ففتھ جنریشن وار اور پاکستان - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

"پاکستان حالتِ جنگ میں ہے"۔ یہ فقرہ ہمارے ہاں روز مرہ کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ اب یہ اتنا عام ہے اور اس کا اس تواتر سے استعمال ہوتا ہے کہ اب تو بسا اوقات یہ بات سن کر وہ مطلوب سنجیدگی بھی پیدا نہیں ہوتی جو اس طرح کی تراکیب کے استعمال کا بنیادی مقصد ہوتی ہے۔

اس تناظر کے باوجود آپ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس بات کو ایک مرتبہ پھر کہہ سکوں کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ یہی نہیں، پاکستان اس حوالہ سے ایک فیصلہ کن مقام پر کھڑا ہے۔ فیصلہ کن اس لحاظ سے کہ کچھ فیصلے ہمیں کرنے ہیں جن کا اس جنگ کے حتمی نتیجہ سے گہرا تعلق ہے۔ لیکن پہلے چند باتوں کی وضاحت ضروری ہے۔

ہمارے ہاں حالت جنگ کا مطلب دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی سربراہی میں لڑی جانے والی وہ عسکری مہم لیا جاتا ہے جو 2001 سے مسلسل جاری ہے۔ اس کا دائرہ کار صرف ہمارے خطہ تک محدود نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ ہمارے خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے خاص کر افغانستان میں اس نے ہمیں براہ راست متاثر بھی کیا ہے اور ہمیں اس میں عملی طور پر شامل بھی کر رکھا ہے۔ تاہم یہ جنگ اس بڑے معرکہ کا صرف ایک حصہ ہے جس کا ہمیں اصل میں سامنا ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا دو بڑے متحارب بلاکس میں تقسیم ہو گئی۔ اشتراکی بلاک کی قیادت سوویت یونین کے ہاتھ میں تھی اور مغربی یا سرمایہ دارانہ نظام کی قیادت امریکہ کے پاس۔ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی اور ہلاکت خیزی نے دونوں سوپر طاقتوں کے مابین روایتی جنگ کے امکانات کو بہت کم کر دیا لیکن اس نے باہمی کشمکش کی ایک نئی جہت کو جنم دیا جسے ہم "سرد جنگ" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس جنگ کی دو خصوصیات تھیں۔ بین الاقوامی جاسوسی نظام میں عدیم النظیر وسعت اور دوسرے کے ملک یا مفادات کے خلاف خفیہ کارروائیوں پر بڑھتا ہوا انحصار۔ اس مقصد کے لیے حریف کے ملک میں اسی کے باشندوں میں اپنے حلیف تلاش کرنا بنیادی عمل تھا۔ ایسا حلیف جو پالیسی سازی، اس پر عمل درآمد یا پھر کسی بھی تخریبی کارروائی میں ممد و معاون ثابت ہو سکے۔

پہلے ویتنام اور پھر افغانستان میں اس حکمت عملی میں ایک نیا عنصر سامنے آیا جو پہلے بھی کسی نا کسی حد تک موجود تو تھا جیسا کہ ہم مشرق وسطی، لاطینی امریکہ، افریقہ کے چند ممالک اور ایران میں بھی مختلف اوقات میں دیکھ چکے تھے، لیکن ان دو جنگوں نے اسے ایک باقاعدہ شکل دے دی۔ یہ بظاہر باقاعدہ جنگ جیسی ہی صورت تھی لیکن اس میں ایک کلیدی فرق تھا۔ اس جنگ میں ایک فریق تو اپنی فوج کی مدد سے لڑائی میں حصہ لیتا تھا جبکہ دوسرا فریق، خود سامنے آئے بغیر، بظاہر غیر منظم گروہوں کی مدد سے اس جنگ میں شامل رہتا تھا۔ ان گروہوں کو کسی نظریاتی نعرہ پر یکجا کیا جاتا اور پھر اس کو اسلحہ، تربیت اور آپریشنل پلاننگ کی سطح پر بھرپور لیکن خفیہ مدد فراہم کی جاتی رہی۔ ہدف یہ تھا کہ اسے براہ راست دو طرفہ ٹکراؤ سے بچاتے ہوئے مخالف کو ہزیمت سے دو چار کیا جائے۔ اسے "فورتھ جنریشن وارفئیر" کا نام دیا گیا۔ اس کا عمومی پلان کچھ یوں ہوتا ہے کہ موجود اتھارٹی کے خلاف باغی نمودار ہو جاتے ہیں اور مسلح کارروائیوں کے ذریعہ ریاست کا نظم اور نظام چیلنج کرتے ہیں۔ ان کی کچھ "جائز" شکایات ہو سکتی ہیں، احساس محرومی کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے، یا پھر یہ کسی انقلاب کے سنہرے خوابوں سے عبارت معاملہ ہوتا ہے۔ پہلی افغان جنگ کے بعد جب سوویت یونین کا انہدام ہو گیا تو "القاعدہ" کی صورت ایک ایسا عنصر عالمی افق پر نمایاں ہوا جس نے مسلم نشاۃ ثانیہ کے نام پر مختلف ممالک میں مسلح جدوجہد کی داغ بیل ڈالی۔ اس کا اگلا مرحلہ "داعش" کی شکل میں سامنے آیا جو القاعدہ سے کہیں زیادہ شدت پسند اور تباہ کن تھا۔

