سانحہ قصور: ہم کیا کریں؟ - ام محمد عبد اللہ

آئیں زینب کے قاتل کو سر عام پھانسی پر لٹکا دیں۔ مگر کیسے؟

آئیں اپنی پیاری پیاری معصوم کلیوں کو مضبوط تحفظ دیں۔ مگر کیسے؟

بس یہی تڑپ ہے جو مجھے بےچین سے بےچین کیے جا رہی ہے۔ کوئی حل؟ کوئی تدبیر؟ کوئی ترکیب؟

زینب کا قاتل کون ہے؟ پہچانوں تو پھانسی چڑھاؤں؟

زینب کا قاتل، "شیطان" اپنا بھیانک چہرہ لیے مجھے نظر آنے لگا ہے۔ وہ فحاشی اور بےحیائی کے روپ میں ننھی جان پر حملہ آور ہے۔ ہاں یہ فحاشی اور بےحیائی کا امنڈتا ہوا طوفان ہی تو زینب کا قاتل ہے۔

سورہ الانعام آیت 151میں اللہ تعالی فرماتے ہیں "اور بےحیائی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی" وہ مالک الملک ذوالجلال والاکرام وہ سمیع و بصیر ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ بےحیائی خواہ سر عام اپنائی گئی یا چھپ چھپا کر بھیانک نتائج سامنے لے کر آئے گی۔ سانحہ قصور معاشرے میں پھیلتی بےحیائی کا نتیجہ ہے، جس کا شکار ہماری معصوم بچیاں بن رہی ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں لے جاتا ہے۔ بےحیائی ظلم ہے اور ظلم جہنم میں لے جاتا ہے۔ (جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2074)

ایک جہنم جنت کا فیصلہ تو روز قیامت ہوگا۔ ایک جنت جہنم ہم اس دنیا میں اپنے ساتھ ساتھ لیے پھر رہے ہیں۔ بےحیائی ظلم کی شکل میں معاشرے کو لپیٹ میں لے کر اسے جہنم کی آگ میں جھونک رہی ہے۔ اس جہنم میں ہر بڑا چھوٹا امیر غریب عالم جاہل جل رہا ہے۔ اس بے حیائی کا اس ظلم کا اس جہنم کا الاؤ ہمارے ارد گرد دہک کر سب کو جلا رہا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اگلی نبوت کی باتوں میں سے لوگوں نے جو کچھ پایا ہے۔ اس میں ایک مقولہ یہ بھی ہے کہ "جب تم میں شرم و حیا نہ ہو،تو پھر جو چاہو کرو"(صحیح بخاری)

اس کا عملی مظاہرہ مغرب کی وادیوں میں ہر جانب بکھرا ہم دیکھ سکتے ہیں۔ شرم و حیا کو خدا حافظ کہنے کے بعد شر اور جرائم کے جو آتش فشاں مغرب میں پھٹے ہیں۔ اس کی مثال تاریخ انسانیت میں کہیں نہیں ملتی۔ بے حیا تہذیبوں نے ڈپریشن، ایڈز، خودکشی اور انہی جیسی کئی اور ذہنی، جسمانی اور روحانی عفریتوں کا تحفہ عالم کو دیا۔

بے حیائی کی اس یلغار نے اب ہمارے معاشرے کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ ہر طرح کے شوز، گانے، فلمیں،ڈرامے حتیٰ کہ خبریں بھی اس کی لپیٹ میں ہیں۔ انٹرنیٹ تک رسائی نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ شرم و حیا کا دامن ہاتھ سے جاتا ہے۔ چھوٹے بڑے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔ رشتوں کا تقدس پامال ہوتا ہے۔ آخرت پسندی کی نفسیات نفس پرستی میں بدل جاتی ہے اور پھر ہوس ہی ہوس رہ جاتی ہے۔ دنیا و آخرت کی بربادی مقدر بن جاتی ہے۔ بےحیائی سب سے بڑا دشمن ہے ہمارا اور ہمیں اسی دشمن کا گلا گھوٹنے کی ضرورت ہے۔

ہماری مائیں صدیوں سے اپنے بچوں کی تربیت کرتی آئی ہیں کہ سر ڈھانپ کر رکھو، بڑوں سے فاصلہ اور ادب ، اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ دوستی ، مغرب کے بعد گھر سے نہ نکلنا، دس برس کے بچے کا اپنا الگ بستر اور کپڑے صاف ستھرا رکھنے کی ہدایت کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ ہر بات نپی تلی صاف اور واضح لیکن شرم و حیا کے دائرے میں اس سے بڑھ کر اپنی حفاظت کے لیے اپنے کم سن بچوں کو ہم کونسی تربیت دینا پسند کریں گے؟ کون سے حقائق وقت سے پہلے خوب ہائی لائٹ کر کے انہیں دکھانا چاہیں گے۔ یقیناً کچھ بھی نہیں۔ بات مجرموں کو کڑی سزا دینے سے بنے گی۔ معصوم ذہنوں میں حفاظت کے نام پر بےحیائی انڈیلنے سے نہیں۔

ہم میں سے جو بھی زینب کے قاتل کو سرعام پھانسی پر لٹکتا دیکھنا چاہتا ہے وہ اس ظلم و بے حیائی کے خلاف اعلان جنگ کر دے۔ اس ظلم و بےحیائی کو سر عام پھانسی پر لٹکا دے۔ وہ اپنے ذہن و دل کو، جسم و زبان کو حیا کی چادر میں مستور کر دے۔ اپنی نگاہیں نیچی کر لے۔ اپنے بچوں کو شرم و حیا کی تعلیم دینے میں لگ جائے۔ وہ اعلان کر دے میں نے سنا "حیا ایمان کا حصہ ہے" اور میں نے اطاعت قبول کی۔

یقین مانیں، اس اطاعت کی طرف بڑھنے والا ہر قدم ، شرم و حیا کے راستے پر رکھا جانے والا ہر قدم زینب کے قاتل کی گردن پر ہوگا۔ زینب کے قاتل کو روندنے والا ہوگا۔ ہمارا خالق،ہمارامالک ہمارا مہربان رب ہم پر رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ یہ تو ہم ہی ہیں جو اپنے نفس پر ظلم ڈھاتے اپنی جنت سے نکلتے اور گردش ایام کی ٹھوکریں کھاتے ہیں لیکن … وہ پاک بلند و بالا عظیم الشان ہستی ہمیں پھر سے اپنے دامن رحمت میں تحفظ دیتی ہے جب ہم توبہ و استغفار کرتے اس کی جانب پلٹتے ہیں۔

زینب کسی ایک ماں کی بیٹی نہیں تھی، وہ ہم سب کی، پاکستان کی، امت مسلمہ کی بیٹی تھی۔ آئیں زینب کو، پاکستان کی، امت مسلمہ کی ہر بیٹی کو اس کی رحمت کا تحفظ دیں۔ آئیں توبہ و استغفار کرتے ہوئے اپنے مہربان رب کی جانب پلٹ جائیں کہ جس کے پاس بہر طور ایک روز ہمیں جانا ہی جانا ہے۔

اے رب! ہمارے ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور تیری ہی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔

اے اللہ! بخش دے میری خطا،میری جہالت،میرے کام میں میری زیادتی اور وہ جس کے بارے میں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔اے اللہ!ہنسی مذاق میں، سنجیدگی میں، بھول کر اور جان بوجھ کر کیے ہوئے میرے گناہ بخش دے اور یہ سب میرے اندر ہیں۔