کیا غامدی صاحب زنا بالجبر کے لیے چار گواہوں کی شرط ضروری نہیں سمجھتے؟ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

دیگر کئی امور کی طرح اس معاملے میں بھی نہ صرف یہ کہ غامدی صاحب کی آرا میں ارتقا (کبھی معکوس ارتقا) ہوا ہے بلکہ چونکہ یہ آراء حالات کے دباؤ کے نتیجے میں تبدیل ہوتی رہی ہیں (playing to the gallery ان کا بنیادی مسئلہ ہے )، اس لیے ان میں تعارض بھی موجود ہے۔ چنانچہ جب کبھی فقہائے کرام پر نکتہ چینی کی ضرورت ہو اور لوگوں کی جذباتی کیفیت کو مزید برانگیختہ کرنے کا موقع ہو تو غامدی صاحب کے متاثرین اس طرح کے اقتباسات پیش کرنا شروع کردیتے ہیں:

"ثبوت جرم کے لیے قرآن مجید نے کسی خاص طریقے کی پابندی لازم نہیں ٹھیرائی، اِس لیے یہ بالکل قطعی ہے کہ اسلامی قانون میں جرم اُن سب طریقوں سے ثابت ہوتا ہے جنھیں اخلاقیات قانون میں مسلمہ طور پر ثبوت جرم کے طریقوں کی حیثیت سے قبول کیا جاتا ہے اور جن کے بارے میں عقل تقاضا کرتی ہے کہ اُن سے اِسے ثابت ہونا چاہیے۔ چنانچہ حالات، قرائن، طبی معائنہ، پوسٹ مارٹم، انگلیوں کے نشانات، گواہوں کی شہادت، مجرم کے اقرار، قسم، قسامہ اور اِس طرح کے دوسرے تمام شواہد سے جس طرح جرم دنیا میں ثابت ہوتے ہیں، اسلامی شریعت کے جرائم بھی اُن سے بالکل اِسی طرح ثابت قرار پاتے ہیں۔ " (برہان، قانونِ شہادت)

عموماً زنا بالجبر کی بحث میں غامدی صاحب کے متاثرین غامدی صاحب کے بیان کردہ اس اصول سے ایک استثناء کا ذکر کرتے ہیں کہ شریعت نے زنا کے جرم کے ثبوت کے لیے چار گواہ ضروری قرار دیے ہیں۔ اس کے بعد وہ بتاتے ہیں کہ زنا کا جرم زنا بالجبر سے مختلف ہے اور یہ کہ یہ حرابہ کی قسم ہے۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ قرآن نے نص صریح میں ایک اور جرم کے لیے بھی چار گواہ ضروری قرار دیے ہیں اور اس جرم کو غامدی صاحب "حرابہ" ہی میں شمار کرتے ہیں۔ آئیے خود غامدی صاحب کے الفاظ ملاحظہ کریں:

"دوم یہ کہ کسی معاشرے میں اگر قحبہ عورتیں ہوں تو اُن سے نمٹنے کے لیے قرآن مجید کی رو سے یہی کافی ہے کہ چار مسلمان گواہ طلب کیے جائیں جو اِس بات پر گواہی دیں کہ فلاں فی الواقع زنا کی عادی ایک قحبہ عورت ہے۔ وہ اگر عدالت میں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ گواہی دیتے ہیں کہ ہم اِسے قحبہ کی حیثیت سے جانتے ہیں اور عدالت نقدو جرح کے بعد اُن کی گواہی پر مطمئن ہو جاتی ہے تو وہ اُس عورت کو سزا دے سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآءِکُمْ فَاسْتَشْھِدُوْا عَلَیْھِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ، فَاِنْ شَھِدُوْا فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا. (النساء ۴ : ۱۵)’’اور تمھاری عورتوں میں سے جو بدکاری کرتی ہیں، اُن پر اپنے اندر سے چار گواہ طلب کرو۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو اُن کو گھروں میں بند کر دو، یہاں تک کہ موت اُنھیں لے جائے یا اللہ اُن کے لیے کوئی راہ نکال دے۔ ‘"

