ہو من جہاں - بریرہ صدیقی

کسی ڈرامہ یا فلم سے کوئی اخلاقی نتیجہ نکالنے کی ہم جسارت ہر گز نہیں کرتے کہ ان کا مقصد عظیم تر ہے۔ عوام کو سستی تفریح مہیا کرنا، دینی شعائر کی تضحیک و تحقیر بھی عرصہ ہوا الیکٹرانک میڈیا کا مرغوب ترین موضوع ہے۔ جسے غیر محسوس انداز میں، کسی "بامقصد" پیغام میں ملفوف کر کے یوں پیش کیا جاتا ہے کہ دیکھتے ہوئے یہ احساس ہی جنم نہیں لیتا۔ ہم کسی بے ادبی کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں پاکستانی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا چونکہ یکسوئی سے مکمل بیٹھ کر دیکھنا مشکل لگتا ہے۔ ہیروئین کی اپنے دو دوستوں کے ساتھ انتہاوں کو چھوتی بے تکلفی، یکسان التفات، جا بجا معانقے اور بے تکلفانہ بوس و کنار کے مناظر مخمصے میں ڈالتے رہے کہ "نامزد ہیرو" کا قرعہ کس کے نام ہے؟ بظاہر پیشے کے انتخاب میں بچوں کے فطری رجحان کی ترجیح جیسے اہم موضوع پر بحث کرتی فلم کی کہانی آگے بڑھتی ہے۔ ایک طرف ایک کامیاب کنسرٹ کا انعقاد ہوتا ہے۔ جس میں زندگی ہے، ہجوم بیکراں کی بے پناہ مسرت ہے بالکل اگلے ہی منظر میں قرآن کریم کی سورۃ الکفرون کی مکمل تلاوت سنائی دیتی ہے۔ سخت گیر والد، ہاتھ میں تسبیح تھامے، وسیع و عریض مینشن میں سے ہموار ہوتا ہے۔ قرآن کریم کی صحبت میں تنہائی، وحشت اور سناٹے ہیں۔ قرآت میں اغلاط نمایاں ہیں۔ باپ اور بیٹی کے درمیان مکالمے کا آغاز ہوتا ہے۔ میوزک کی دلدادہ بیٹی، اکھڑ مزاج قاری باپ کے سامنے تسلیم و رضا اور حکمت و دانائی کا پیکر بنی فراخدلانہ پیشکش کرتی ہے۔ "پروفیشن" وہ اپنایا جائے جہاں طبعی میلان ہو۔ قرآن کریم کو بطور ایک "آپشن" کے پیش کیے جانے کے ساتھ ساتھ، "جومن چاہے، اس کا انتخاب" جیسے اچھوتے خیال کی نمائندہ فلم، مذہبی منافرت کی ناقابلِ برداشت حدوں کو چھوتی نظر آتی ہے۔

