فاصلے بڑھنے نہ دیجیے - انعام الحق انعام

پولیس کو کال آتی ہے، بات کرنے والا کالج میں دو گروپوں کے درمیان سخت لڑائی ہونے اور فوراً پہنچنے کا کہہ کر فون بند کر دیتا ہے۔ سپاہی فوراً کالج کی طرف روانہ ہوتے ہیں جب وہاں پہنچتے ہیں تو طلبا کی ایک بڑی تعداد ہاتھوں میں ترکی کے سرخ ہلالی پرچم کو اٹھائے ان کے استقبال کو موجود ہوتی ہے۔ یہ دراصل طلباء کا اپنی پولیس کو خراج عقیدت پیش کرنے اورا ن سے اپنی محبت کا اظہار کا ایک بہانہ تھا۔

دوسرے منظر کی طرف آئیے۔ راستے میں کافی رش لگا ہوا ہے، ایسے محسوس ہو رہا ہے جیسے کوئی زخمی گرا پڑا ہو، ایک شور و غل، اتنے میں پولیس کی ایک گاڑی علاقے میں داخل ہوتی ہے،پولیس اہلکار گاڑی سے اترتے ہیں تیزی سے گھیرا ڈالے افراد کی طرف بڑھتے ہیں، دائرہ ڈالے افراد خود راستہ کھولتے ہیں تو درمیان میں خون سے لت پت کسی وجود کے بجائے، موم بتیوں سے سجا کیک ان کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ پولیس سے محبت اور ان کی قدر شناسی کے وعدوں سے بھرے نعرے فضا میں بلند ہوتے ہیں۔

آپ یوٹیوب کھولیے اور ترکی پولیس سے عوام کی محبت کے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھیے۔ یاد رکھیے کوئی بھی تعلق یک طرفہ نہیں ہوتا، ان محبت بھرے واقعات کے پیچھے وہ محبت بھرا تعلق ہے جو پولیس کی طرف سے عوام کو ملتا ہے۔ یہ دسمبر ۲۰۱۳ء کی بات ہے ہماری یونیورسٹی کی ایک تقریب میں رجب طیب اردوعان صاحب شرکت کرنے آئے تھے، وہ اندر کانفرنس ہال میں تھے۔ ہم بھی ایک گروپ کی شکل میں کانفرنس ہا ل میں داخل ہونےکی تگ و دو کر رہے تھے، کہ اتنے میں اندر سے اطلاع آئی کہ اب اندر کوئی جگہ نہیں ہے، وہاں موجود پولیس کے چاق و چوبند دستے نے عوام سے اپیل کی کہ اندر جگہ نہیں ہے اس وجہ سے پیچھے ہٹ جائیے، لیکن اپنے محبوب لیڈر کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب عوام پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے بڑھنے کو ہی ترجیح دے رہے تھے۔ پولیس اہلکار آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگے وہ بس اتنا کہہ رہے تھے، بھائی صاحب! بھائی جان! بڑے بھائی! پیچھے چلے جائیے، اندر جگہ نہیں۔ نہ تو کوئی بے ہودہ جملہ کسا جارہا تھا، نہ ہی دھکے دیے جارہے تھے، اور نہ ہی ڈنڈوں کی بارش تھی، بس یہی بھائی بھائی کا جملہ سنائی دے رہا تھا وہ اسی طرح آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ عوام کو مطلوبہ حد تک پیچھے کر دیا۔ جب سیکورٹی کے لحاظ سے اتنی اہم جگہ پر پولیس کا ایسا رویہ ہو تو پھر عوام کا جواب بھی اسی انداز کا ہوگا، جس کےصرف دو واقعات کی منظر کشی کی اوپر کی سطور میں کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لال مسجد - شہزاد حسین بھٹی

اگرچہ وطن عزیز کے مختلف علاقوں سے محبت کی ایسی مثالیں ڈھونڈنا بالکل بھی مشکل نہیں، اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دل وجان سے ملک وملت کی خدمت کرنے، سردی میں ٹھٹھرتے جوانوں کی بھی کمی نہیں اور گرمی میں پسینے سے شرابور ہمارے چھاؤں میں سکون سے کام کرنے کا کو ممکن بنانے والےسپوتوں کا بھی فقدان نہیں، ایک عام شہری کی حفاظت کو اپنی کل متاع سمجھنے والے امن کے رکھوالے بھی ہر جگہ ڈھونڈنے سے مل سکتے ہیں، لیکن محبت کے اس رشتے کا گلا گھونٹنے والوں کی بھی کمی نہیں، جن کی وجہ سے خوشی کا موقع ہو یا غم کے بادل چھائے ہوں، اعتماد کی چادر کو تار تار ہونے کو بہانے مل جاتے ہیں۔ فاصلوں کو اتنا بڑھایا جارہا ہے کہ یہ خلیج پاٹنا ناممکن بنا دی جائے۔ احتجاجی مظاہروں میں عوام پر سیدھی سیدھی گولیاں چلانے کے لیے کوئی بھی دلیل کافی نہیں ہوسکتی، نہتے شہریوں کو خاک وخون میں تڑپانے کی کوئی عقلی توجیہ ممکن نہیں، ملزم کی تذلیل و توہین کسی بھی اخلاقی معیار پر پوری نہیں اتر سکتی، آپ وردی میں ملبوس امن کے رکھوالے ہیں یا ایک عام شہری، خدارا محبت دیجیے اور محبت وصولیے۔

آپ پولیس کے ایک سپاہی ہیں تو اپنی عزت کروانے، اپنا رعب ڈالنے، مار مار کر خوف پھیلانے کے بجائے ایسا رویہ اپنائیے کہ مجرم تو آپ کو دیکھ کر ہی کانپنے لگے لیکن ایک عام شہری آپ کے پاس سے گزرتے ہوئے نظر جھکا کر، نفرت سے بھنویں چڑھا کر نہیں مسکراتے چہرے کے ساتھ، آنکھوں آنکھوں سے محبت بھرا سلام دے کر گزرے۔ اسے امن میں ہونے کا احساس ہو۔

اور اگر آپ ایک عام شہری ہیں توامن کے ان رکھوالوں کی قدر کیجیے، انہیں عزت دیجیے، قانون کے دائرے میں ان کا کہا مانیے۔ اور ہاں! یہ بھی ہمارے جیسے گوشت پوست کے انسان ہیں، ایک مسکراہٹ کے تبادلے سے ان کی طبیعت سرشار ہوسکتی ہے، ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس طبیعتوں کی گرمی ختم کر سکتا ہے، گاڑی کا شیشہ اتار کر آپ کا سلام چوراہے پر کھڑے سپاہی کے سینہ تان کر کھڑے ہونے کا سبب بن سکتا ہے، جامع مسجد، سکول، اور دفتر کے باہر پہرہ دیتے سپاہی کے ساتھ ایک لمحے کی گفتگو اس کی تھکاوٹ دور کر سکتی ہے۔ بے اعتمادی کے اس اندھیرے کو اجالے میں بدلنے کی کوشش کیجیے، اپنے حصے کا دیا جلائیے۔

Comments

انعام الحق

انعام الحق

دل ودماغ کی تختیوں پر ابھرتے نقوش کو قلم کے اشکِ عقیدت سے دھو کر الفاظ کے لبادے میں تحریر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سکاریہ یونیورسٹی ترکی میں پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ کا طالب علم ہوں، پاکستانی اور ترک معاشرے کی مشترکات اور تبدیلیاں اور اس سے منسلکہ سماجی اور اصلاحی موضوعات دلچسپی کا میدان ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.