سزا، جنابِ عالی! اسلامی سزا! - حافظ یوسف سراج

بدترین منافق ہیں وہ لوگ جو زینب کے قتل پر دھاڑیں مار کے روتے ہیں اور موقع بے موقع اسلام کے نظام ِ سزا و جزا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، یا اس کے نفاذ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ان میں سے کچھ وہ لوگ ہیں، جن کا خدا امریکہ اور مغرب ہو چکا۔ امریکہ جاپان پر ایٹم بم برسائے، وہ عراق و افغانستان میں کیمیائی ہتھیاروں سے انسانی نسل مٹا ڈالے، وہ پھر بھی انسانیت کا علمبردار اور اسلام مجرم کو سزا دینے کی بات کرے تو وہ دقیانوسی اور انسان کا دشمن! شاید درست ہی ہیں وہ ممالک اور دانش ور جو پھانسی کی سزا کے خلاف ہیں، پھانسی کی ضرورت ہی کیا؟ جب آپ اقوامِ متحدہ کی چھتری تلے نسلوں اور فصلوں کا صفایا فرما لیتے ہوں۔

یہ وہ مہذب لوگ ہیں جو مشینوں کے درست استعمال نہ کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کے مطابق مشین اسی طرح استعمال ہونی چاہیے جس طرح اس کے بنانے والے کی ہدایات ہوں۔ اس کائنات کو لیکن اس کے خالق کے احکام کے مطابق چلائے جانے کی بات کی جائے تو ان کی جبنیوں پر شکنیں اور زبانوں پر خارش ہونے لگتی ہے۔ حد ہوتی ہے بے شرمی اور منافقت کی بھی! وہی لوگ جو اسلام کے نظامِ سزا پر انگلیاں اٹھاتے اور زبانیں دراز کرتے نہیں تھکتے، آج اشتعال میں اسلام کی سزاؤں سے بھی دس قدم آگے جانے کو تیار ہیں۔ کوئی کہتا ہے، قاتل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں اور کسی نے کہا، اسے آگ میں جلا کے بھسم کر دیا جائے۔ گویا یہ دنیا اب ان کی طبیعت کے اشتعال اور مزاج کی شانتی کے مطابق چلائی جانی چاہیے؟

دنیا تجربے کر لے، ایک مسلمان کو مگر مدینہ کی ریاست نے جو اصول دے دیے، کسی انسانی نفسیات دان نے نہیں، انسان کے خالق نے جو آسمانی قوانین عطا فرما دیے، خیر بس انہی میں ہے، زندگی بس انہی میں ہے۔ باقی سب افراط و تفریط، باقی سب زیر و زبر، باقی سب چونکہ چنانچہ اور باقی سب رطب و یابس!

ہاں! اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے، تازہ زمانوں کے معاملات اصولِ دین کی روشی میں طے ہوتے رہیں گے۔ امان مگر مغرب کے نہیں، مغرب و مشرق کے خدا کے پاس ہے۔ مغرب تو خود اپنا خدا بن چکا، جرم کو نہیں، وہ جرم کے اثرات کو روکتا ہے، اسلام جبکہ جرم ہی نہیں جرم کے راستوں پر بھی بندش لگاتا ہے۔ ایک کی دنیا بھی یہی، آخرت بھی یہی، ایک یہاں جیتا ہے تو مسافر کی طرح۔ پھر دونوں کی زندگیاں اور دونوں کے قانون برابر کیسے ہو سکتے ہیں؟

عربوں کو اپنی زباں پر ایسا ناز تھا کہ اپنے سوا سب کو وہ عجم کہا کرتے، یعنی گونگے۔ عرب اپنی ایک کہاوت پر ناز کیا کرتے، القتل بالقتل اجدر۔ قتل کے سوا قتل کا کوئی بدلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ قرآن نے البتہ جب جرم وسزا کے پورے فلسفے کو ایک جملے میں سمو دیا تو خود عربوں کی فصاحت دنگ رہ گئی۔ فرمایا، ولکم فی القصاصِ حیاۃ یا اولی الالباب دانش مندو! تمھاری زندگی بس قصاص میں ہے۔ اس سے بہتر انسانی تاریخ نے اگر اس ضمن میں کوئی بات کی ہو تو سامنے لائی جائے کہ بدلے کے سوا یہ دنیا جی سکتی ہے یا قائم رہ سکتی ہے؟ رہ سکتی تو کوئی ایک قوم ہی عدالت کے بغیر ہوتی۔ سزائیں البتہ انسان کی تجویز کردہ بھی ہیں اور انسانوں کے خالق کی طے کردہ بھی۔

دنیا کا اصول ہے، تخلیق خالق کی ہدایات کے مطابق ہی چلائی جائے تو ہی چل پاتی ہے۔ ٹرین کی پٹری پر جہاز اور جہاز کے فضائی راستوں پر ٹرین نہیں دوڑائی جا سکتی۔ سزائیں جو آسمان و زمیں کا خالق طے کر چکا، انسان اور کائنات کی استواری وپائیداری اور زندگی بس انہی میں ہے۔ رب سے زیادہ انسان پر مہربان اور محمد کریمؐ سے زیادہ انسانیت پر شفیق کوئی نہیں۔ مجرموں کو مگر سزائیں دی گئیں۔ سزا دراصل مجرم اور معاشرہ دونوں پر احسان ہے۔