مشہور این جی او کا پیش کردہ سال گزشتہ کا ایوارڈ یافتہ ڈرامہ سیریل، کم سن بچی کی سوتیلے باپ کے ہاتھوں پائمالی جیسے المناک واقعے کو مکمل جزئیات کے ساتھ ظاہر کرتا ہے۔ خدامعلوم کتنی رقم کے عوض، معاشرے کی اس گندگی کو سامنے لانے کے لیے اس ننھی بچی کو "اداکارہ" بننے کے لیے حوالے کیا گیا ہوگا ؟اور یہ حالیہ ڈرامے کے نجس مناظر ہیں، جس میں باپ کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بیک وقت ماں اور بیٹی کے ساتھ ناپاک اٹکھیلیاں جاری ہیں۔ امکانات کو شواہد کے ساتھ کس قدر مہارت سے پیش کیا گیا ہے۔ مناظر دلفریب، بامعنی دلچسپ چھیڑ خانی اور دلنشیں مکالموں کے ساتھ معاشرتی برائیوں کو اجاگر کرتا یہ ڈرامہ بعید ازقیاس نہیں نئے سال کے ایوارڈ یافتہ ڈراموں میں سے ایک ہو۔ محض جوان لڑکی اور لڑکے کے درمیان عشق و محبت کا فیشن فرسودہ ہو چکا۔ اب کے نقب خانگی زندگی پر ہے۔ رشتوں کے تقدس کی پامالی بدترین شکل میں موجود ہے۔ جہاں من ہو، اپنی مراد وہاں سے پاو۔ بھلے کسی کی بیوی ہو یا کوئی کم سن معصوم کلی۔ ایسے مناظر سے متعفن ذہن تو تسکین پاتے ہی ہوں گے، ایسے میڈیا کے زیرِ تربیت پلنے، والی قوم پروان چڑھتی ہے تو بدبودار سوچ کو جنم دیتی ہے، جس کا ہر کردار "باغی" ہے۔ تمام خاندانی روایات کی دھجیاں اڑاتا باغی! رال ٹپکاتے، ڈکراتے ہوئے شکاری، ہمارے آس پاس ہر ہر لمحہ نئے شکار کی بو سونگھتے پائے جاتے ہیں۔ قرآن کی تدریس و تفہیم یہاں ایک آپشن ہے اور عورت بطورایک کموڈٹی موجود ہے۔ انسانیت بے توقیر، بددیانت حکمران، عدالتی نظام مفلوج، بے نیاز پولیس اور شرعی سزائوں کے نفاذ کا فقدان ہے۔ مجھے اپنی بچی کی گلابی جیکٹ کو ہاتھ لگاتے اور اسے پہناتے خوف آنے لگا ہے کہ اس میں ننھی زینب اپنی ملکوتی مسکراہٹ کے ساتھ، مجھے وارننگ دیتی اور خبردار کرتی نظر آتی ہے اور درد پہلے سے بھی سِوا ہو جاتا ہے۔ میں تو آج تک لاہور کی اس پانچ سالہ سُنبل کو بھلا نہیں پائی جو اس خوفناک درندگی کو سہہ کر بھی زندہ بچ گئی تھی۔

پے در پے سانحات ہوتے ہیں۔ میرے وطن کی سڑکیں ہجوم کے اشتعال کو ایک سمجھدار ماں کے حوصلے کی طرح برداشت کرتی ہیں۔ شاید دھرتی ماں اور حکمرانوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ اس کے بیٹوں کا یہ ابال اور یہ غیرت کتنی وقتی ہے۔ معاملہ ٹھنڈا پڑ جانے کا انتظار کیا جاتا ہے اور کبھی معجزاتی طور پر کسی سرفراز شاہ کے قاتل رینجرز کی گرفتاری عمل میں آ بھی جائے تو رقیق القلب حکمران تھوڑی ہی مدت کے بعد مجرموں کی "باعزت رہائی" کا نادر شاہی حکم جاری کرتے ہیں۔ وطنِ عزیز کی پاک سر زمین، تمام ناپاک شیطانی سرگرمیوں سے بوجھل اور اس کی گواہ ہے۔ مگر شعور کی رمق اور ایمان کی بچی کھچی چنگاریاں، اسی پابجولاں ہجوم کے درمیان ماجود ہیں۔ اجتماعی اصلاح کا محرک اور نظام کی تبدیلی کا پیش خیمہ انسانوں کا یہ سیلاب بن سکتا ہے کوئی جماعت آگے بڑھ کر امید کا پیغام بنے اور یہ عوامی طاقت کسی مثبت نتیجے کی بنیاد بن جائے۔ کاش!

Comments

Avatar

بریرہ صدیقی

بریرہ صدیقی شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور مختلف قومی جرائد اور دلیل کے لیے بھی لکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگلش میں ماسٹرز کے بعد چار سال جرمنی میں قیام بھی کر چکی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.