سترہ ساون سہی - دعا عظیمی

ماگھ کی پانچ اور انگریزی کی سترہ تاریخ تھی، اس روز وہ ملی تھی پھرپتہ نہیں کہاں کھو گئی وہ؟ تھی ہی ایسی جہاں ہوتی نہیں ہوتی تھی اور جہاں نہیں ہوتی وہیں ہوتی تھی۔ لگتا تھا اس پہ اس کا اپنا اختیار بھی نہیں تھا، اتھری گھوڑی کی طرح، پر میری منگ تھی وہ۔

میں نے دیکھا سانس پھولا ہوا تھا، لہلہاتی فصلوں کے بیچوں بیچ بنی وٹ پر تین رنگوں کی چنری اوڑھے الجھی لٹ سلجھاتی، پھریری بھرتے بھاگی جا رہی تھی۔ بھلا ایسے کیسے جانے دیتا؟ وینی نہیں مروڑ سکتا تھا راستہ تو روک سکتا تھا۔ الہڑ مٹیار جو نہ اپنی تھی، نہ میری۔ پر مجھے شبہ تھا وہ میری ہی ہے، ورنہ مجھے دیکھ کے شرماتی کیوں؟ من چاہتا میں اسے دیکھوں اور وہ شرما کےنہ بھاگے، میرے گلے لگ جائے۔ ہاڑ کی سترہ تک بڑی رتیں بدلنی تھیں پھر دہلیزسجنی تھی۔

اے سن ہیرے! میں نے ایک دم شارٹ کٹ مارا اور اس کے عین سامنے پہنچ گیا۔ پہلے تو ڈر گئی جیسے چیل کو دیکھ کے چوزہ۔ اے! کچھ نہیں کہتا تجھے، سانس لے۔

اچھا، موتیوں جیسے دانت چھپاتی بولی "پتہ ہے مجھے تو نے کیا کہنا،بول کہاں جا رہی بھاگی بھاگی،راستہ چھوڑ۔ وہ چلی جائيں گی ساری کی ساری، کون سکھیاں تیری، ہاں! تجھے پتہ ہے میں کہانیاں لکھنے لگی ہوں جیسے سلمے ستارے سے سرہانوں کے غلافوں پرکشیدہ کا ڑھتی تھی ناں ہاں ریشمی رومالوں پہ نام بھی۔

مجھے لگتا تھا وہ ریشمی رومالوں پہ میرا نام کاڑھا کرتی تھی اور مجھے نہیں دیتی تھی کہیں چھپا دیتی تھی بڑے صندوق میں رکھے کا غذ کے نیچے، شمو اس کی سہیلی اور میری بہن تھی جس نے سب بتایا تھا۔

شہر کے رسالے میں چھپنے لگیں میری کہانیاں، اس کی آنکھوں میں فتح کی نرالی خوشی تھی ایسی خوشی جیسے بےبے کی آنکھوں میں تب چمکتی جب وہ چاٹی میں مدھانی ڈالتیں، بلو کر مکھن کا پیڑہ بناتیں۔

ہٹ مجھے جانےدے ساری عورتیں چلی جائیں گی۔ جب وہ اپنے ہاتھ سے بنائے کاسٹک سوڈاوالے دھات کی بڑی سی کڑاہی میں بنے صابون سے کپڑےملتی ہیں ناں، ساتھ ساتھ دل کے روگ بھی ملتی ہیں اور جب ندی کے بہتےپانی سے کپڑے دھوتی ہیں تو من کا میل بھی دھوتی ہیں۔ تب ہی واپسی پہ تازہ دم ہو جاتی ہیں۔ کہنے لگی اس لمحے اس میل کو اپنے دل کی گڈوی میں بھر لاتی ہوں اسے چھانتی ہوں بلوتی ہوں اور کہانی کا پیڑہ نکالتی ہوں۔

اس کی الجھی لٹ کیسے سلجھے گی، جانے کیا کرتی پھرتی ہے؟ کہا تھا نا اماں نے ماسی کو اسے نہ پڑھا۔ کوئی نیا چن چڑھائے گی، میرے دل میں وہم کے سانپ نے پھن نکالا۔

وہ مجھے دھکا دیتی یہ جا وہ جا، میں سوچتا رہ گیا۔ جانے کیوں مجھے لگا میری ہیرے اس دنیا کی سب سے سوہنی مٹیار ہے سچی تلے کی تار جیسی، کھلتے کپاس کے پھول کی طرح،اسے ہیرے کی لونگ بنوا کے دوں گا، لشکارے مارتی پھرے گی۔ میرے پیار میں ساری کہانیاں بھول جائے گی۔ جب سے کہانی کی بات پتہ چلی دل وسوسوں سے اٹ گیا تھا جیسے کچی سڑک پر سے ٹرک گزرے تو پیچھے دھول ہی دھول چھوڑ دے۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ وہ خود کو ڈھونڈتی بہت دور نکل گئی۔ اسے لگا اس کی کہانی میں میرا کردار کہیں تھا ہی نہیں۔ وہ کہتی تھی ابھی اسے اور بہت کچھ کرنا ہے، شناخت میرا گھر بسانےسے زیادہ ضروری ہے۔ پھر شناخت کی کہانی نے دیکھتے دیکھتے محبت کی کہانی کو ڈس لیا تھا۔

سترہ ہاڑ نہیں آئی، پھرانتظار کی رت لمبی ہوتی گئی۔ پہلے پہل وہ شہر تک گئی، پھر اگلے شہر، پھر وہ باہر کے ملک چلی گئی۔ رابطے تو دل سے ہوتے ہیں، میرا دل مانتا ہے آج یا کل وہ میری محبت کی چھپر چھاؤں میں لوٹ آئے گی۔

ماسی، اس کی ماں بھی یہی کہتی کہ ایک دن ہیرے اپنی شناخت بنا کر لوٹ آئے گی، گاؤں کی ندی، اس کا میلا پانی انتظار میں ہے کہ کب وہ آئے اور اپنے دل کی گڑوی میں سارے دکھ بلوئے۔

میرا دل چاہتا ہے میں بھی اپنے دل کا سارا میل اس ندی میں دھو ڈالوں، پر مرد ہوں ناں! اپنے دکھ کا بوجھ اپنے کاندھے پہ ایسے اٹھاؤں گا کہ ساتھ والے کو خبر بھی نہ ہو۔ بہت سے بہی کھاتے کھلے پڑے تھے، جن کا حساب دیکھنا باقی تھا۔ کبوتر اڑ رہے تھے کسی کبوتر کے پنجے میں کوئی سندیسہ نہیں تھا۔

پھر بہت سی کتابوں کے ساتھ ہیرے لوٹ آئي۔ وہ تو بالکل نہیں بدلی تھی، پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگئی تھی، میراثی ڈھول بجا رہے تھے، موتی چور کے لڈو اور مٹھائی بنائی جا رہی تھی۔ آخر چوہدری کےبیٹے کے سر سہرا سجنے والا تھا۔ ہیرے پیلے کپڑوں میں سرسوں کا پھول بنی مسکراتی جا رہی تھی۔ کہانی کا اختتام خوشگوار تھا۔ سترہ ہاڑ نہ سہی سترہ ساون سہی۔

Comments

دعا عظیمی

دعا عظیمی

دعا عظیمی شاعرہ ہیں، نثرنگار ہیں، سماج کے درد کو کہانی میں پرونے کا فن رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے سوشل سائسنز میں ماسٹر کیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.