مزاحیہ اداکار، ایک تعارف - خرم علی راؤ

نہیں، نہیں، یہ تحریر ان معنوں میں کامیڈینز یا مزاحیہ اداکاروں کے بارے میں نہیں ہے جنہیں ہم ٹی وی، اسٹیج یا فلموں کی دنیا میں دیکھتے ہیں بلکہ یہ تحریر ان مزاحیہ اداکاروں کے بارے میں ہے جن کو ہم یعنی عوام کالانعام روزانہ حقیقی دنیا میں دیکھتے اور ان کی عظیم پرفارمنسز کو آنسوؤ ں سے سراہتے ہیں۔ یہ ایسے عجب مزاحیہ اداکار ہیں جن کی پرفارمنس کی وجہ سے میں اور آپ بجائے ہنسنے کے خون کے آنسو روتے ہیں اور وقت بے وقت لوہے کے چنے چباتے رہتے ہیں۔

جی! آپ اب کچھ کچھ سجھ رہے ہیں۔ لیکن میں سیاستدانوں، لیڈروں اور رہبروں کی بات نہیں کر رہا بلکہ اپنی روز مرہ کی پرفارمنس سے آٹھ آٹھ آنسو رلانے والے یہ انوکھے مزاحیہ اداکار ہر شعبہ ہائے زندگی میں ہمارے وطن عزیز میں با افراط پائے جاتے ہیں البتہ طبقہ رہبراں المعروف بہ طبقۂ ٹھگاں میں یہ کچھ زیادہ ہیں۔ یہ ہمارے ملک کی نوکر شاہی، عدلیہ، فوج، صحافت، اسمبلی،اور کئی دیگر اداروں میں مزے سے رہتے ہیں اور عوام سہمے رہتے ہیں کہ نہ جانے کب کوئی نئی در فطنی کوئی نئی پھلجڑی یہ چھوڑ ڈالیں اور ہماری زندگی میں کوئی نیا بھونچال آجائے۔ یہ بیان بازی کے بہت شوقین ہوتے ہیں اور اب تو الیکٹرونک میڈیا کی ولادت سے یہ اور بھی خوش باش اور پر امید رہتے ہیں، میڈیا پرخوب رونق لگاتے ہیں، علم و دانش کے دریا بہاتے ہیں اور اپنی مزاحیہ باتوں اور حرکتوں سے بلکہ عالمی میڈیا تک کو اپنی جانب متوجہ کر لیتے ہیں۔ یہ فیوچر ٹینس میں بات کرنے کے ماہر ہوتے ہیں اور اس خوبی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قوم کو خوب سنہری خواب دکھاتے رہتے ہیں، ہو جائے گا، کردیا جائے گا، ہم دیکھیں گے، ہم یہ کردیں گے ہم وہ کر دیں گے، وغیرہ وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا کے دانشور - آصف محمود

میں شرطیہ کہتا ہوں کہ ہمارے یہ عدیم النظیر ماہرین فنون کو اگر امریکا ایکسپورٹ کر کے مختلف شعبوں کی ذمہ داریاں دے دی جائیں تو ان کی بے مثال پرفارمنس کی وجہ سے کچھ ہی عرصے میں امریکی قوم گریہ وزاری کرتی، کشکول ہاتھ میں تھامے امداد کی بھیک مانگتی نظر آئے گی۔ یہ تو ہمارا ہی حوصلہ ہے جو زمانوں سے انہیں نسل در نسل جھیل رہے ہیں۔ یہ کام کرنے سے بہت گھبراتے ہیں اور اسے اپنی آن اور شان سے فروتر سمجھتے ہیں مگر اس ہڈ حرامی کی کسر یہ اپنی زبان سے پوری کر دیتے ہیں اور گفتگو میں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دینے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک خود کو بزرجمہر اور ارسطو ثانی خیال کرتا ہے اور برملا یہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ نہیں رہا تو ملک برباد ہوجائے گا۔ یہ اقربا ء پروری، خوشامد، عجیب و غریب، شائستہ و ناشائستہ تراکیب کو بہت مہارت سے استعمال کرتے ہوئے عام طور سے مختلف اداروں کے سربراہان کے طور پر ملتے اور پائے جاتے ہیں اور کبھی کبھار شاذ و نادر کچھ چھوٹے موٹے عہدوں پر بھی مل جاتے ہیں اور جلد ہی ان اداروں کا بیڑہ عملی طور پر غرق کر کے اس تباہی کی ذمہ داری دوسرے عوامل پر ڈالنے کی خصوصی مہارت کے حامل ہوتے ہیں۔

ان کا انداز گفتگو، میر وغالب کی شاعری جیسا ہوتا ہے یعنی عملی اعتبار سے صفر اور خیالی اعتبار سے چیزے دگر۔ غلط انگریزی بہت اعتماد سے بلکہ اتنے اعتماد سے بولتے ہیں کہ ان سے معاملہ کرنے والے غیر ملکی وفود کو بھی جن میں سے بیشتر کی مادری و فادری زبان انگریزی ہے اپنی زبان دانی پر شک میں پڑ جاتے ہیں اور ہمارے مزاحیہ اداکار اپنی پرفارمنس برائے انگریزی زبان سے ا نہیں پہلے ہنسنے پھر رونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یہ مغربی تہذیب و لوازمات ماکولات و مشروبات کے عموماً دلدادہ ہوتے ہیں الا ماشا اللہ مگر لوگوں یعنی عوام کے سامنے مشرقی طرز زندگی بنائے رکھتے ہیں تاکہ عوام کا دل نہ ٹوٹے۔ یہ بیرونی ممالک کے اسفار کے بہت شوقین ہوتے ہیں اور سرکاری خرچ پر مع اہل خانہ و احباب خوب غیر ملکی دورے کر کے اپنے مبلغ علم میں اضافہ کرتے ہیں تا کہ اس علم سے فائدہ اٹھا کر ملکی ترقی کے نت نئے منصوبے بنا سکیں، مگر یہ منصوبیصرف ان کے عالی دماغوں میں بنتے ہیں اور وہیں رہتے ہیں عملی شکل اختیار نہیں کر پاتے۔ یہ دین دار بھی ہوتے ہیں اور کمیشن و کک بیکس کی رقم سے کبھی حج و عمرہ نہیں کرتے بلکہ سرکاری خرچ پر جاتے ہیں جس میں کوئی خاص شرعی قباحت بظاہر نہیں کمیشن و کک بیکس کی رقم کا کچھ ھصہ غریبوں کی بھائی پر ضرور خرچ کرتے ہیں اور اسے اپنے لیے ذخیرہ آخرت اور باعث نجات سمجھتے ہیں ماشا اللہ، ویسے یہ مزاحیہ اداکار بات بات پر آنکھوں میں آنسو لانے اور لہجے کو گلو گیر بنانے کے اتنے بڑے ماہر ہیں کہ ٹریجڈی کنگ یوسف خان المعروف بہ دلیپ کمار کی پر فارمنس بھی پھیکی پڑ جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   حج اور قربانی کا موسم، "دانشوروں" کے آنے کا وقت ہوا چاہتا ہے - محمد قاسم

ہمیں اپنے ان نادر روزگار عقبری فنکاروں پر ناز ہے۔