سانحہ قصور اور ہماری سماجی ذمہ داری - سعدیہ نعمان

جب سے قصور والا واقعہ منظر عام پر آیا ہے ہر دل بے قرار اور ہر آنکھ اشک بار ہے۔ ایسے واقعات میں فوری رد عمل کے طور پر غم وغصہ اور انتقام واشتعال کی فضا کا پیدا ہونا کسی حد تک فطری ہے لیکن ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا کہ بحیثیت مجموعی ہم ایک جذباتی قوم ہیں جو وقت کے ساتھ مدھم پڑ جاتے ہیں اور یوں بڑے سے بڑا سانحہ بھی ماضی کی گرد بن جاتا ہے اور ہم کسی اگلے سانحے کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔

ہمارے ساتھ ایک اور المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے غم اور غصہ کو طاقت نہیں بناتے اس کی سمت کا تعین نہیں کرتے پھر اس منتشر طاقت کو جس کا جی چاہتا ہے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور ہم تقلید کی رو میں بہے چلے جاتے ہیں بھیڑ بکریوں کا ریوڑ بن جاتے ہیں جس کو کوئی بھی کہیں بھی ہا نک لےجائے۔ یوں ہم کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر ہی بند گلی کے آخر میں پہنچ کے واپس پلٹ آتے ہیں۔

اپنے مذہبی سیاسی قائدین کا احترام ضرور کیجیے لیکن ان کی اندھا دھند تقلید مت کیجیے، آنکھیں کھول کر چلیے، غلط کو غلط کہنے کی جرات پیدا کیجیے۔

احتجاج کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں سترہ، اٹھارہ برس کے نوجوان ہاتھوں میں ڈنڈے بلند کیے نعرے لگا رہے تھے لیکن ساتھ اٹھکیلیاں اور ہنسی مذاق چل رہا تھا ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھمانے کی بجائے ان کے ساتھ اگر awareness session کیا جاتا تو شاید وہ اس واقعے کی سنگینی کو بہتر طور پر جان پاتے۔

اگر اس دوران میڈیا منفی رویہ اور نا معقول انداز اختیار کرتا ہے تو اس کا بائیکاٹ کیجیے۔ ایک اینکر پرسن اگر بار بار غم سے چور والد سے اس قسم کے سوال کرتا ہے کہ آپ واپسی کے سفر کا بتائیے، کیا احساسات تھے؟ کیسے یہ سفر گزرا بیٹی کی خبر سننے کے بعد ؟ پھر سے بتائیے … تو اس میڈیا پرسن کی عقل پر شک ہوتا ہے آخر زخموں کو کریدنے اور تکلیف بڑھانے سے کیا ملتا ہے؟ صرف ریٹنگ کی خاطر؟ بہت گھٹیا پن ہے یہ !

قصور کیس کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لیں تو مجرم کی درست نشاندہی اور قرار واقعی سزا پر ہمیں فوکسڈ رہنا ہو گا جب تک مطلوبہ نتیجہ نہ ملے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں سر جوڑ کے بیٹھنا ہو گا یہ سوچنا ہو گا کہ ایسے سانحات کا پس منظر کیا ہے ؟ کیوں بار بار ہمیں ان حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ؟ ہم ایک ایک کر کے اپنے الجھی ہوئی ڈوریں سلجھا کیوں نہیں پاتے ؟

حکومتی اہلکار، والدین، عزیزواقارب و رشتہ دار، خاندان کے سرپرست بزرگ، محلہ کی مساجد کمیٹیاں، میڈیا گروپس، سوشل میڈیا گروپس، علمائے کرام، ملک کا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ، اساتذہ کرام، سیاسی قائدین، اصلاحی تنظیمیں وغیرہ، ان سب کو اپنا کردار متعین کرنا ہو گا واضح پالیسی بنانا ہو گی۔ نوجوانوں کے لیے مثبت اور تعمیری سیشن رکھنا ہوں گے، ان کی توانائیاں مثبت سمت میں لگانے کے لیے انہیں تعمیری سرگرمیاں دینی ہوں گی، درست اور غلط کی تمیز گھر کے ادارے سے شروع کرنا ہوگی۔ اس کے لیے والدین کو گھریلو یونٹ مضبوط بنانا ہو گا۔ خداخوفی کی بنیاد پر اٹھنے والے معاشرے میں برائی اس تیزی اور خطرناک طریقہ سے نہیں پنپتی۔ ہمیں اپنی اصل کی طرف لوٹنا ہو گا تاکہ ہماری نسلیں محفوظ رہ سکیں۔ صلٰوۃ کے نظام کو قائم کرنا ہو گا کہ نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔

میڈیا کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے ہم سب عوام ہی مجبور کر سکتے ہیں لیکن وہ اپنے طے شدہ ایجنڈے سے کیونکر انحراف کریں گے؟ لہٰذا سوشل میڈیا کے ذریعہ بیداری وشعور آگہی اور علم کی ترویجی مہمات چلائی جائیں، ماہر نفسیات کے ذریعہ ذہنی بیماریوں کاعلاج بتایا جائے۔ مزید بھی بہت کچھ ممکن ہے بس ہم سب کو اپنے اختلافات بھلا کر اپنے پھولوں کی حفاظت کے لیے متحد ہونا ہو گا اور اپنے اپنے حصہ کا کردار ادا کرنا ہو گا۔

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.