معاملہ یہاں رُکا نہیں اور فورتھ جنریشن وارفئیر کے ساتھ ہی اس سے بھی زیادہ ہمہ گیر "ففتھ جنریشن وارفئیر" کا تخیل بھی عملی صورت میں سامنے آتا گیا۔ اس جنگ میں باقاعدہ فوج کا عنصر پیچھے چال جاتا ہے اور سوشل میڈیا اس کی جگہ فرنٹ سیٹ سنبھال لیتا ہے۔ اس جنگ کا ہدف بھی ریاست ہوتا ہے لیکن اس کا دارومدار اسی ریاست کے عوام پر ہوتا ہے جن پر "پروپیگنڈہ کی یلغار" کے ذریعہ اثر انداز ہونے کی کوشش ہوتی ہے۔ بنیادی نکتہ یہ ہوتا ہے کہ عوام کو باور کروایا جائے کہ ان کی تمام تر مشکلات بس کسی ایک فیکٹر کی وجہ سے ہیں اور وہ راہ سے ہٹ جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ پھر اس فرسٹریشن کو اس قدر ہوا دی جائے کہ وہ اس کے خلاف اٹھ ہی کھڑے ہوں، یا کم از کم بھی اس سے خود کو علیحدہ کر لیں۔ اس مرحلہ پر ان کے ساتھ وہ گروہ بھی آن ملیں جن کا ذکر فورتھ جنریشن کے ضمن میں ہوا تاکہ ان کو ایک بازوئے شمشیر زن بھی میسر آجائے اور یوں ایک ایسی تباہی کا راستہ کھلے جو ملک اور اس کی اتھارٹی کو مفلوج کر کے رکھ دے۔ امریکہ میں خود امریکہ کے متعلق ففتھ جنریشن وارفئیر کی اسٹڈیز میں "فوج" کو وہ عنصر تسلیم کیا گیا ہے جس کی اگر عوام کی مدد سے کمر توڑ دی جائے تو ریاست منہدم ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ہی نہیں، یہ بات سب ممالک کے لیے درست ہے۔ ریاست کو لاحق خطرات کی صورت فوج سب سے قابل بھروسہ دفاعی لائن ہوتی ہے۔ اسے ہی اگر پہلے ہلّے میں ناکام کر دیا جائے تو باقی اہداف کا حصول نہایت سہل ہو جاتا ہے۔

امریکہ میں صدر ٹرمپ کی آمد اور ان کی پالیسیوں سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ دنیا میں جغرافیائی، سیاسی اور جیو اسٹریٹجک تبدیلیوں کا ایک ہنگامہ خیز سلسلہ شروع ہو چکا۔ ہمارے خطہ میں ان تبدیلیوں کا ہدف چین اور ہندوستان ہیں لیکن اس کے تمام تر منفی اثرات کا سامنا پاکستان کو کرنا ہو گا۔ پاکستان کی ہندوستان کے ساتھ مخاصمت اور چین کے ساتھ قرابت اس کی بنیادی وجہ ہے۔ اس پر مستزاد پاکستان کا جوہری پروگرام جو مسلم دنیا کا واحد بچ رہنے والا جوہری پروگرم ہے۔

