تائی بیسو (1) - سائرہ ممتاز

" تائی بیسو کو خواب میں زیارت ہوئی ہے۔ "خالہ نے اسے بتایا

یہ بات قطب جنوبی والی سائیڈ پول تھی جس نے اسے کھینچ کر قطب شمالی کی طرف دھکیلا مقناطیس کا نارتھ پول گویا ساؤتھ پول کی طرف خودبخود کھنچتا گیا۔

اس کے دل میں ہوک سی اٹھی اور وہ ہوک اسے اٹھا کر دادی بیسو کے گھر لے گئی۔ گھر کیا تھا، محکمہ اوقاف کی طرف سے دیا گیا ایک انیس سو بیس میں تعمیر شدہ کرشنا مندر تھا۔ کوئی سو سال پرانا ہو چکا کرشنا مندر جہاں افریقی ناک نقشے والی ہریانہ سے آئی دادی بیسو اپنے ٹبر کے ساتھ قیام پذیر ہوئی تھی۔ رنگت سیاہ کالی تو نہ تھی جسے شب دیجور کہا جا سکے لیکن اگر کوئی رنگ گندمی کالا ہو سکتا ہے تو پھر دادی بیسو کا رنگ گندمی کالا تھا۔ ان کے شوہر بابا امین کو اس نے ہوش سنبھالتے ہی بڑے کا گوشت کرتے دیکھا، کبھی کبھار چھوٹا بھی کر لیتے۔ ان کے ہاں اوپر تلے پانچ بیٹے اور یہی کوئی پانچ چھ بیٹیاں ہوئیں جن میں سے تین بچے بچپن میں ہی مر گئے تھے۔ اس کے محلے میں قصائیوں کی لڑائیاں جنگ پلاسی اور پانی پت کی جنگ کی طرح مشہور تھیں۔ کرشنا مندر میں اکیلی تائی بیسو تو نہیں آئیں، ان کے ساتھ ان کی دیورانی اور ان کے بچے بھی تو آئے تھے۔ جب تک وہ دنیا میں آئی ان کے بچوں کی شادیاں ہو چکی تھیں بس دادی بیسو کے سب بچوں کی شادیاں اس کے ہوش میں ہوئیں۔ تو خیر وہاں پاٹھ شالہ بھی تھی جہاں بیٹھ کر کبھی پنڈت پجاری ہرے کرشنا ہرے رام کہتے ہوں گے یا پھر

ہاتھی گھوڑا پالکی

جے کنہیا لال کی

جے بہاری لال کی

جے ہو نند لال کی

وہاں اب بے تحاشا بھیڑیں دنبے اور چکی والے لیلے بھرے رہتے یا ان کی مینگنیاں اور ان کے پیشاب کی بدبو… آگے صحن میں درمیانی دیوار اٹھا دی گئی تھی جس سے اندر پاٹھ شالہ سے باہر مین گیٹ تک مندر دو برابر حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ پجاریوں کے تین کمرے اوپر چڑھتی سیڑھیاں جن سے اوپر جاتے ہی دو کمرے یاتریوں کے لیے تعمیر شدہ معلوم ہوتے تھے اور دائیں جانب سیڑھیوں کے اختتام پر بنی سادہ طرز کے پرانے تعمیر شدہ باتھ روم لیکن ان کی تعمیر عجیب تھی وہ ایسے نہیں بنے تھے جیسے مسلمان بناتے ہیں بلکہ کچھ الگ طرز تعمیر تھا جس سے مہتر، مہترانیوں کو صفائی کرتے ہوئے بھی گندگی کا احساس نہ ہوتا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   ماں جی کے مہمان (2) - فرح رضوان

یہ حصہ ان کی دیورانی کا تھا اور وہ جہاں کلس والا مندر تھا جس کے اندر بنی مورتیوں پر دادی بیسو نے اپنے ہاتھوں سے ریت اور سیمنٹ کا لیپ کر کر کے اس جگہ کو نماز پڑھنے لائق بنایا تھا اور اس کے بعد پاٹھ شالہ کا بڑا کمرہ جس کے اندر دادی بیسو والے حصے کی طرف افقی طرز پر دو کمرے بنے تھے۔ عجیب بات تھی کہ دادی کے سب بچے مندر میں پیدا ہوئے پلے بڑھے لیکن اس کے ابا کی بڑی ممانی اس کی نانی اور اس کی دادی سب بوڑھی عورتیں مندر کو منحوس کہتی تھیں اور اس کے بارے طرح طرح کی کہانیاں مشہور تھیں۔

