زینب قتل کیس اور انڈر ورلڈ چائلڈ پورن بزنس - ثناء اللہ خان احسن

سانحہ قصور جس میں 300 بچوں سے جنسی زیادتی کر کے ویڈیوز بنائی جاتی تھیں وہ حکومت نے دبا دیا تھا۔ وہ قصہ بین الاقوامی سطح پر پھیلے ہوئے چائلڈ پورن بزنس سے جڑا ہوا تھا اور یہ کروڑوں روپے کی مارکیٹ ہے۔ پورن انڈسٹری (گندی فلموں کی صنعت) کی کئی اقسام ہیں جن میں سب سے گھناؤنی صنعت چائلڈ پورن کی ہے اور چائلڈ پورن کی اقسام میں سے مزید سب سے گھٹیا ترین صنعت پیڈوفیلیا پورن کی ہے۔

پیڈوفیلیک پورن میں بالغ مردوں اور بوڑھے کو دو سے چودہ سالہ بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کرتے دکھایا جاتا ہے۔ یورپی ممالک کے کئی پارلیمینٹیرئنز ہیں جن پر پیڈوفیلیا یعنی بچوں سے جنسی عوامل میں ملوث رہنے کے الزامات لگ چکے ہیں اور کئی ایسے ہیں جن کو سزا بھی ہو چکی ہے۔ وہ لوگ اپنی جنسی تسکین کےلیے ایسی ویڈیوز ہزاروں ڈالرز میں خریدتے ہیں۔ ان ویڈیوز کا کاروبار ڈارک ویب پر کیا جاتا ہے اور ادائیگی کے طریقے ایسے ہیں کہ پتہ نہیں چلتا کہ خریدار کون ہے اور بیچنے والا کون؟ صرف یہی نہیں بلکہ وہاں پر جبری زنا کی ویڈیوز بھی فروخت ہوتی ہیں کیوں کہ مغرب میں بیٹھے امیروں کی بڑی تعداد ایسی ویڈیوز کی گاہک ہے۔جب قصور میں 300 بچوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا تھا اس وقت بچوں نے مجرم بھی شناخت کر لیے تھے۔ وہ گرفتار ہوئے تھے مگر پولیس نے پھر چھوڑ دیے۔ اس کی وجہ بھی سن لیں۔ مقامی با اثر سیاستدان بچوں کے ساتھ بدفعلی کی ویڈیوز بنا کر مہنگے داموں بیچنے کے کاروبار میں ملوث تھے۔ یہ سارا کام ان کی زیرِ نگرانی چل رہا تھا۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس اسکینڈل کے بعد سے ہی زینب سمیت 12 بچے اور بچیوں کی لاشیں ملنا شروع ہوئی ہیں۔ یعنی اب یہ شیطان مزید کوئی رسک نہیں لینا چاہتے اس لیے اپنا کام کرنے کے بعد بچوں کو قتل کردیتے ہیں۔ بطورِ قوم ہم ننگے ہو چکے ہیں اور اب بھی مقامی سیاست دان ہی ملوث نکلیں گے۔ اگر قصور اسکینڈل کیس کی گہرائی سے تفتیش کی جاتی تو اس معاملے کہ تہہ تک پہنچا جا سکتا تھا اور اس کے بعد زینب سمیت جو بارہ بچے بچیاں اغوا اور قتل ہوئے ایسا نہ ہوتا۔

یہاں میں اپنے محترم دوست محمد اقبال قریشی کی ایک پوسٹ کا کچھ حصہ کاپی کر رہا ہوں تاکہ آپ بھی جان سکیں:

"ڈارک ویب کو ٹریس کرنا بے شک مشکل ہے لیکن قصور جیسے علاقے میں انٹرنیٹ صارفین کا پتا لگانا کوئی ایسا مشکل کام نہیں، سارا ریکارڈ ڈیٹا بیس میں موجود ہے، اگر میں کہوں کہ ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ کی گئی ایک ایک میگا بِٹ کا ریکارڈ تو غلط نہ ہو گا۔ پولیس متعلقہ محکمے کی مدد سے سارا ریکارڈ نکلوا سکتی ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج کے گردو نواح میں جتنے صارفین ہیں، ان کی اغوا کے دن سے لاش ملنے کی ڈیٹ تک اگر صرف اپ لوڈ سپیڈ اور اپ لوڈ کیا گیا ڈیٹا ریکارڈ ہی نکلوا جائے تو کیس کو حل سمجھیے۔

پھر یہ عمل رات کو ہی کیا گیا اور خاصی دیر تک جاری رہا، جب تک واردات ہوتی رہی، انٹرنیٹ خوب استعمال ہوا، ڈیٹا ڈاؤن لوڈ سے زیادہ اپلوڈ کیا گیا کہ یہی اس جرم کی سب سے بڑی ڈیمانڈ تھی۔ جب جرم ہو چکا تو یہ عمل رک گیا کیوں کہ لائیو اسٹریمنگ کی اب ضرورت نہ تھی۔ اب چند دنوں میں کون سے صارف نے انٹرنیٹ کا ایسا بے تحاشا استعمال کیا ہوگا، یہی سراغ لگا لیں تو کیس حل سمجھیں۔ یاد رکھیے، وی پی این استعمال کیا جائے تو بھی اپ لوڈ اور ڈاؤن لوڈ پیرامیٹرز کم از کم پی ٹی اسی ایل والوں سے چھپے ہوئے نہیں رہتے کیوں کہ وہ اسی کی بنیاد پر بلنگ انفارمیشن ترتیب دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ ایسے کام سست رفتار کنکشن پر تو کبھی نہیں کیے جاتے، پھر اس گروہ کے ہیڈکوارٹر میں ایک سے زائد کنکشن بھی ہوں گے اور کچھ تو چوبیس گھنٹے فعال رہتے ہوں گے۔ اس نقطہ نگاہ سے تفتیش کا دائرہ مزید سکڑ جاتا ہے۔"

اب آتے قتل کے بعد کی چند روزہ رپورٹ کی طرف ، قصور میں جن لوگوں نے یہ واردات کی، قوی امکان یہی ہے کہ انھوں نے رقم پاکستان منتقل کروائی، آن لائن ٹرانزکشن کی تفصیلات وغیرہ کا ان دنوں کا یا چند روز بعد کا ریکارڈ اس ضمن میں خاصا معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ قصور میں فعال منی ایکسچینج دفاتر سے بیرون ممالک سے آنے والی بھای رقوم کو ٹریس کر کے بھی کچھ نہ کچھ کلیو مل سکتا ہے۔ اگر یہ گینگ اس قسم کی وارداتوں میں ایک عرصہ سے ملوث ہے تو یقیناً قصور کی فارن کرنسی انڈسٹری بھی بہت اچھی جا رہی ہوگی۔ گروہ کے تمام ارکان تو اپنی رقوم بیرون ملک نہیں رکھتے ہوں گے، کچھ نہ کچھ بلکہ ایک بڑا حصہ قصور یا لاہور کے بینکوں میں ہی محفوظ کیا جاتا رہا ہوگا، بھاری منتقلی کا ریکارڈ وہ ابھی ان دنوں ميں کارآمد کلیو ہوگا۔"

اگر قصور میں ہونے والے جنسی اسکینڈل کیس کی مجرموں کو سزائیں دی جاتیں تو یقیناً یہ مزید وارداتیں نہ ہوتیں۔ خدا کرے کہ ہماری انٹیلی جینس ایجنسیاں اس زاویے سے بھی تحقیقات کر رہی ہوں۔ اب ایک نئی فوٹیج بھی آئ ہے جس میں زینب کو اغوا کرنے والے شخص کو زینب کی گلی میں چلتے پھرتے دکھایا گیا ہے۔ یہ فوٹیج انتہائی عمدہ اور واضح ہے۔وہ شخص مستقل گلی میں اس طرح ٹہل رہا ہے جیسے کسی کا انتظار کررہا ہو۔ اس فوٹیج میں اس کے چہرہ اور لباس انتہائی واضح ہیں، وقت بھی شام کا ہے اور لگتا یہی ہے کہ اس شخص نے زینب کو اس کو گھر سے نکلتے ہی اغوا کیا ہے۔ جس وقت وہ سپارہ پڑھنے جانے کے لیے گھر سے نکلی تھی۔ اب اس شخص کی شناخت کم از کم کوئی مسئلہ نہیں رہی۔