پاکستان نے ماضی میں بیرونی دباؤ کے سامنے خاصی برداشت کا مظاہرہ کیا ہے۔ غالباً اسی لیے اس وقت پاکستان پر متعدد جہات سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، خاص طور پر داخلی محاذ پر۔ فوج اس کا اولین ہدف ہے اور اس کے بعد خود حکومت اور دیگر ریاستی ادارے بھی، جیسا کہ سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈہ مہم جس کا ہدف فوج، حکومتی شخصیات اور عدلیہ ہیں۔ نیز حکومت کو مفلوج کرنے والے اقدامات، بشمول یکے بعد دیگرے دھرنے اور احتجاج۔ عوامی سطح پر کنفیوژن کو فروغ دینے کے لیے علاقائی، مذہبی اور نظریاتی مباحث اور تعصبات کو ہوا دی جا رہی ہے۔ فوج کا معاملہ یہ ہے کہ دہشت گردی کا معاملہ ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا، ساتھ ہی فوج کو مشرقی اور مغربی سرحدوں سے بیک وقت ایک مسلسل جنگ کا سامنا ہے جس میں جانی نقصان کے علاوہ مختلف حوالوں سے ساکھ کا نقصان پہنچانا بھی مطلوب ہے اور فوج کی رد عمل کی صلاحیت کو کمزور کرنا بھی۔ یعنی فوج کو مسلسل انگیج کر کے تھکا دیا جائے، کنفیوز رکھا جائے۔

یہی نہیں، اندرونی سیکیورٹی میں فوج کی موجودگی اور پھر مبینہ طور پر سیاسی معماملات میں اس کی مداخلت نے بھی فوج مخالف پروپیگنڈہ کو بہت سپیس فراہم کی ہے۔ نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ ملک میں ہونے والے کسی بھی واقعہ کا الزام فوج پر دھر دیجیے اور عوام کا ایک طبقہ بغیر کوئی سوال یا تحقیقات کا مطالبہ کیے اسے من و عن قبول کر لے گا۔ یہ نہایت خطرناک علامت ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ فوج کی جانب سے ملک میں دہشت گردی ختم کرنے کے لیے دی گئی لازوال قربانیاں پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور متنازع باتیں ہر وقت میڈیا پر گردش کرتی رہتی ہیں۔

یہی وہ فیصلہ کن موڑ ہے جس کا تذکرہ اس مضمون کے آغاز میں ہوا۔ ہمارے لیے سب سے اہم ترجیح فوج کو منفی پروپیگنڈہ سے محفوظ رکھنا ہونا چاہیے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے داخلی سیکیورٹی سے فوج کی واپسی اور سیاسی معاملات، بشمول خارجہ پالیسی اور پالیسی بیانات میں فوج کا اس قدر اعلانیہ "فٹ پرنٹ" کم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ فوج کو ایک فوری ہدف بننے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ فوج کی ساکھ محفوظ رہے گی تو اس کا مورال اور عوام کے دلوں میں اس کی محبت بھی برقرار رہے گی۔ ففتھ جنریشن وارفئیر کا طریق ایسا ہے کہ بظاہر شکاری نظر آنے والا درحقیقت خود شکار ہوتا ہے۔ آپ دیکھ لیجیے، ماضی میں اگر سول حکومت کو فوج ہٹاتی رہی ہے تو فوجی حکمرانون کو کون ہٹاتا رہا ؟ وہی شکاری اور شکار والی بات۔ پہلے کیس میں بظاہر شکاری دوسرے میں خود شکار ہو جاتا ہے۔ یہی کچھ صدام کے ساتھ کویت والے قصہ میں ہوا۔ اس لیے پہلے قدم سے گریز لازم ہے کیونکہ یہ دراصل خود اسی کا ہانکا لگانے کی ابتدا ہوتی ہے۔

ہمارے کیس میں معاملہ صرف فوج کا ہی نہیں۔ حکومت پر بھی گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ ففتھ جنریشن وار کے متعلق ایک کہاوت بہت مشہور ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جسے جیتنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے لڑا ہی نہ جائے۔ یعنی ان فیکٹرز کا تدارک پہلے ہی کر لیا جائے جن کو بنیاد بنا کر عوام میں نفرت اور بے چینی پیدا کی جاتی ہے۔ معاشی ترقی اور حکومتی بندوبست میں عوامی شمولیت اس میں تریاق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سی پیک کی اس قدر شدید مخالفت بھی اسی وجہ سے ہے کہ پاکستان اس پھندے سے نکل نہ جائے۔ لیکن یہ بات صرف ایک سی پیک کی نہیں، پاکستان کے سیاست دانوں، اداروں اور عوام کو بہت بالغ نظری سے اس صورتحال کے لیے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور دفاعی پلاننگ کرنا ہوگی۔ سیاسی کشمکش ہو یا ادارہ جاتی، ایک دوسرے کو زیر کرنے کی پالیسی پاکستان کو اس دلدل میں مزید اندر دھنسا دے گی۔ یاد رہے، اس جنگ میں خود کو شکاری سمجھنے والے دراصل خود کسی اور کا شکار ہوتے ہیں۔ بردبارانہ فیصلے ہی اس جنگ میں پاکستان کو فتح یاب کر سکتے ہیں۔ اس اہم موقع پر ہمارے قدم اکھڑنے نہ پائیں۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں