اراضی سنٹر اور بدلتا پنجاب - ابوذر منجوٹھہ

1540 ء میں شیر شاہ سوری کے دور سے زمینوں کی دیکھ بھال کا کام دیکھا گیا۔ 1566ء میں اکبر کے نورتن میں سے ٹوڈر مل نے اس میں کچھ اصلاحات کیں۔برٹش انڈین حکومت میں 1846ء میں اس پر مزید کام کیا گیا سر جیمز لائل کا لینڈ ریونیومیں ایک اہم کردار تھا جن کے نام سے لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کا نام پڑا۔ اس کے علاوہ سر رابرٹ ایجرٹن جن کے نام سے لاہور میں ایجرٹن روڈ بھی ہے ان کا بھی بڑا کام تھا۔1887ء کا قانون لینڈ ریوینو ایکٹ پاکستان بننے کے بعد تک کام کرتا رہا جس کو 1967ء میں ایوب خان دور میں پچھلے قانون کو ختم کرکے نیا قانون لایا گیا۔

محکمہ مال کسی حکومت کے لیے جسم میں موجود خون کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے ہی کوئی حکومت مالیہ اکھٹاکرتی ہے۔ محکمہ مال میں پٹواری اور اس کی اہمیت سے کون واقف نہیں ہے۔ زمینوں کا حساب کتاب رکھتے رکھتے خود اتنے امیر کبیر ہو گئے اس کا اندازہ اس بات سے کر لیں کہ ایک پٹواری نے نیب کو اس کو جان بخشی کے لیے دوکروڑ سے زیادہ کی آفر دی۔ قدرت اللہ شہاب صاحب شہاب نامہ میں لکھتے ہیں کہ میں ایک کھلی کچہری میں کسی بزرگ کا کوئی مسئلہ حل کروایا تو اس نے مجھے دعا دی کی اللہ آپ کو پٹواری لگوا دے۔ساتویں گریڈ کا تک کا یہ ملازم اتنا طاقتور تھا کہ ایوب خان اور نواب آف کالا باغ تک اپنے زمینوں کے پٹواریوں کو خوش رکھتے تھے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اس کرپٹ پٹواری نظام کو ختم کرنے کی طرف پہلا قدم بڑھایا جس کے تحت پنجاب کے 36اضلاع اور 143تحصیل کے اندر اراضی سنٹر قائم کیے جا چکے ہیں جو کے بہتر طریقے سے چل رہے ہیں۔پٹواری محکمہ مال میں اکیلا ایسا بندہ نہیں تھا بلکہ وہ برابر نیچے سے پیسہ اکھٹا کرکے اوپر تک برابر حصہ پہنچاتا تھاجس کی وجہ سے پٹواری نظام چلتا تھا۔ ظاہر ہے جس بندے کی روزی آپ بند کردیں گے اس کو اور ان تمام کو جن کی روزی اس سے جڑی تھی وہ لینڈ ریونیو کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے دشمن ہو گئے۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کو بنے ایک سال کے قریب ہی ہوا ہے ابھی اور کتنی ہی سازشیں اس کو ختم کرنے کے لیے کی گئی ہیں اس پورے نظام کو بنانے کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ یہ کرپٹ نظام کو ختم کرکے ایک ایسا صاف شفاف نظام کو لائے جس سے لوگوں کو آسانیاں مل سکیں لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں تھا۔

ایک پٹواری سے میری بات ہوئی تو اس نے کہا کہ اب شہباز شریف کو کہنا کہ جیت کے دکھائے، ووٹ ہمارے ہی ذریعے سے لیتے تھے ہم نہیں ہوں گے تو ووٹ کیسے ملے گاان کو؟ ایک پٹواری نے تعریف بھی کی ہے کہ اگر اس کام کو ٹھیک طریقے سے کیا جائے تو یہ لوگوں کی زندگیوں کو ہی بدل ڈالے گا۔میں اس سب کوبہتر سے بہتر بنانے کا کریڈٹ ضرور نوجوان ڈی جی کیپٹن (ر)ظفر اقبال صاحب کو ضرور دوں گا میں نے جب ڈی جی صاحب کے بارے میں دیکھنے لگاتو اس وقت میں ذہن میں تصویر ایک سفید بالوں والے 70سال کے بزرگ کی تھی لیکن مجھے خوشی ہوئی کہ ایک جوش و ولولہ سے بھرپور انسان سابقہ ڈی سی او ضلع رحیم یار خان کی تصویر دیکھنے کو ملی۔

میں نے ٹریک ریکارڈ چیک کرنے کے لیے رحیم یار خان میں مختلف دوستوں سے رابطہ کیا تو تعریف ہی سننے کو ملی۔ ایک دوست نے ایک صادق آباد میں کسی تقریب کی ایک ویڈیو بھی WhatsAppکر دی گفتگو بھی جوش و ولولہ سے بھرپور دل خوش ہوا کہ ایسے ویثرنری لوگ اگر پنجاب حکومت کی ٹیم میں ہوں تو ترقی بھی دن دگنی رات چوگنی ہو گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے لوگوں کی زندگیاں بدلنے کے لیے ہی لینڈریکارڈ کے پورے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کروایا ہے اور یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ کیا سچ میں زندگیاں بدلیں گی بھی میں نے اس سلسلے میں بہت سے لوگوں کو ملا ان کے انٹرویوزکیے ابھی بھی کچھ کام رہتے ہیں جن میں مزید بہتری کی ضرورت ہے جس سے لوگوں کے مسائل کچھ مزید کم ہوں گے۔ کچھ تجاویز قابل غور ہیں

