غدار کون؟ - سمیع احمد کلیا

پچھلے دنوں اقتدار کی غلام گردشوں میں شیخ مجیب الرحمٰن کا ذکر ہوا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کا نام سن کے فوراً ذہن میں سقوط ڈھاکہ کے مناظر گھوم گئے۔ دل میں یہ سوال اٹھا کہ کیا شیخ مجیب الرحمٰن محب وطن تھا؟ کیااگرتلہ سازش سچ تھی یا جھوٹ؟ کیا شیخ مجیب الرحمٰن بھارتی حکومت سے رابطے میں تھا یا نہیں؟ کیا شیخ مجیب الرحمٰن کو غدار کہے جانے، اگرتلہ سازش اور 6 پوائنٹ ایجنڈے کی ناکامی کے بعد شیخ مجیب الرحمٰن نے مشرقی پاکستان کی آزادی کی مہم شروع کی تھی؟ یہ ایسے سوال ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمٰن محب وطن تھا یا غدار تھا؟

اس موضوع پر سن 2011ء میں بنگلادیش کی 40 ویں یوم آزادی پہ ایک کتاب منظر عام پہ آئی جس کا نام تھا۔ India, Mujib ur rehman, Bangladesh Liberation & Pakistan اس کتاب کا مصنف سشانکا ایس بینرجی سابقہ بھارتی سفارت کار تھا۔ اس کتاب میں مصنف نے یہ دعوٰی کیا کہ شیخ مجیب الرحمٰن نے مجھ سے 25 دسمبر 1962 میں ڈھاکہ میں ملاقات کی۔ اس وقت بینر جی بھارت کے ڈھاکہ کے سفارت خانے میں تعینات تھا۔ اس ملاقات میں شیخ مجیب الرحمٰن نے بینر جی سے درخواست کی کہ وہ اس کا پیغام وزیراعظم جواہر لال نہرو کے پاس لے کے جائے۔ اس پیغام میں شیخ مجیب الرحمٰن نے مشرقی پاکستان کی آزادی کے لیے بھارت کی مدد مانگی تھی۔

یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب شیخ مجیب الرحمٰن عوامی لیگ کا صدر بھی نہیں تھا۔ اس ملاقات کے بعد بینر جی نے مختلف بھارتی حکومت کے عہدے داروں کی شیخ مجیب الرحمٰن سے ملاقات کروائی اور وہ ان ملاقاتوں کا حصہ رہا۔ یہ کتاب ان ملاقاتوں اور پھر ان کے نتیجے میں ہونے والے واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ شیخ مجیب الرحمٰن 1962 اور 1963 میں ہی لندن پناہ لے کے مشرقی پاکستان کی آزادی کا اعلان کرنا چاہتا تھا لیکن بھارتی حکومت نے اس طریقہ کار کی مخالفت کی اور شیخ مجیب الرحمٰن کو مشرقی پاکستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور عوام کی طاقت کو اپنا ہمنوا بنانے کا مشورہ دیا۔ پھر اس کے بعد جو ہوا وہ پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہے ۔

مصنف کی بنگلہ دیش کے حوالے سے اہمیت آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بنگلہ دیش کا دوسرا صدر جسٹس ابو سعید چوہدری بینر جی کی سفارش پہ بنا اور اسی کے کہنے پہ بنگلہ دیش سیکولر ریاست بنی اور اس نے پارلیمانی نظام اپنایا۔ اس کتاب کے تمام مندرجات کو بنگلادیش کی موجودہ حکومت اور بھارت سچ مانتے ہیں اور انہوں نے اس پہ کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ فاطمہ جناح کی الیکشن مہم میں شیخ مجیب الرحمٰن کی شمولیت ایک ڈھونگ تھا۔ اور مکتی باہنی فورس بھی کی جنگ سے بہت پہلے بن چکی تھی۔

شیخ مجیب الرحمٰن کی بیٹی شیخ حسینہ واجد کا رویہ بھی ہمیں ظاہر کرتا ہے کہ اس کو پاکستان سے کتنی انسیت ہے۔ جماعت اسلامی بنگلادیش کے بزرگ سیاستدانوں کو 1971 کے واقعات کی بنا پہ پھانسیاں دینا شیخ حسینہ واجد کی پاکستان سے بغض، کینہ اور نفرت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے میں پاکستان سے محبت کرنے والے باپ کی بیٹی کی پاکستان سے نفرت سمجھ سے باہر ہے۔ ظاہر سی بات ہے شیخ مجیب الرحمٰن پاکستان سے نفرت کرتا تھا اور یہی نفرت کی وراثت اس نے اپنی بیٹی کو دی ۔

اب اگر آج کے دور میں کوئی بھی شخص شیخ مجیب الرحمٰن بننے کی بات کرے تو اسے جان لینا چاہیے کہ وہ ملک کا غدار بننے جارہا ہے۔ شیخ مجیب الرحمٰن پہ غداری کا الزام 1968 میں اگرتلہ سازش میں لگا تھا جبکہ وہ 1962 سے ملک دشمنوں سے رابطے میں تھا۔ ایسے میں شیخ مجیب الرحمٰن بننے کا پہلا مطلب تو دیرینہ دشمن بھارت سے دوستی ہے۔ دوسرا مطلب پاکستان کو توڑنے کی سازش ہے۔ تیسرا مطلب خانہ جنگی شروع کرانا اور مسلح گوریلا فوج دشمن سے تربیت کروا کے ملک کی فوج سے لڑانا ہے اور یہ سب اشارے غدار وطن بننے اور غدار کہلائے جانے کی خواہش کے ہیں۔ ایسے میں سوچنے کی بات ہے کہ کیا ہمارا ذاتی کردار اتنا برا اور گھناؤنا ہوسکتا ہے کہ ہم اس ملک جس نے ہمیں پہچان دی، ہمیں عزت دی اس کے مفاد کو پس پشت ڈال کے اس کو ریزہ ریزہ کرنے پہ تل جائیں۔ کیونکہ ہم ملک سے ہیں ملک ہم سے بالکل نہیں ہے۔ یہ ملک ہے تو ہم ہیں یہ ملک خدا نخواستہ نہیں تو پھر ہم بھی نہیں ۔

اس لیے ہمیں تاریخ کی اچھی ترجمانی کرنی چاہیے۔ ملکی تاریخ کے مثبت کرداروں سے مناسبت ظاہر کرنی چاہیے۔ جس دھرتی نے عزت دی ہو اس کی عزت کا باعث بننا چاہیے۔ ورنہ تاریخ آپ کو میر جعفر اور میر صادق جیسے کردار جنہوں نے ذاتی مفاد میں ملک و ملت کی سوداگری کی ان کی صف میں کھڑا کردینا ہے جو آج بھی قابل نفرین استعارے ہیں ۔

Comments

Avatar

سمیع احمد کلیا

سمیع احمد کلیا پولیٹیکل سائنس میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور سے ماسٹرز، قائد اعظم لاء کالج، لاہور سے ایل ایل بی اور سابق لیکچرر پولیٹیکل سائنس گورنمنٹ دیال سنگھ کالج، لاہور ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.