اس آیت کے متعلق غامدی صاحب کی یہ تاویل کس حد تک درست ہے، سردست ہم اس پر بحث نہیں کرنا چاہتے۔ ہم صرف یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ زنا کے علاوہ ایک اور جرم بھی ہے جس کے لیے قرآن نے چار گواہ ضروری قرار دیے ہیں اور اس جرم کی تشخیص انھوں نے "قحبہ گری" سے کی ہے۔

اب ایک قدم آگے بڑھا کر دیکھیے کہ قحبہ گری یا "زنا کی عادی عورت" کے جرم کو غامدی صاحب حدود میں شمار کرتے ہیں یا نہیں اور اگر ہاں تو کس حد کا اطلاق اس جرم پر کرتے ہیں؟

"اِس صورت میں اصل مسئلہ چونکہ عورت ہی کا ہوتا ہے، اِس لیے مرد زیربحث نہیں آئے۔ یعنی اِس بات کے گواہ کہ یہ فی الواقع زنا کی عادی قحبہ عورتیں ہیں۔ سورۂ نور میں بھی اللہ تعالیٰ نے اِس جرم کو ثابت کرنے کے لیے چار گواہوں کی یہ شرط اِسی طرح برقرار رکھی ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ یہ ایک عارضی حکم تھا۔ چنانچہ اِس میں جس راہ نکالنے کا ذکر ہے، وہ بعد میں اِس طرح نکلی کہ قحبہ ہونے کی وجہ سے اِن عورتوں کو زنا اور فساد فی الارض، دونوں کا مجرم قرار دیا گیا اور اِن جرائم کی جو سزائیں سورۂ نور (۲۴) کی آیت ۲ اور سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۳۳ میں بیان ہوئی ہیں، وہ بعض روایتوں کے مطابق اِن پر نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ "(البیان، سورۃ النساء، آیت 15 پر حاشیہ)

اس اقتباس کو بار بار پڑھیے اور بالخصوص درج ذیل مقامات پر غور کریں:

" سورۂ نور میں بھی اللہ تعالیٰ نے اِس جرم کو ثابت کرنے کے لیے چار گواہوں کی یہ شرط اِسی طرح برقرار رکھی ہے۔ "

" قحبہ ہونے کی وجہ سے اِن عورتوں کو زنا اور فساد فی الارض، دونوں کا مجرم قرار دیا گیا۔ "

" اِن جرائم کی جو سزائیں سورۂ نور (۲۴) کی آیت ۲ اور سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۳۳ میں بیان ہوئی ہیں، وہ بعض روایتوں کے مطابق اِن پر نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ "

اس سے یہ معلوم ہوا کہ قحبہ دو جرائم کا ارتکاب کرتی ہے: زنا اور فساد فی الارض اور اس وجہ سے اسے دونوں جرائم کی سزا دی جاتی ہے؛ ایک سزا سورۃ النور میں ہے (زنا کی) اور دوسری سزا سورۃ المآئدۃ میں ہے (فساد فی الارض کی) ؛ قحبہ کا جرم ثابت کرنے کے لیے معیار ثبوت چار گواہوں کی گواہی ہے کیونکہ " سورۂ نور میں بھی اللہ تعالیٰ نے اِس جرم کو ثابت کرنے کے لیے چار گواہوں کی یہ شرط اِسی طرح برقرار رکھی ہے۔ "

اب اس پر ایک اور نکتے کا اضافہ کیجیے۔

قرآن کریم نے بے حیائی کے ضمن میں عموماً دو قسمیں بیان کی ہیں: مسافحات اور متخذات اخدان۔ غامدی صاحب نے ان الفاظ کا ترجمہ اس طرح کیا ہے : "بدکاری کرنے والیاں اور آشنائی گانٹھنے والیاں"۔ ان کی رائے یہ ہے کہ سورۃ النسآء کی آیت 15 میں مسافحات کا ذکر ہے اور آیت 16 میں متخذات اخدان کا ذکر ہے۔ چنانچہ آیت 16 کی تاویل میں کہتے ہیں :

