خدارا! اسے قوم پرستی پر محمول مت کیجیے - جمال عبداللہ عثمان

دو ہفتے قبل میں اپنے تین غیرپشتون دوستوں کے ساتھ خیبرپختونخوا کے سفر پر تھا۔ رات کے وقت ہم درگئی پہنچے۔ سوات آپریشن کے دوران میں درگئی کے اس مقام پر ایک بڑی چیک پوسٹ بنی تھی، جو آج تک قائم ہے۔ یہاں ہر وقت ہر دَم پاک فوج کے جوان مستعد کھڑے رہتے ہیں۔

میرا المیہ، جب بھی یہاں سے گزر ہوتا ہے، عجیب سی بے اطمینانی اور بے چینی طاری ہوجاتی ہے۔ ممکن ہے عزتِ نفس رکھنے والے ہر شخص کا یہی حال ہوتا ہو۔ آج ایک بار پھر مجھے اپنا آپ امتحان میں محسوس ہوا۔ گاڑی رُکی۔ ڈرائیور لاہور کے تھے۔ سپاہی کے ساتھ پنجابی میں دُعا سلام کے بعد ہمیں ”کلیئرنس“ مل گئی۔ چلتے چلتے فوجی بھائی نے مگر ایک سوال داغ دیا:

”کوئی پختون تو نہیں گاڑی میں؟“
”جی! ایک عدد پختون پائے جاتے ہیں!“ میں نے ہنستے مسکراتے جواب دیا۔

”بھائی ہمارے ”گرائیوں“ پر پھٹ نہ جانا کہیں!“
سب دوستوں کا ایک قہقہہ بلند ہوا۔ سپاہی کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی۔ میں نے بھی ایک جوابی جملے کے ساتھ انجوائے کیا۔

چند لمحے بعد جملے پر غور کیا تو شرمندہ ہونے لگا۔ پنجاب سے آئے دوستوں کے سامنے شرمندگی، اپنی قومیت پر کچھ کچھ شرمندگی۔ سوچا اپنے ہی صوبے، اپنے ہی شہر کی طرف جاتے ہوئے اس قدر اجنبی پن۔ کیا یہی میری پہچان ہے؟ کیا واقعے اسے مذاق میں کہا ہوا ایک جملہ سمجھ کر نظرانداز کردوں؟ دوستوں کے ساتھ مسلسل ہنسی مذاق اور گپ شپ، میرے ذہن میں مگر فوجی بھائی کا وہ جملہ اٹک کر رہ گیا۔

کئی بار سوچا کہ اپنے فیس بک فرینڈز کے ساتھ ہی کم ازکم شیئر کروں، مگر اپنے اوپر جبر کرکے خاموشی میں عافیت جانی۔ میں نے سوات آپریشن کور کیا، بدقسمتی سے بہت سے ایسے ہی یا اس سے زیادہ افسوسناک واقعات کا عینی شاہد۔ مگر ذکر کم ہی کرتا ہوں کہ حب الوطنی مشکوک نہ ہوجائے۔ پھر کچھ ایسے دوستوں اور سینئرز کا بھی خیال رہتا ہے جن کی ناراضی مول لینا مناسب نہیں سمجھتا۔

کل سے مگر نقیب محسود کی تصویریں دیکھ رہا ہوں۔ کئی بار کوشش کی کہ دو جملے ہی لکھ سکوں۔ ایک خوبصورت اور پُرکشش نوجوان، جس کی جوانی پر رشک کیا جائے۔ ایسے خوش شکل اور گھبرو جوان کے والدین، اپنی قسمت پر رشک کریں۔ رائو انوار کے غضب کا نشانہ بن گیا۔

نقیب محسود دہشت گرد تھا یا بےقصور، لیکن پختونوں میں یہ سوچ بڑے پیمانے پر پروان چڑھ رہی ہے کہ ان کی شناخت اس وقت ان کے لیے آزمائش بنتی جا رہی ہے۔ ان کے خیال میں ان پر باہر سے گروہوں کو مسلط کیا گیا۔ ان کے خوبصورت نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا اور آخر میں اب انھیں ہی نفرت اور دہشت کا نشان بنایا جا رہا ہے۔ میرا تعلق سوات سے ہے، یہ تعلق کبھی ”قابل رشک“ ہوتا تھا، اب مگر یہ ”قابلِ شک“ بن چکا ہے۔ اس سب کا نتیجہ کیا؟ فائدہ قوم پرستی کے مرض میں مبتلا ان ذہنوں کو ہو رہا ہے جو قیاس سے کام لے کر نوجوانوں کو گمراہ کرتے رہے۔ آج ان کے ہاتھوں میں ہتھیار آچکا ہے۔

وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی مقتدر قوتیں اس طرف توجہ دیں۔ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ ہماری پہچان ایک ہے۔ الطاف حسین کی وجہ سے اُردو کمیونٹی کی حب الوطنی پر شک کا موقع فراہم کرنا چاہیے نہ ہی نائن الیون کے بعد سب سے زیادہ تباہی کا سامنا کرنے والے سب پختونوں کو اس پر مطعون کرنا چاہیے۔ جہاں تک جرم کی بات ہے، اگر کوئی مجرم ہے تو اسے اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ لیکن راؤ انوار جیسے بدنام زمانہ افسران کو کھلی چھٹی دینا اور دوسری طرف درگئی پر اس جوان جیسی سوچ رکھنے والے سپاہیوں کو کھڑا کرنا، اس ریاست اور قوم کے ساتھ بدترین زیادتی ہے۔

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں