مُحسن بھوپالی مرحوم - انعام حسن مقدم

تلقینِ صبر و ضبط وہ فرما رہے ہیں آج

راہِ وفا میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے

نیرنگیٔ سیاستِ دوراں تو دیکھیے

منزل اُنہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے

17 جنوری اردو کے مشہور و معروف شاعر جناب محسن بھوپالی مرحوم کی برسی ہے۔آپ کا اصل نام عبدالرحمان تھا۔ 29 ستمبر 1932 کو برطانوی ہند کے بھوپال سے قریب ضلع ہوشنگ آباد کے قصبے سہاگپور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حبیبیہ مِڈل اسکول اور الیگزینڈرا ہائی اسکول بھوپال سے حاصل کی۔ 1947 میں والدین کے ساتھ لاڑکانہ پھر حیدرآباد پھر کراچی منتقل ہوئے۔ این ای ڈی سے سول انجینیئرنگ میں ڈپلومہ کر کے 1952 میں محکمۂِ تعمیرات حکومتِ سندھ سے وابستہ ہوکر 1993 میں ایگزیکٹیو انجینیئر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ 1974 میں جامعہ کراچی سے بی اے کی سند حاصل کی۔ 1959 میں سندھی زبان کا محکمہ جاتی امتحان بھی پاس کیا۔ 1979 میں جامعہ کراچی سے ایم اے اُردو اور 1987 میں اردو کالج کراچی سے ایم اے صحافت کی تعلیمی سندات حاصل کیں۔

شعر گوئی کا آغاز 1948 میں کیا۔ شاعری میں ادب اور معاشرے کے گہرے مطالعے کا عکس نظرآتا ہے۔ پچاس کے عشرے میں اُن کا شعر

نیرنگیٔ سیاست دوراں تو دیکھیے

منزل اُنہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

چہار دانگِ عالم میں ان کی شہرت اور پہچان کا باعث بنا۔

19 فروری 1956 کو مقبول کشور سے شادی ہوئی جن سے دو بیٹیاں اور چار بیٹے پیدا ہوئے۔

محسن بھوپالی کویہ منفرد اعزاز بھی حاصل تھا کہ 1961ء میں ان کے اولین شعری مجموعے کی تقریب رونمائی حیدرآباد سندھ میں منعقد ہوئی جس کی صدارت زیڈ اے بخاری (ذوالفقار علی بخاری، مصنف، ریڈیو براڈکاسٹر اور ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل) نے انجام دی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کسی کتاب کی پہلی باقاعدہ تقریبِ رونمائی تھی جس کے کارڈ بھی تقسیم کیے گئے تھے۔ مُحسن ایک نئی صنفِ سخن نظمانے کے مؤجد، جاپانی ادب کے مترجم اور ہائیکو کے طبع آزما بھی تھے۔

محسن بھوپالی کئی کتب کے مصنف تھے۔ اُن کا پہلا شعری مجموعہ "شکستِ شب" 1961 میں منظرعام پر آیا۔ دیگر کتب کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:

شعری کتب (دیوان):

* روشنی تو دیئے کے اندر ہے (1966)

* جستہ جستہ (1969)

* نظمانے (1975)

* گردِمسافت (1988)

* موضوعاتی نظمیں (1993)

* ماجرا(1995)

* منظر پتلی میں (1995)

* شہر ِآشوب کراچی (1997)

نثری کتب:

* کینیڈا اور امریکا کا سفر نامہ

* حیرتوں کی سر زمین

* نقد ِسخن (مضامین)

* قومی یکجہتی میں ادب کا کردار (مشاہیرِ ادب کے انٹرویوز)

1988 میں شدید بیمار ہوئے، اِسی دوران گلے کے سرطان کے کامیاب آپریشن کے بعد بولنے میں شدید دشواری کے باوجود، اُنھوں نے معمولاتِ زندگی اور مشاعروں میں باقاعدہ شرکت جاری رکھی۔ 17 جنوری 2007 کو دنیا سے رخصت ہو کر کراچی کے "پاپوش نگر قبرستان" میں آسودۂِ خاک ہوئے۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔ الله تعالیٰ اپنے اور اپنے حبیب صلی الله تعالٰی علیہِ وَ آلہِ وبارک وسلم کے فضل و کرم سےمُحسن بھوپالی مرحوم کو انتقال کے بعد کے مراحل سے لیکر جنّت میں داخل ہونے تک ہر ہر مقام و مرحلے پر بغیرِ حساب و کتاب و عتاب و عذاب اپنی رحمت اور اپنے حبیب رحمۃاللعالمین ﷺ کی شفاعت عطا فرمائے۔ بے شک وہ مالک ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اِلٰہی آمین ثمَّ آمین یا رَبّ العٰلمین بجاہِ سیدالانبیاءِ والمرسلین۔ صَلَّی اللهُ تعالٰی علیہِ وَ آلِهِ وَ بارِک وسلم!

اقتباسِ کلام:

جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے

اس حادثۂِ وقت کو کیا نام دیا جائے

مے خانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے

کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے

ہم مصلحت وقت کے قائل نہیں یارو

الزام جو دینا ہو، سر عام دیا جائے

Comments

انعام حسن مقدم

انعام حسن مقدم

کراچی سے تعلق رکھنے والے انعام حسن مقدم مختلف مذاہب، اقوام اور سماجی طبقات کے باہمی تعلقات، رواداری اور عزت نفس کے احترام کا قائل ہیں۔ عرصہ 25 سال سے مختلف مقامی و کثیر القومی انشورنس کمپنیز اور بینکس سیلز، مینجمنٹ، آپریشنز، مارکیٹنگ اور دیگر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.