" یہ زنا کے عام مجرموں کا ذکر ہے جو بالعموم یاری آشنائی کے نتیجے میں اِس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اِس میں زانی اور زانیہ، دونوں چونکہ متعین ہوتے ہیں، اِس لیے دونوں کا ذکر ہوا ہے اور مذکر کے صیغے زبان کے عام قاعدے کے مطابق شریک غالب کے لحاظ سے آئے ہیں۔ یہی ایذا ہے جو بعد میں سو کوڑوں کی صورت میں متعین کر دی گئی۔ "

پس قحبہ گری ہو یا زنا، سفاح ہو یا اتخاذ اخدان، فساد فی الارض ہو یا "عام زنا "، دونوں کے لیے غامدی صاحب چار گواہوں کی شرط ضروری مانتے ہیں۔

اس ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک قحبہ گری کے پیشے اور "زنا بالجبر" کا آپس میں گہرا تعلق تھا۔ چنانچہ سورۃ النور کی آیت کی تاویل میں، جہاں لونڈیوں کو زنا پر مجبور کرنے پر وعید سنائی گئی ہے، لکھتے ہیں:

"بانداز تنبیہ فرمایا ہے کہ اب کوئی شخص اِن لڑکیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرے، ورنہ یاد رکھے کہ جبر کی صورت میں اللہ اُنھیں تو معاف کر دے گا، لیکن اُن سے پیشہ کرانے والے اپنا انجام سوچ لیں، وہ اُس کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ اِس تنبیہ کی ضرورت اِس لیے پیش آئی کہ اُس زمانے کے عرب میں لونڈیاں ہی زیادہ تر چکلوں میں بٹھائی جاتی تھیں اور اُن کے مالک جو کچھ اُن کے ذریعے سے کماتے تھے، اُس سے آسانی کے سا تھ دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہو سکتے تھے۔ چنانچہ اندیشہ تھا کہ وہ اپنے تمام ہتھکنڈے اُن کو پاک دامنی کی زندگی بسر کرنے سے روکنے کے لیے استعمال کریں گے۔ " (سورۃ النور، آیت 33 پر حاشیہ)

اب ان دو باتوں کے ساتھ تیسری بات کا اضافہ کیجیے کہ روایات میں جہاں رجم کی سزا کا ذکر ہے، اسے غامدی صاحب قحبہ گری، فساد فی الارض اور زنا بالجبر کی سزا قرار دیتے ہیں۔ یہ بات اتنی مشہور ہے کہ اس کے لیے کوئی اقتباس پیش کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اب دیکھیے کہ رجم کی سزا کے متعلق روایات سے کیا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سزا کس بنیاد پر دی گئی؟ کسی بھی روایت میں آپ کو اقرار یا چار گواہوں کے سوا کوئی تیسرا طریقہ نہیں ملتا۔ لے دے کے ایک روایت (فجر کے وقت عورت پر جنسی حملے کا واقعہ) ملتی ہے جس سے غامدی صاحب کے متاثرین یہ استدلال کرتے ہیں کہ "زنا بالجبر" کی سزا "متاثرہ عورت کی گواہی" پر دی گئی۔ اس روایت پر الگ بحث کی ضرورت ہے لیکن سردست اتنا نوٹ کرنا کافی ہے کہ غامدی صاحب کے اصولوں کے مطابق اس روایت سے استدلال ہی غلط ہے کیونکہ اس کی سند بھی مضطرب ہے اور متن بھی اور جب تک روایت سنداً صحیح نہ ہو غامدی صاحب اسے استدلال کے لیے استعمال کرنے کے قائل نہیں ہیں۔ نیز اس روایت میں بھی اس شخص کے اقرار کا ذکر بہرحال ہے۔

ان تین باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب فساد فی الارض میں زنا شامل ہو تو غامدی صاحب اس کے ثبوت کے لیے چار گواہ ضروری سمجھتے ہیں۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.