1۔ پنجاب بھر کے وہ محال موضع جات جو کہ ابھی تک کمپیوٹرائزڈ نہ ہوئے ہیں، ان کے نئے چار سالہ مرتب کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کا جائے اور چارسالہ مرتب ہوتے ہی اس موضع کی سروس بند کر کے اسکو سکین کر کے کمپیوٹر ائزڈ ایڈیشن پر ٹائپ کرکے سروسز چلائی جانی چاہئیں۔ یہ اس وقت انتہائی اہم اقدام ہے جو مھال ابھی رہتے ہیں ان کی ٹرانزیکشن بہت زیادہ ہے اور کئی موضع جات کے پچھلے چار سالہ بہت زیادہ پرانے ہیں جن کے انتقالات کی تعداد اب اتنی ہو چکی ہے کہ ان کو کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن پر لانے میں خاصہ وقت ضائع ہوگا۔

2۔ تحصیل آفس اور عملہ کی کمی پرانے محکمہ مال کے پٹواری گرداور اور ریوینو آفیسران کی تعداد 80سے بھی زائد تھی اب وہاں پر صرف 8سے 10لوگ سروس دے رہے ہیں۔اگر ان آفس کی تعداد بڑھا دی جائے اور ہر قانونگوئی حلقہ میں ایک ایک آفس ہو تو لوگوں کے مسائل بہت حد تک کم ہوں گے۔

3۔ کیپٹن (ر)ظفر صاحب نے ایک شفاف طریقے سے این ٹی ایس کے ذریعے سے 16000+لوگوں میں سے 300لوگ نئے ریکروٹ کیے ہیں جن کو این ٹی ایس کے باوجود اپنے محکمانہ ٹیسٹوں سے بھی گزارا گیا جو کہ قابل ستائش اقدام ہے کیونکہ جو جیسے شفاف آئے گا عوام کے مسائل بھی ویسے ہی حل کرے گا۔ ڈی جی صاحب آپ نے 425لوگوں کے ساتھ معاہدہ ختم کیا تھا کیونکہ وہ لوگوں ایک پراسس میں سے گزر کر نہی آئے تھے لیکن میری ایک ناقص رائے ہے کہ وہ 425 لوگ نہیں 425 خاندان ہیں ان کا ایک بہتر حل یہ ہو سکتا ہے ہے کہ آپ ان 425لوگوں کو ایک سپیشل نوٹس سے این ٹی ایس کے ذریعے صرف ان لوگوں کا دوبارہ ٹیسٹ لیں انٹرویو لیں جو اس قابل ہوں گے کہ وہ آگے آ جائیں گے تو اس سے لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کو فائدہ ہوگا کہ وہ لوگ پہلے سے تجربہ کار ہیں باقی ماشاء اللہ آپ کا ایک مانیٹرنگ کا بہترین طریقہ کار موجود ہے ہے جس سے کرپشن کے کیس نہ ہونے کے برابر ہیں۔اس سے لوگوں کے بچوں کو رزق بھی ملے گا اور لوگوں کو ریلیف بھی اور آپ کو دعائیں بھی دونوں طرف سے ملیں گی۔

4۔ ادارے میں سٹیشنری کے سامان پرنٹر کی خرابی، پیپر کے ختم ہونے تک کام میں رکاوٹ آجاتی ہے اس کا بہتر حل تحصیل کی سطح پر سٹاک کی موجودگی کو ضروری بنانا ہے۔

5۔ سب سے اہم کسی بھی ادارے میں کام کرنے والا فرد اس ادارے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا مقام رکھتا ہے۔ ہمارے ایک استاد صاحب کہتے تھے کہ ریسرچر کو اگر صبح ناشتہ نہ ملے تو اس کا اثر بھی ریسرچ پر نکلا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ ادارہ تو بہت اہم ادارہ ہے کیونکہ یہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور ادارے میں موجود لوگوں کے حقوق کی ذمہ داری ادارہ کے سربراہ پر ہوتی ہے۔ کسی سے نا حق کسی خدمت کے عوض کچھ لیا جانا کرپشن ہے تو وہیں کسی ادارے میں کام کرنے والوں کا زبردستی بغیر معاوضہ کے وقت لینا بھی کرپشن ہے جس کے لیے بروزقیامت ویسی ہی جزاء و سزا ہوگی۔بے جا پابندیاں، 8 سے 3 کی ٹائمنگ کے باوجود رات کے 8بجے یا اس سے زیادہ تک مسلسل کسی سے کام لینا لیبر لاء کی کھلی خلاف ورزی ہے جوکہ بہت جگہ پر دیکھنے میں آئی ہے۔اس کا سب سے بہتر حل یہ ہے کہ اس کرپشن پر بھی قابو پا کر اوور ٹائمنگ کی پالیسی بنائے جائے۔ بوگس شکایات پر کسی کو رزق سے محروم کر دینے کی پالیسی کی بجائے کوئی سپیشل شکایت سیل ہو جو کہ تحقیق کرے اور سزا سنائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */