ٹائم مشین - توقیر احمد

" ہو گیا، ہو گیا "

خود سے ہی جیسے کہتے کہتے انور نے ایک زوردار نعرہ لگایا۔

" میں کامیاب ہو گیا، میں کامیاب ہو گیا "

میں اب راشد کو زندہ دیکھ سکوں گا، میں اپنے بیٹے کو زندہ دیکھ سکوں گا، اس کے ساتھ زندگی گزار سکوں گا۔

چند ہی لمحے بعد وہ اپنے اسسٹنٹ کو آواز دے رہا تھا

" دانش! جلدی سے تیاری کرو میں اب اور انتظار نہیں کر سکتا، یہ پانچ سال کا اتنا لمبا عرصہ کیسے گزارا، اب اور دیر برداشت نہیں کر سکتا، میں اب راشد کو زندہ لے کر آؤں گا۔ "

انور ایک بہت ہی ذہین سائنسدان تھا۔ آج سے پانچ سال پہلے جب اس کے بیٹے راشد کی آٹھویں سالگرہ تھی اور وہ اس کے ساتھ مارکیٹ میں جا رہا تھا کہ روڈ پر ایک تیز رفتار کار ایک موٹر سائیکل والے کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے راشد کو ٹکر مارتی ہے اور اس کو روند کر رکھ دیتی ہے۔

راشد انور کا اکلوتا بیٹا تھا، اس کی ماں بھی اس کے پیدا ہوتے ہی اس دنیا سے چل بسی تھی۔ انور نے ماں اور باپ دونوں بن کر راشد کو پالا تھا اور اس میں انور کی جان بستی تھی۔

حادثہ کے بعد کئی دن تک انور کو بالکل ہی کوئی ہوش نہیں تھا پھر ایک دن وہ ایک جوش کے ساتھ اٹھا اور اپنی لیب میں کسی کام میں لگ گیا۔ سوائے چند لوگوں کے اور وہ چند لوگ بھی یہی سمجھتے تھے کہ یہ پاگل ہو گیا ہے کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ ایک ایسی ٹائم مشین بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس سے وہ اپنے ماضی میں جا سکے گا۔

آج صبح ہی وہ کامیاب ہوا تھا اور اس کو اب اپنے ماضی میں جانا تھا جہاں راشد کو مارکیٹ لے کر جاتا ہے تا کہ اس کو روڈ پر نہ لے جا سکے اور اس کی جان بچ جائے۔

انور نے دانش کو آواز دی تو وہ دوڑا ہوا آیا اور یہ جان کر کہ ٹائم مشین سچ میں مکمل ہو چکی ہے وہ پہلے تو ساکت ہی رہ گیا۔ پھر انور کے چیخنے پر اس کو ہوش آیا اور اس نے انور کی ہدایات پر عمل کرنا شروع کیا۔

"دانش میں جیسے ہی یہ بٹن دباؤں گا میں ٹھیک اس جگہ پر پہنچ جاؤں گا جہاں ہم روڈ کی طرف مڑتے ہیں میں راشد کو روڈ پر لے کر ہی نہیں جاؤں گا اور راشد کی جان بچ جائےگی۔ میری یہ مشین ضائع ہو جائے گی لیکن مجھے اس کا کوئی افسوس نہیں ہو گا میں اپنے بیٹے کے ساتھ زندگی گزار سکوں گا۔"

یہ بھی پڑھیں:   اے میرے اللہ اے میرے مالک - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

اس کے ساتھ ہی انور نے بٹن پریس کر دیا اور اس کی آنکھوں کے سامنے سفید دھند سی چھا گئی اور اس کے ذہن پر غنودگی سی چھا گئی اور اس نے آنکھیں بند کر لیں۔

چند لمحوں بعد اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے راشد کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی ہو " پاپا! چلیں نا مارکیٹ! چلیں پلیز۔ آپ نے وعدہ کیا تھا مجھے سائیکل لے کر دیں گے۔ "

انور نے آنکھیں کھولیں تو اس کو ایسا لگا جیسے خوشی سے اس کا دم رک جائے گا وہ راشد کے ساتھ پارک میں بیٹھا تھا وہ ماضی میں پہنچ چکا تھا۔

"پاپا!" راشد نے اس کو پھر آواز دی تو انور نے راشد کو زور سے اپنی بانہوں میں بھینچ لیا اور دیوانہ وار اس کو چومنے لگا۔

" میرا بیٹا، میری جان!" رقت کے مارے اس کے گلے سے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی۔

"پاپا! کیا ہوا کیوں رو رہے ہیں؟ "

"کچھ نہیں بیٹا! بس ایسے ہی۔ بیٹا! پاپا آپ کو خود لا کر دیں گے سائیکل۔ آج ہم یہیں بیٹھیں گے بس۔ "

"اوکے پاپا! پھر مجھے آئس کریم کھانی ہے۔ "

"ٹھیک ہے بیٹا، میں لے کر آتا ہوں۔ " انور یہ کہتے ہوئے سامنے سے آئس کریم لینے چلا گیا۔

ابھی وہ آئس کریم کے لیے کہنے ہی لگا تھا کہ اس کے کانوں عجیب سی گڑگڑاہٹ اور چیخوں کی ملی جلی سی آواز آئی۔

اس نے تڑپ کر پیچھے دیکھا تو اس کا اس کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا اور بھاگتا ہوا راشد کی طرف دوڑا، لیکن راشد وہاں تھا ہی کہاں؟ وہاں تو ایک گھومنے والا کشتی کی طرز کا بہت بڑا جھولا پڑا تھا۔ راشد کہاں گیا؟ انور کے ذہن میں اٹھنے والے سوال کا جواب بھی فوری طور پر خود ہی اس کے ذہن نے دے دیا کہ راشد جھولے کے نیچے پس چکا ہے۔ وہ ایک بار پھر راشد کو کھو چکا ہے۔ وہ زمین پر بیٹھتا چلا گیا اور پھر اس کو کوئی ہوش نہ رہا۔

جب ہوش آیا تو وہی پانچ سال پہلے والے منظر تھے اور انور پھر سوچ رہا تھا کہ اس کو پھر ٹائم مشین بنانی ہے۔ پانچ سال اور لگیں گے اور اس بار وہ راشد کو اس منحوس دن میں گھر سے باہر ہی نہیں نکالے گا۔


پانچ سال پھر گزر جاتے ہیں ٹائم مشین بن جاتی ہے وہ پھر ماضی کا سفر شروع کرتا ہے۔

پاپا، پاپا کی آواز آتے ہی انور ہی نے آنکھیں کھولیں اور راشد کو اسی پارک میں اپنے ساتھ کھڑا دیکھ کر اس نے راشد کا ہاتھ پکڑا اور کہا بیٹا ابھی گھر چلتے ہیں پھر کل آئیں گے۔ راشد کچھ کہنے کی کوشش کرتا ہے لیکن انور کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر وہ چپ ہو گیا

یہ بھی پڑھیں:   موت اٹل حقیقت اس کی تیاری ایک ضرورت - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

چند منٹ بعد وہ اپنے گھر کی طرف جانے والی گلی میں مڑتے ہیں۔ ابھی وہ تین چار گھرپیچھے تھے کہ ایک گھر کا دروازہ کھلا اور ایک نقاب پوش گن ہاتھ میں پکڑے فائرنگ کرتا ہوا باہر نکلا۔ اس کے پیچھے دو اور نقاب پوش باہر نکلے انور ساکت کھڑا رہ گیا تھا۔ نقاب پوش ان کی طرف بھاگ رہے تھے اور ان کو کراس کر کے بھاگتے چلے گئے۔ وہ یقینی طور پر کوئی ڈاکو تھے۔

انور نے راشد کو دیکھا اور اس کی سانس میں سانس آئی۔ ہر بار تھوڑی ایسا ہو گا پچھلی بار بس حادثاتی طور جھولا گر گیا یہ سوچتے ہوئے اس نے گھر کی طرف چلنا شروع ہی کیا تھا کہ جس گھر سے نقاب پوش نکلے تھے وہاں سے ان نقاب پوشوں کی طرف فائرنگ شروع ہو گئی۔

انور کو ایسا محسوس ہوا جیسے راشد نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ہو۔ اس نے راشد کا ہاتھ پکڑنا چاہا لیکن وہ نہیں تھا اس نے راشد کی طرف دیکھا تو اس کی چیخ نکل گئی۔ راشد کا آدھا چہرہ اڑ چکا تھا۔ انور اس بار پھر اپنا ہوش کھو دیتا ہے۔

ہوش آنے کے بعد پھر وہ وہی ارادہ کرتا ہے۔ میں ہار نہیں مانوں گا میں راشد کو ساتھ لے کر جاؤں گا۔


راشد کے پہلی بار مرنے کے اکتیس سال بعد ایک سفید بالوں والا بوڑھا شخص ایک دانش نامی اپنے اسسٹنٹ سے کہہ رہا ہوتا ہے۔ یہ بوڑھا شخص انور تھا۔ دانش تمہیں یقین نہیں آئے گا لیکن میں چھ بار راشد کو کھو چکا ہوں۔ پھر وہ دانش کو تفصیل بتاتا ہے۔

دانش کو تفصیل بتانے کے بعد وہ کہتا ہے کہ میں نے ہار مان لی ہے اب میں ٹائم مشین نہیں بناؤں گا میں واپس نہیں جاؤں گا مجھے اب یہ ماننا ہی ہوگا کہ راشد کی زندگی اتنی ہی تھی، چاہے میں جو مرضی کر لوں اس کی زندگی کو ایک سیکنڈ کے لیے بھی زیادہ نہیں بڑھا سکتا، جہاں مرضی لے جاؤں وہ اپنے وقت پر مر جائے گا۔ قدرت کے خلاف کوئی نہیں لڑ سکتا۔

اس آخری بات کے کہتے ہی دو موٹے موٹے آنسو اس کی آنکھوں سے نکلے اور اس کے جھریوں زدہ چہرے پر بہہ گئے۔