[نظم کہانی] رحم دل پنکی - محمد عثمان جامعی

کتنے فخر سے بولیں میڈم

میری بیٹی پنکی کا یہ

جانوروں سے پیار کا عالم

ڈوگی کو وہ ساتھ سُلائے

بٹھا کے گود میں کھانا کھلائے

نوکر کا جو بُرا دن آیا

ڈوگی کو نہلا نہ پایا

پنکی نے نوکر کو ڈانٹا

دی گالی اور مارا چانٹا

اور چڑھا جب اس کا پارہ

لاتوں اور گھونسوں سے مارا

جانوروں کے عشق میں سَنکی

کیسے بتاؤں

کتنی رحم دل، کتنی مہرباں

میری پِنکی