمیں کس طرح اسے سمجھنا چاہیے؟ سب سے پہلا اصول تو سمجھ لینا چاہیے کہ کسی واقعے کے پیچھے اصل کیا حکمت ہے، اس کو حتمی طور پر یا تو خدا جانتا ہے یا کسی حد تک وہ لوگ جانتے ہیں جن سے یہ کا م لیا گیا۔ حتی کہ موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر ان واقعات کی اصل توجیہ تک اس وقت تک نہیں پہنچ پائے، جب تک انہیں یہ سب کچھ نہ بتادیا گیا۔ جب حضرت موسیٰ کا یہ معاملہ ہے تو میں اور آپ تو کسی گنتی ہی میں نہیں۔ لہٰذا جب بھی اس قسم کا واقعہ ہمارے سامنے آئے تو سب سے پہلے ہمیں ظاہری اسباب کے تحت معاملہ کرنا چاہیے۔ البتہ بعض اوقات کوئی بڑا واقعہ ہوجاتا ہے اور انسان کا دل مطمئن نہیں ہوتا کہ ایسا کیوں ہوا؟ ایسی صورت میں حسن ظن رکھتے ہوئے خدا پر مکمل اعتماد رکھنا چاہیے کہ بظاہر شر نظر آنے والے واقعے میں کوئی نہ کوئی حکمت، کوئی بڑا خیر یا کوئی بڑا پیغام ہے۔ اس توجیہہ کو سمجھنے کے لیے پیروں اور فقیروں کی بجائے اہل علم سے رجوع کرنا چاہیے جو دین کے ظاہری پہلو کے ساتھ ساتھ اس کی حکمتوں پر بھی گہری نظر رکھتے ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاقی معاملات کو درست رکھا جائے اور دین کے ڈھانچے پر ہی نہیں بلکہ اس کی روح پر عمل کرکے عمل صالح کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ خدا پر یہی توکل، تفویض و رضا اچھی زندگی گزارنے کی علامت ہے۔

خلاصہ

۱۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ خدا اس کائنات کے تمام معاملات کے پیچھے کھڑا ہے اور اپنے فرشتوں کے ذریعے یہ تکوینی معاملات سرانجام دے رہا ہے۔

۲۔ وہ نہ صرف قوموں کے معاملات دیکھ رہا ہے بلکہ فرد کی پشت پر بھی کھڑا ہے۔

۳۔ کسی بھی فرد کے ساتھ ہونے والے معاملے کے پیچھے دو قسم کے اسباب ہوسکتے ہیں، ایک ظاہری اسباب اور دوسرے تکوینی اسباب۔ ظاہری اسباب کو قدرت کے قوانین کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ جبکہ تکوینی قوانین کے سلسلے میں خدا پر توکل اعتماد اور تفویض کرتے رہنا چاہیے۔

۴۔ اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ہم سے کوئی اخلاقی یا دینی معاملے میں کوتاہی تو نہیں ہورہی۔ لیکن اس معاملے میں حد سے زیادہ نہیں سوچنا چاہیے ورنہ انسان وہم میں ہی مبتلا رہتا ہے۔

۵۔ کائنات کا پورا مادہ مل کر بھی دنیا کا صرف چار فی صد ہے جسے ہم میٹر یا مادّہ کے طور پر جانتے ہیں۔ بقیہ چھیانوے فی صد یا تو ڈارک میٹر ہے یا ڈارک انرجی جسے آج کی ماڈرن سائنس ابھی تک سمجھ نہیں پائی۔ چنانچہ آج کی تمام سائنس صرف کائنات کا چار فی صد تجزیہ کرنے کے بعد وجود میں آئی ہے۔ عین ممکن ہے کل کو بقیہ میٹر تک انسان کی رسائی ہو اور وہ قدرت کے ان تکوینی قوانین میں سے کچھ کو سمجھ لے جن کے ذریعے خدا کا اتکوینی نظام بقیہ چار فی صد مادے یا کائنات کے ساتھ معاملات کرتا ہے۔ البتہ ہم قرآن اور دیگر آسمانی صحائف کے ذریعے اتنا تو جانتے ہیں کہ خدا نہ صرف قوموں بلکہ فر د کے معاملات میں بھی اس کی پشت پر کھڑا ہوتا اور اس کی اعمال اور نیت کے مطابق اس کے ساتھ معاملات کررہا ہوتا ہے۔

Comments

ڈاکٹر محمد عقیل

ڈاکٹر محمد عقیل

ڈاکٹر محمد عقیل سوشل سائنسز میں پی ایچ ڈی ہیں۔ آپ گذشتہ 21 سالوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ پچھلے 14 سال سے کالم نگاری اور تحقیقی مقالات بھی لکھ رہے ہیں۔ تزکیہ نفس آپ کی اسپشلائزیشن ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.