زینب زندہ ہوتی ... تو؟ - ابوالوفا محمد حماد اثری

سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں:

ہوا کچھ یوں کہ ایک خاتون نماز کے لیے گھر سے نکلتی ہیں، راہ میں ایک شخص ان سے زبردستی ہے اپنی جنسی پیاس بجھالیتے ہیں، صبح کا اندھیرا ابھی باقی ہے اور وہ خاتون ان صاحب کو صحیح طور پہچان نہیں پائی ہیں۔ وہ چیخنے لگیں، جس نے ان سے زنا کیا تھا وہ بھاگ لیے، لوگ جمع ہوئے تو ان خاتون نے اسی وقفے میں وہاں سے گزرتے کسی اور شخص پر الزام رکھ دیا، صحابہ اس کو پکڑ لائے، تب رسول اللہ ﷺ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، جب انہیں رجم کیا جارہا تھا تو ایک اور شخص اٹھ کھڑے ہوئے کہا: یا رسول اللہ ﷺ یہ صاحب بے قصور ہیں، وہ زنا مجھ سے سرزد ہوا، مجرم حاضر ہے، سزا دیجیے۔(سنن الترمذی: 1454، وسندہ صحیح)

اس واقعہ کی سند صحیح ہے، اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ

1۔ فیصلے ہمیشہ گواہیوں پر نہیں ہوتے، بلکہ حالات و واقعات دیکھے جاتے ہیں اور اس کے بعد فیصلے کیے جاتے ہیں۔

2۔ اس قصے میں خاتون کے پاس کوئی گواہ نہیں اور ایسے وقت میں ان کے پاس گواہ کا ہونا ممکن بھی نہیں، پھر وہ چیختی چلاتی ہیں، اندھیرے کا وقت ہے، ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھا گیا ہے اور ان سے گواہ طلب کرنے کی بجائے صرف یہ پوچھا گیا ہے کہ آپ کے ساتھ زیادتی کرنے والا کون تھا؟

3۔ پھر جس پر ان خاتون نے الزام رکھا ہے اس کے رجم کا حکم دیا گیا، کیوں؟ اس لیے کہ وہ شخص بھی اس وقفے میں وہاں موجود تھا اور خاتون نے اس پر الزام لگا دیا تھا، یہ ظاہری قرائن اسے مجرم بتا رہے تھے اور انہیں کی بنا پر اس کو رجم کرنے کا حکم سنا دیا گیا۔ شیخ الاسلام ابن قیم رحمہ اللہ نے طرق الحکمۃ میں صحابہ کرام کے کچھ دیگر واقعات کا بھی تذکرہ کیا ہے، جن میں انہوں نے صرف قرائن کی بنا پر حد قائم کردی۔

4۔ یہاں نبوی معاشرے کی ایک جھلک بھی دیکھ لیجیے کہ گناہ تو ہوا مگر تھوڑے ہی وقفے میں اپنے گناہ کا اقرار کر لیا، حالاں کہ اس وقت نہ تو کسی کو ان پر شک تھا، نہ کوئی ان سے پوچھ رہا تھا اور نہ آئندہ پوچھے جانے کا گمان تھا، بات کیا تھی؟ روح کی تطہیر، گناہوں سے طبائع کا تنفر اور اللہ کے حضور جواب دہی کا خوف اور تم کہتے ہو کہ صحابہ مومن نہیں تھے۔

5۔ اس پر غور کریں کہ رسول اللہ ﷺ کے معاشرے میں زنا کے چار یا پانچ کیسز ہیں اور اکثر میں اقرار جرم خود کر لیا گیا ہے، حتی کہ ایک بوسہ بھر گناہ بھی ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آن پہنچے کہ خدا کے رسول! اب میری بخشش بھلا کیسے ہوگی؟ اور چھوٹی بچی یا چھوٹے بچے کے ساتھ زیادتی کا تو تصور بھی نہیں ملتا۔ ان چیزوں کو ہم دیکھتے ہیں تو کہنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ چھوٹے بچوں کے ساتھ، ماں اور بہن کی تمیز کیے بغیر، ظلم زیادتی اور زنا کے کیسز مغرب کا تحفہ ہیں، ڈارک ویب سائٹس کا انعام ہیں۔ انسان اپنی جبلت میں بہت شرمیلا واقع ہوا ہے، یہ اس وقت تک کوئی گناہ کرتا ہی نہیں، جب تک کہ اسے معاشرے میں اس کی مثال نہ ملے اور جسے دن رات ایسا مواد دیکھنے کو ملے، جسے ایسا مواد نشر کرنے پر پیسے ملتے ہوں، جس کے ماحول میں ایسی حیا سوزیوں کے دفاع میں دلائل لائے جاتے ہوں، وہ بد تمیزی کی انتہا نہیں کرے گا تو کیا کرے گا؟ وہ ظلم میں حد سے نہیں بڑھے گا تو کیا کرے گا؟ وہاں زینب زندہ کیسے رہ پائے گی؟ وہاں بیٹیوں کے حقوق کیسے محفوظ رہیں گے؟

اس کا حل وہی ہے جو نباض فطرت محمد رسول اللہ ﷺ نے بتادیا، تم لوگ مگر اس کو ماننے پر تیار نہیں، تم سے اسلام کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے تو تم ہندوستانی معاشرے کی مثال دینے لگتے ہو؟ کہتے ہو کہ یہاں مغرب کے آنے سے پہلے بھی یہی کچھ تھا، لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ یہاں کبھی اسلام کا نفاذ ہوا ہی نہیں پوچھا یہ تھا کہ جہاں اسلام کا نفاذ ہوا ہی نہ ہو، نہ جانے کیوں اس معاشرے بدتمیزی اور بے حیائی کو اسلام کے نام تھوپ دیتے ہو؟

تم کہتے ہو کہ زینب زندہ ہوتی تو لوگوں نے اسے دیکھ کر زیر لب مسکرا دینا تھا۔ لیکن یہ نہیں بتاتے کہ لوگوں کے ہنس دینے کی وجہ اسلام نہیں، اس کی وجہ تیرے معاشرے کی غلیظ اور گندی سوچ ہے۔ اسلام جو کہ گناہ پر بھی پردہ ڈالنے کی بات کرتا ہے، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک زانیہ کو برا بھلا کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فوراً روک دیا۔ اسلام جو عائشہ صدیقہ ام المومنین کو صرف اس لیے ٹوک دیتا ہے کہ انہوں نے ایک خاتون کے چھوٹے قد کی طرف شارہ کیا تھا، جو باربار کہتا ہے کہ لایحب اللہ الجہر بالسوء برائی کا تذکرہ بھی نہ کرو، اسلام جو کسی کی عدم موجودگی میں اس کے متعلق ایسی بات کہنے سے بھی روکتا ہے جو اس میں پائی جاتی ہو مگر وہ اس کے تذکرے کو برا جانتا ہو، وہ اسلام اور اس کو اپنی روحوں میں بسا رکھنے والے زینب کر دیکھ کر زیر لب کیسے مسکرائیں گے؟ وہ تو تڑپ دیں گے، ان کی آنکھیں بول پڑیں گی اور اللہ کے خوف سے سجدوں میں گر جائیں گے کہ بار الہا! تیری زمین پر زینب لٹ گئی، تیرا آسمان گرجائے، تیری زمین پھٹ جائے، مجھے کسی طور زینب کے مجرموں میں کھڑے نہ کرنا۔ وہ تو جانتے ہوں گے کہ زینب سے زیادتی کرنے والا تو مجرم تھا ہی لیکن اس کو دیکھ کر اس مسکرا دینے والا اس سے بھی بڑا ظالم ہے، زینب کل کو اس کا گریباں پکڑے گی کہ بتاو میرا جرم کیا تھا؟ کیوں مجھے قتل کیا گیا؟ کیوں میرے جانے پر سیاست چمکائی گئی؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */