مجھے جو قتل کیا ہے گناہ کیا تھا مرا؟ - سعود عثمانی

اخبار پڑھنا بند کردیا، ٹی وی دیکھنا بند کردیا، فیس بک پر جانا چھوڑ دیا، سوشل میڈیا کے ذرائع مقفل کردیے … پھر بھی تصویریں ہیں کہ نظر آنا بند نہیں ہوتیں۔ چیخیں ہیں کہ کانوں کو پھاڑے ڈالتی ہیں۔چیخیں جو باہر سے کانوں میں شگاف کر رہی ہیں، چیخیں جو اندر سے اٹھتی ہیں اور دل ٹکڑے کیے دیتی ہیں۔ بای ّ ذنبِِ قتلت مجھے کس گناہ میں مارا گیا ؟نہ سننے کی ہمت ہے نہ دیکھنے کی تاب۔ جلتا پگھلتا ہوا موم آنکھوں کے عدسوں پر جمتا جاتا ہے۔ ننھی پری زینب کی شکل گھوم پھر کر منجمد ہوجاتی ہے اور پوچھتی ہے

ابھی تو زیست سے رشتہ نیا نیا تھا مرا

مجھے جو قتل کیا ہے ، گناہ کیا تھا مرا

ملک بھر تکلیف ،صدمے اور اشتعال کی حالت میں ہے۔اسی حالت میں مشتعل ہجوم پر پولیس کی فائرنگ نے دو اور جانیں لے لیں۔ان گھرانوں میں بھی کہرام مچ گیا۔ان پولیس والوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا گویا ان کے گھرانے بھی اسی آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ایک معصوم کی جان لینے والے درندے نے کتنے گھرانوں کو بھسم کردیا؟ ایک طرف تو یہ سانحہ ہر گھر اور ہر شہر میں محسوس کیا گیا۔سوشل میڈیا پر ایک طوفان مچ گیا۔دوسری طرف یہ دیکھیں کہ سیاسی بازی گروں نے اس صورت حال کو اپنی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ایک دوسرے پر نااہلی کے الزامات کے سلسلوں میں نئی جان پڑ گئی ہے۔ٹی وی چینلز کے لیے روز مرّہ بُری خبروں کی ویسے بھی کوئی کمی نہیں ہے ا ب انہیں ایک بڑی بری خبر مل گئی ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ انسانی دُکھ سے زیادہ ایسے دلدوز واقعات ان کے لیے ریٹنگ کے نقطۂ نظر سے اہم ثابت ہوتے ہیں۔کیا یہ درست نہیں ہے کہ یہ چینلز اب اپنے ٹکوں کے لیے مسلسل لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں؟

ہم ایسے عہدِ منافق میں جی رہے ہیں جہاں

خوشی چھپا کے جنازوں کا غم کیا گیا ہے

بچوں کے ساتھ جنسی تشدد اور بعد میں قتل کسی ایک معاشرے میں نہیں بلکہ ہر ملک اور ہر معاشرے کے ناسور ہیں۔ایسے ایسے لرزہ خیز اعداد و شمار ہیں کہ خدا کی پناہ ! ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں بچوں پر جنسی تشدد میں 19.7 فیصد بچیاں اور7.9 فیصد بچے اس کا شکار ہوتے ہیں۔کپکپادینے والی بات یہ ہے کہ30 فیصد صورتوں میں بچے کے رشتے دار اس جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔بھائی ، باپ ، چچا، ماموں،کزن یا دیگر قریبی رشتے دار۔ 60 فیصد صورتوں میں ان گھرانوں کے دوست، احباب،ملازم ، آیائیں اور ہمسائے مجرم ہوتے ہیں۔ صرف 10 فیصد کیسز میں مکمل اجنبی ملوث ہوتے ہیں۔بیشتر صورتوں میں مرد ہی ارتکاب جرم کرتے ہیں۔مجرم عورتوں پر کی گئی تحقیق بتاتی ہے کہ 14 سے 40 فیصد تک یہ عورتیں کم عمر لڑکوں کو نشانہ بناتی ہیں جبکہ 6 فیصد کیسز میں نشانہ کم عمر لڑکیاں بنتی ہیں۔ اس نفسیاتی مرض اور مسخ شدہ ذہنیت کا نہ تعلیم سے براہ راست تعلق ہے، نہ معاشی حالات سے اور نہ کسی خاص مذہب سے۔ذرا درجِ ذیل اعداد و شمار پڑھیے اور بتائیے کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟

آپ کو پتہ ہے کہ بچوں کی جنسی پامالی کی شرح سب سے زیادہ کن ممالک میں ہے بچوں پر جنسی تشدد کے کے متعلق برطانیہ کی Child sexual abuse CSA کی رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ میں ہر تین منٹ کے بعد ایک بچہ جنسی تشدد کا شکار ہوتا ہے۔ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق صرف 2000ء میں 67000ایسے کیس رپورٹ ہوئے۔جنوبی افریقہ میں اوسطاً ہر سال 3000ایسے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔بھارت ان سر فہرست ملکوں میں ہے جہاں بچے بدترین جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔2001ء میں وہاں 2113کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2011ء میں یہ تعداد بڑھ کر 7112 کیسز تک پہنچ گئی۔ان سالوں کے دوران اس شرح میں336 فیصد کی ہولناک شرح سے اضافہ ہوا۔ہرارے ،زمبابوے اس لحاظ سے بدترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ صرف ہرارے میں چار سال کے دوران مجموعی طور پر30,000 کیسز رپورٹ کیے گئے۔

اب ذرا برطانیہ کا حال سنیے۔ بچوں پر مظالم کی روک تھام کے لیے بنائی گئی National Society for Prevention of Cruelty to Children (NSPCC) کی رپورٹ کے مطابق صرف انگلینڈ اور ویلز میں 2012/13ء میں رپورٹ کردہ کیسز کی تعداد 18915 تھی۔صرف انگلینڈ میں 2012ء میں بچوں سے غفلت اور جنسی تشدد کے 18000کیس رپورٹ ہوئے۔بنگلہ دیش میں سالانہ 3200کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔پاکستان میں سالانہ 2500 بچے ایسے واقعات کا شکار ہوتے ہیں لیکن یاد رہے کہ بہت سے پسماندہ ممالک کی طرح پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوپاتے۔افغانستان میں سالانہ 18000ہزار بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔بوٹسوانا افریقی ملک ہے یہاں بھی سالانہ 10,000کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔ روس جو ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ سالانہ دس ہزار سے گیارہ ہزار بچوں پر جنسی تشدد کے کیس درج ہوتے ہیں۔

دنیا کی سب سے بڑی معیشت یعنی ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ایک تحقیقی سروے کے مطابق ہر چار میں سے ایک عورت اور ہر چھ میں سے ایک مرد بلوغت کی عمر یعنی 18سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے جنسی تشدد کا شکار ہوچکا ہوتا ہے۔ ایک ہولناک اندازے کے مطابق ہر سال ساڑھے چار سے پانچ لاکھ ناجائز بچوں کی پیدائش ان کی ماؤں کے بلوغت کی عمر یعنی اٹھارہ سال کو پہنچنے سے پہلے ہوتی ہے۔لیکن اب ذرا دل تھام کر یہ بھی سن لیں کہ آسٹریلیا بچوں پر جنسی تشدد کے اعتبار سے بد ترین ملک ہے۔اندازہ ہے کہ50,000 ایسے واقعات سالانہ رونما ہوتے ہیں اور رپورٹ کیے جاتے ہیں۔

آپ نے دیکھا کہ بچوں کو پامال کرنے والے ان سر فہرست ممالک میں آسٹریلیا ایشیا یورپ افریقہ اور امریکہ سمیت کوئی بر اعظم خالی نہیں ہے؟ ترقی یافتہ ممالک اس فہرست میں سب سے آگے اور سب سے اوپر ہیں حالانکہ وہاں قانون پر عمل درآمد کی شرح بھی سب سے بہتر ہے اور قانون کا خوف بھی زیادہ ہے۔ان میں بے خدا معاشرے بھی ہیں اور مذہبی معاشرے بھی … لیکن ذرا سا دیکھنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ ممالک جو بے مذہب بلکہ مذہب مخالف ہیں اس بھیانک جرم میں سب سے آگے ہیں۔

ذرا سا اس غلاظت میں جھانکیے توایسی ایسی بھیانک اور سفاکانہ کہانیاں بکھری پڑی ہیں کہ الامان والحفیظ! ایسے ایسے درندے دنیا کی قریبی تاریخ میں موجود ہیں کہ زبان ان کے کرتوت بیان کرتے ہوئے تھرّاتی ہے۔ان میں کولمبیا کا 138 بچوں کو قتل کرنے والا قاتل لوئیس گاراویٹو(Luis Garavito) ہے جسے صرف تیس سال جیل کی سزا سنائی گئی۔جنوبی امریکہ کا 300بچیوں کے ریپ کے بعد قتل کا مرتکب قاتل پیڈرو لوپیکس ہے جسے گرفتار کیا گیا، پھر رہا کردیا گیا۔پھر ایک اور قتل کے بعد پھر گرفتار کیا گیا اور پھر رہا کردیا گیا۔آخری بار 2002میں پھر گرفتار کیا گیا۔ان میں کولمبیا کا ڈینیل کامارگو بربروسا بھی ہے جسے 150چھوٹی بچیوں کے قتل کے جرم میں 1980میں پکڑا گیا۔روس کا سیریل کلر آندرے رومانووچ چیکاٹلو بھی ہے جس نے 52 عورتوں اور بچیوں کو قتل کیا۔مصر کا رمضان عبد الرحیم منصور بھی ہے جس نے سات سال کی مدت میں 32 لڑکوں کو قتل کیا۔برطانیہ کی مائرہ ہنڈلے (Myra Hindley)بھی ہے جس نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر پانچ بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ ڈنمارک کی ڈیگمر جوہانے ایمالی (Dagmar Johanne Amalie) نامی عورت نے 25بچوں کو قتل کیا جن میں سے ایک بچہ اس ـکا اپنا تھا۔لدھیانہ ،بھارت کا مہندر سنگھ پھنڈر بھی ہے جس کے گھر سے 2005-2006 میں 19 لڑکیوں کی کھوپڑیاں اور ہڈیاں برآمد ہوئیں اور جس کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا گیا.پاکستان کا جاوید اقبال بھی ہے جس نے 100بچوں کو قتل کیا اور بعد میں جیل میں خود کشی کرلی۔ایران کا محمد بیجہ بھی ہے جس نے 2004 میں 16کم عمر لڑکوں اور دو بالغ مردوں کے قتل کا عدالت میں اعتراف کیا۔ایک عبرت ناک مثال سیرہے فیڈرووچ کاچ نام روسی پولیس افسر قاتل کی ہے.فیڈرووچ کرمنل انویسٹی گیٹر تھا اور خود اس نے 1980سے 2005 کے دوران ان گنت بچیوں کو قتل کیا۔2006میں پکڑے جانے پر اس نے 100سے زائد بچیوں کے قتل کا اعتراف کیا اور اپنے لیے موت کی سزا تجویز کی۔مقدمہ چلایا گیا اس پر 37قتل کا الزام ثابت ہوگیا لیکن اسے عمر قید کی سزا دی گئی.درندوں کی اس فہرست میں تازہ ترین اضافہ ملبورن 'آسٹریلیا کے پیٹر جیرارڈ سکلی( Peter Gerard Scully) کا ہے جو 2017ءتک فلپائن کی جیل میں بند تھا اور اسے سال ہا سال گزرنے کے باوجود سزا نہیں سنائی گئی۔سکلّی ان گنت بچیوں کے ریپ ٹارچر اور قتل کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ ان کی ویڈیوز بنا کر فی ویڈیو دس ہزار ڈالرز میں بیچنے کا اعتراف کرچکا ہے.

کتنی مشکل سے آپ یہ سطریں پڑھیں گے، مجھے اندازہ ہے اور اسی سے آپ کو یہ اندازہ بھی ہوگا کہ یہ سطریں کتنی مشکل سے لکھی گئی ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ اس غلیظ ترین جرم کا بنیادی تعلق نہ کسی خاص ملک سے ہے ، نہ کسی ایک معاشرے سے ، نہ معاشیات سے تو پھر اس کا سدّ ِباب ہو کیسے؟

سچ اور بالکل سچ یہ ہے کہ فطرت کے بنیادی تقاضوں اور اصولوں کی پیروی کیے بغیر اور سخت ترین سزاؤں کے بغیر اس کا سد باب ممکن ہے ہی نہیں۔وہ طریقہ جو اس وقت نہ مذہبی ممالک میں ٹھیک طرح موجود ہے اور نہ ملحد معاشروں میں۔کبھی سوچیے کہ ہم کیسے لوگ ہیں؟ ایسے گھناؤنے جرائم کے مجرم کے خلاف گلا پھاڑ پھاڑ کر عبرتناک سزا کا مطالبہ کرتے ہیں اور جب کبھی مجرم کو عبرتناک سزا دی جاتی ہے تو ہمیں اس کے انسانی حقوق یاد آجاتے ہیں؟ پپّو کے قاتلوں کو سرِ عام لٹکایا گیا تھا تو بہت سالوں تک ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا ۔ لیکن پھرہمیں یاد آجاتا ہے کہ انہیں لٹکانے والا تو ڈکٹیٹر تھا ۔ ہمیں قاتلوں کے انسانی حقوق یاد آجاتے ہیں ۔ انسانی حقوق ۔بای ذنب قتلت کی ایک اور آواز سننے کاحق۔ ایک اور بچے کی زندگی کا حق ختم کرنے کا حق۔ ایک اور زینب کو زندہ درگور کرنے کا حق!

Comments

سعود عثمانی

سعود عثمانی

سعود عثمانی منفرد اسلوب اور جداگانہ لہجے کے حامل شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ 10 متفرق تصانیف و تراجم اور تین شعری مجموعے قوس (وزیراعظم ادبی ایوارڈ)، بارش (احمد ندیم قاسمی ایوارڈ) اور جل پری، شائع ہر کر قبولیت عامہ حاصل کر چکے ہیں۔۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.