دوسری ایک بات یہ بھی قابل غور ہے کہ وہ زینب کے گھر سے نکلنے سے پہلے ہی کیوں گلی میں ٹہل رہا تھا؟ کیا اس کو پہلے سے زینب کے نکلنے کا پتہ تھا؟ وہ مستقل موبائل فون پر ٹیکسٹنگ بھی کررہا تھا۔ یعنی قاتل نے ریکی بھی کی ہے ، یعنی اپنے شکار کو اٹھانے سے پہلے وہ اس کا پیچھا کرتا رہا، معمولات کو نوٹ کرتا رہا اور اس دوران کسی ایک موقع کا فائدہ اٹھا کر کسی آدم خور درندے کی طرح اسے اچک کر لے گیا ۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ یہ لوگ جو کوئی بھی ہیں ، ایک منظم مافیا کی طرز پر سائنسی انداز میں ہر واردات کر رہے ہیں ، ان کا یہی ایک کام نہ ہوگا، یہ اجرتی قاتلوں ، بین الاقوامی دہشت گردوں اور ایسے ہی دوسرے جرائم پیشہ نیٹ ورکس تک بھی پولیس کو رسائی دے سکیں گے ۔ اگر پولیس چاہے تو جیو فینسنگ (geofencing) سے بھی کچھ نہ کچھ مدد ضرور مل سکتی ہے۔ صرف شام پانچ بجے سے چھ بجے تک اس گلی میں استعمال ہونے والے موبائل فونز کے ڈیٹا کو حاصل کر کے اس شخص کے فون کو ٹریس کیا جا سکتا ہے۔

اگر اس قسم کا کام کرنے والے ہمارے ملک میں یہ سب کر رہے ہیں تو پہلی فرصت میں تمام تر ذرائع کو بروئے کار لا کر فوری طور پر ان تمام شیطانوں کو اس گھناؤنے جرم پر سزائے موت دینی چاہیے۔ اس سلسلے میں قصور جنسی اسکینڈل کے رہا اور ضمانت یافتہ تمام افراد کو گرفتار کرکے ان سے بھی تفتیش کرنی چاہیےسارے ڈانڈے یہیں سے ملیں گے۔

آج کل دنیا بھر میں پھیلے جنسی شیطانوں اور نفسیاتی مریضوں کے لیے ڈارک ویب پر باقاعدہ اس طرح کا تشدد اور جنسی فعل کی لائیو اسٹریمنگ کی جاتی ہے۔ اس دنیا میں ایسے درندے بھی ہیں جو یہ سب کچھ لائیو دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں اور ان کا یہ شوق ایک نشے کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ ایک انگریزی فلم ہاسٹل 1 اور ہاسٹل 2 میں یہی سب کچھ دکھایا گیا ہے ۔ یہ لاکھوں ڈالر کا بزنس ہے اور رقم فوری آپ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جاتی ہے۔ قصور میں جنسی اسکینڈل سے لے کر زینب تک جو کچھ ہوا اس سے اس شک و شبہے میں کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ یہ سب انڈر ورلڈ پورن کے لیے کیا جا رہا ہے۔

میں سخت حیران ہوں سخت پریشان اور شرمندہ ہوں کہ اس ملک میں ایسے شیطان بھی وجود ہیں جو پیسے کے لیے ایسا گھناؤنا اور غلیظ ترین شرمناک کام انجام دیتے ہیں اور اپنی ہی معصوم کمسن بچیوں کو اس طرح وحشت و بربریت کا نشانہ بنا کر لائیو دکھاتے ہیں؟ کہ شیطان بھی شرما جاتا ہوگا۔ حکومت کو ہر حال میں ان افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا۔