اس محلے میں کوئی قصاب تھا کوئی لوہار کوئی ٹین کوٹ مشہور تھا، کوئی پاؤلی تھا، کوئی دھوبی اور میاں جی کا خاندان بھی وہیں رہتا تھا جو ذات کے گوندل تھے اور جن کا خاندان بچوں کو قرآن پڑھانے کے حوالے سے مشہور تھا۔ اسے دادی بیسو سے عجیب سا قلبی لگاؤ تھا اس کی وجہ بھی بس نامعلوم سی تھی شاید ان کی ہریانوی بولی یا پھر ہو سکتا ہے کوئی اور بات ہو…. جو اس کے چیتے نہ آتی ہو کیونکہ اس کے والد اپنے بیوی بچوں کو اپنے ساتھ حیدر آباد کے جا چکے تھے اور وہ جب وہاں سے آتی تو دادی بیسو کی بیٹیوں اور ان کی دیورانی کی بیٹیوں بہوؤں کے ساتھ خوب خوب ہریانوی بولتی جسے ان کے ہاں مہاجروں کی زبان کہا جاتا تھا۔ پھر ایک مرتبہ اطلاع ملی کہ بابا امین گزر گئے ہیں وہی جن کا مشہور قول اس کے چچا اکثر دہرایا کرتے تھے"گوشت کھانا سینا بھاویں لگے مہینا" یعنی چاہے مہینے بعد گوشت کھاؤ لیکن کھانا سینے کا گوشت۔

ان کے بیٹے آخری عمر کی دعا تھے اس لیے گزر بسر کا معقول انتظام نہ ہوسکا تو دادی بیسو نے کھرپی ہاتھ میں لی اور زمینداروں کے ہاں دیہاڑی کرنے لگیں۔ اس سے گزر اوقات کا سامان ہو جاتا تھا۔ اپنی جمع شدہ رقم وہ سامنے والے گھر میں محمد شریف کی پوتیوں کے پاس رکھوا آتیں۔ محمد شریف کا گھر بھی گویا محلے بھر کے لیے چوپال تھا وہاں آدھے شہر کے بچے سیپارہ پڑھنے آتے تھے۔ ان کی پوتیاں گویا آدھے شہر کی استاد تھیں اس لحاظ سے ہر دوسری عورت کا ڈیرہ ان کا صحن میں لگتا بھانت بھانت کی بولیاں، کس کی لڑکی بھاگ گئی؟ کس نے خود کشی کر لی؟ فلاں سید کیسا ہے؟ فلاں چوہدری نے کیا کرتوت کیے؟ کسے پولیس نے پکڑ لیا؟ کون سے استاد نے ٹیوشن پڑھاتے پڑھاتے فلاں گھر کی لڑکی کو اپنی چرب زبانی سے زیر دام کر لیا؟ یہ سب معلومات اسی صحن میں ایک دوسرے سے کہی جاتی یوں اس گاؤں کی کوئی ایسی بات نہ تھی جو ان سے مخفی ہو۔ پھر ان کی پوتیوں میں کچھ غرور و تکبر اور اپنے خوبصورت ہونے کا زعم بھی زیادہ تھا۔ گاؤں دیہات میں جو قرآن پڑھاتا ہو اس کی عزت اپنے باپ دادا سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے لیکن کم ظرف بندے کو یہ عزت راس نہیں آتی۔ ایسے ہی بانو بی بی اور رقیہ بی بی کو بھی اپنی عزت گویا مول دے کر خریدی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ وہ تائی بیسو کے سامنے تو کچھ نہ کہیں بعد میں اس کے سنائے خوابوں، اس کی ذکر کردہ سادہ باتوں اور ان پڑھ ہونے کی وجہ سے بات بات پر رائے مانگنے کی عادت کو خوب زیر بحث لاتیں ہنسی مذاق اڑایا جاتا۔ اس کی افریقی رنگت اور نین نقوش پر باتیں کی جاتی غرض جو کچھ کہہ سکتے، کہا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ماں جی کے مہمان (2) - فرح رضوان

دوسری طرف اس نے پائی پائی جوڑ کر دو بیٹیوں کی شادیاں کردیں اور ایک بیٹے کو اسلام آباد میں کسی صاحب کا منت ترلا کر کے پی ایف میں بھرتی کروا دیا۔ دن گزرتے جاتے تھے اور دن تو گزر ہی جایا کرتے ہیں…

جاری ہے

Comments

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز کو تاریخ، ادب، ثقافت، زبان، تصوف، معاشرے، اور بدلتی ہوئی اقدار جیسے موضوعات میں دلچسپی ہے۔ صحافت اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ نسل نو کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنا ان کا شوق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.