سرکارؐ کے مدینے کی بات ہے۔ بخاری میں یہ واقعہ مذکور ہے۔ بچی کے گلے میں سونے کا ہار تھا اور یہودی نے وہ چھین لیا۔ چھینا ہی نہیں، پتھر سے اس دور کی زینب کا سر بھی کچل دیا۔ سرکار پہنچے اور پوچھا۔ کوئی دم کی مہمان بچی میں مگر بولنے کی سکت نہ بچی تھی۔ مرتی بچی کے سامنے کچھ مشکوک لوگوں کے نام لیے گئے۔ ایک یہودی کے نام پر اس نے سر ہلا دیا اور پھر وہ ساکت ہو گئی۔ دو پتھروں کے درمیان یہودی کا سر رکھ کے کچل دیا گیا۔ بعض مورخین نے گنا، پورے سو سال تک پھر مدینے میں کسی بچی پر ایسا کوئی ستم نہ ٹوٹا۔

سزا میں ایک برکت ہے۔ یہ نہ ہوتی محمد کریم ؐ جیسے رؤف و رحیم نبی کبھی سزا نہ دیتے۔ قرآن میں ہے، سزا دیتے وقت تم میں نرمی کی لرزش نہیں آنی چاہیے، اس لیے کہ خدا تم سے زیادہ رحیم بھی ہے اور تمھارے برے بھلے کا تم سے زیادہ علیم بھی۔ سزا کا ایک اصول یہ ہے کہ یہ چھپا کے نہ دی جائے۔ اس مہذب دنیا کے بھی صدقے جائیے جو چاہتی ہے جرم سرِ بازار ہو، سزا مگر چھپ چھپا کے دی جائے۔ چھپانے سے سزا کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے، قرآن کا حکم یہ ہے کہ سزا مجمع عام میں دی جائے تا کہ صدیوں تک مجرموں کے ذہنوں پر وہ عبرت بن کے نقش رہے اور کسی کو جرات نہ ہو سکے۔

اسلامی سزا اور طریقِ سزا کی برکت یہ ہے کہ یہ معاشرے کے چند مجرم افراد کو دے دی جاتی ہے اور پھر صدیوں کسی دوسرے کو سزا دینے کی نوبت نہیں آتی۔ یہاں جیلیں بھری پڑی ہیں اور جرم مگر پھر بھی سرِ بازار بچے جن رہا ہے۔ مدینہ کی ریاست یا آج کے سعودی عرب ہی سے کوئی گن کے بتائے کہ کتنے لوگوں کے ہاتھ کاٹے گئے؟

دور کیا جائیے؟ یہیں 1981ء میں ضیاء الحق نے لاہور ہی میں پپو نامی بچے کے اغوا کاروں کو مجمع عام میں لٹکا دیا۔ ٹی وی پر کچھ نے اس واقعہ ہی کا انکار کر دیا۔ اس وقت کے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ظفر گل ابھی زندہ ہیں۔ موٹر وے پر گاڑی روک کے انھوں نے ٹی وی سے بات کر کے وہ منظر بیان کیا۔ مجمع سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا، انھوں نے بتایا، پورا دن اغواء کاروں کی لاشیں لاہور کے اس علاقے میں لٹکتی رہیں۔ ایسی عبرت ہوئی کہ دس سال ایسا واقعہ سنا نہ دیکھا۔ ظفر گل نے بتایا، دس سال لاہور سروس کے بعد وہ جنوبی پنجاب چلے گئے۔

سزا، جنابِ عالی مجرموں کو سزا! یہاں سرکار مگر مجرموں کی پشت پناہی کرتی ہے۔ اس معاشرے کو اگر جینا ہے، تو مجرموں کو سزا دینا ہو گی۔ خواہ کوئی اپنی پارٹی سے ہو، یا مالدار پارٹی سے۔ سرکار سے بڑا کوئی نہیں ہو سکتا، سزا نہ دینے کی سفارش انھوں نے رد فرما دی اور زمانے بھر کو بتا دیا، سز ا سے تو محمدؐ ؐکی بیٹی فاطمہؓ بھی بچ نہ پاتی، اگر وہ مرتکب ہوتی۔ رسول اطہرؐ نے یہ بھی فرمایا، گزر گئی قومیں اس لیے بربا د ہوئیں کہ غریب کو وہ سزا تو وہ دیتے، اشرافیہ کے ساتھ مگر ڈیل کر لی جاتی۔ یہی عین بربادی کی راہ ہے، اور ہم اس پر سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔ اسلامی طریقے سے اسلامی سزا دینا ہو گی۔ جرم اگر ختم کرنا اور معاشرے کو اگر زندہ رہنا ہے وگرنہ باقی سب کہانیاں ہیں۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.