زینب کے لہو سے جلتا تندور - انعام مسعودی

پہلے وقتوں میں گاؤں دیہات کے علاوہ شہروں اور قصبوں میں بھی اکثر گھروں میں تندور ہوا کرتے تھے، اب تو دیہات میں بھی مفقود ہوتے جا رہے ہیں۔ دن کا آغاز جلدی ہوا کرتا تھا، گھر کی خواتین صفائی ستھرائی کے بعد دن کے کھانے پکانے میں لگ جایا کرتی تھیں، ہانڈی تو لکڑی کے چولہے پر پکتی تھی لیکن روٹیاں تندور پر لگائی جاتی تھی۔ اس مقصد کے لیے لکڑیاں اور بسا اوقات جھاڑیاں اکھٹی کر کے رکھی جاتی تھیں جو جلا کر تندور گرم کیا جاتا اور پھر ان لکڑیوں کے کوئلوں کی آنچ پر روٹیاں لگائی جاتی تھیں۔ تندور گھر کے کھلے صحن کے ایک کونے میں کسی درخت کے نیچے ہوا کرتے تھے۔ ایک بار جب تندور گرم ہو جائے تو اس کی آنچ کافی دیر تک رہتی ہے اس لیے اکثر اوقات اگر ایک گھر میں تندور جلتا تھا تو آس پاس کے کئی گھروں کی خواتین اپنے گھروں سے آٹے کے پیڑے ایک تھال میں رکھ کر اسے کپڑے سے ڈھانپ کر تندور والے گھر آجاتی تھیں اور مل جل کر تندور میں روٹیاں لگاتیں اور اپنے اپنے گھر کی روٹیاں پکا کر لے جاتیں۔ تندور پر روٹیاں لگانے کی یہ مجلس حالاتِ حاضرہ سے آگاہی کی ایک نشست بھی ہوا کرتی تھی۔ یوں تندور تو ایک گھر میں جلتا مگر روٹیاں سب اپنی اپنی لگا کر لے جاتے۔ اسے آپ موقع سے فائدہ اٹھانا بھی کہہ سکتے ہیں۔ موقع سے فائدہ اٹھانے کا یہ عمل ماڈرن مینیجمنٹ کی دنیامیں ایک تھیوری کے تحت بھی جانا جاتا ہے، جسے ’’اپارٹیونٹی اِن تھرٹ‘‘ Opportunity in Threat کہا جاتا ہے۔

کچھ ایسا ہی حال اس وقت زینب کے سانحے کے بعد ہمارے ملک میں پیدا ہوچکا ہے۔ مغرب زدہ این جی اوز میڈیا کے چند ابن الوقت لوگ بالخصوص خواتین فنکارائیں جو پچھلے چند دنوں میں اپنے استحصال کی کہانیاں سناتے ہوئے یہ تک کہہ چکی ہیں کہ ان کے کیرئیر کا آغاز ہی ان کے جنسی معاملات کے ذریعے ہوتا ہے اور ان کی کامیابیوں کا انحصار بھی اسی پر ہوتا ہے (جو کہ شاید زبردستی کے زمرے میں نہیں آتا ہوگا) وہ بھی اب ننھی زینب کے خون پر اس ملک میں ایک نئے اخلاقی بحران کی راہیں ہموار کر رہی ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ یورپ اور مغرب میں کیا زینب جیسے سانحات نہیں ہوتے ؟ اگر اعداد و شمار اکھٹے کرنے کی زحمت گوارہ کی جائے تو آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ جائیں گی۔ (اگر کسی کو شک ہو تو گوگل پرchild rape in Australia/USA/UK وغیرہ کے عنوان سے صرف ایک سرچ کر کے دیکھ لیں)

اگر یہ سوال ان سے کیا جائے کہ آسٹریلیا میں رہنے والی وہ لڑکی کیا پڑھی لکھی نہیں تھی اور سیکس کے بارے میں آگاہی اور بچاؤ کے طریقوں سے نا بلد تھی جس کے باپ نے کئی برس تک اس کے ساتھ زیادتی کی؟ کیا امریکہ میں، یورپ میں اور جدید مغربی ممالک میں جبری سیکس، اغوا برائے سیکس اور اس جیسی دیگر لعنتیں ختم ہو گئی ہیں؟ وہا ں تو سیلف ڈیفنس، سیکس ایجوکیشن اور اس جیسی دیگر کئی طرح کی کو ششیں معاشرے کو زنا اورسیکس سے بچانے میں ناکام ہو چکی ہیں تو یہاں یہ سب کامیاب ہو سکے گا؟ ہرگز نہیں۔

بچوں کو ان کے حقوق سے روشناس کرانے سے قبل بڑوں کو ان کے فرائض سکھانا اور ان پر عمل کروانا بہت ضروری ہوتا ہے۔ کسی بڑے درخت کے نیچے چھوٹے پھلدار پودے اور سبزیاں صرف اسی صورت میں بار آور ہوتے ہیں جب بڑے درختوں کی شاخ تراشی اور مناسب فاصلے کو برقرار رکھا جائے، ورنہ چاہے جتنی کھاد ڈال لیں یا جتنی چاہے گوڈی کر لیں بڑے درختوں کا سایہ ان کو اُگنے نہیں دے گا، اور اگر بڑے درختوں کو ٹھیک طور پر قابو کیے بغیر چھوٹے پودوں کو کھاد دی جاتی رہے تو وہ گل سڑ جاتے ہیں۔

گزشتہ چند دنوں سے جس طریقے سے میڈیا پر ایک طوفانی مہم جوئی اس ضمن میں برپا ہے ،اس کے نتائج کے بارے میں معاشرے کو مکمل ادراک ہونا بہت ضروری ہے۔ جنسی حملوں سے بچاؤ کی تربیت کے باب میں ہمارے معاشرے کی ترکیب، خاندانی ہیئت اور دینی اور نفسیاتی پہلوؤ ں کو نظر انداز کر کے اگر کو ئی قدم اُٹھا لیا گیا تو اس کے نتائج بھی کہیں وہی نہ نکلیں جو آج ہم میڈیا کی مادر پدر آزادی یا مو بائل فون کی آمد کے باب میں بھگت رہے ہیں۔ اس کے لیے معاشرے کی تمام اکائیوں بشمول دینی حلقوں، والدین، ماہرین تعلیم، ماہرین نفسیات، بچوں کی نفسیات کے ماہرین اور نصاب سازی کے ماہرین کی مدد سے ضروری غور و خوض کر کے ہی اقدامات اُٹھانے چاہئیں۔ اگر اس ضمن میں مغرب زدہ آنٹیوں اور نام نہاد سوشل ورکرز کی سفارشات اورمیڈیا ہاؤسز کے دباؤ پراندھا دھند اقدامات کیے گئے اورمغرب کی اندھی تقلید کی گئی تو اگلا قدم سیکس کے درست طریقوں کی تعلیم کے لیے راہیں ہموار کرنا ہوگا، پھر اگلے مرحلے میں بچوں کو خدانخواستہ سیکس کے محفوظ طریقے سکھانے کے لیے بھی اسی طرح کی مہمات دیکھنے میں ملیں گی اور یہ سلسلہ یہیں نہیں رکے گا، پھر سیم سیکس میرجز، انسسٹ ریلیشنز اور نہ جانے کیا کیا خرافات ہمارے ہاں کھلم کھلا نہ صرف مرکز گفتگو ہوں گے بلکہ ان پر ایک حوصلہ افزا فضا بھی قائم کی جائے گی۔ اس وقت کا تصور کرکے ہی ایک با شعور اور با حیا شخص کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس مو ضوع پر بھی گفتگو اور غور و خوض کی شدت سے ضرورت ہے کہ کیا جرم کا تعلق صرف اور صرف مادیت سے ہی ہے یا اس میں کوئی اور عوامل بھی شامل ہیں۔

  • ہمیں لمبی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ اس بارے میں بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے کہ ہمارے ٹی وی چینلز معاشرے کی تشکیل میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ وہ اعلیٰ ترین عدالتیں جو اس وقت زینب کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے انتہائی اقدام کر رہی ہیں جب ان کی عدالت میں یہ اپیل کی گئی تھی کہ خدارا! اس ملک کو فحاشی کے سیلاب سے بچائیں تاکہ ملک اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار نہ ہو تو جن لوگوں کی یادداشت اچھی ہو گی انہیں اچھی طرح یاد ہو گا کہ اُس وقت کے چیف جسسٹس نے یہ سوال کھڑا کر دیا تھا کہ فحاشی کی کیا تعریف کیا ہوتی ہے؟ یہ سوال بالکل ایسا تھا کہ جیسے جون کے مہینے میں دن بارہ بجے یہ پوچھا جائے کہ گرمی کیا چیز ہوتی ہے؟ اب اپنے ہاتھوں کی دی گئی گرہوں کو دانتوں سے کھولتے ہوئے تکلیف تو بہت ہوتی ہوگی۔ حد تو یہ ہو گئی ہے کہ نو بجے کے خبر نامے میں بھی ہر دن کسی نہ کسی بھارتی فلم، کسی اداکارکی سالگرہ، کسی کی شادی (بھارتی کرکٹراور ایک اداکارہ کی شادی پر جس طرح چند چینلز نے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹنگ کی اس سے تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ان کا ٹائم کسی بھارتی نے تو نہیں خریدا ہوا؟) اگر اس موقع پر ہر فرد اپنے حصے کی شمع جلانے پر آمادہ ہو جائے تو آنے والے وقت کے اندھیروں سے بچا جا سکتا ہے ورنہ خدانحواستہ ہمارے بچوں کا مستقبل مغرب کی تاریکیوں میں کھو جائے گا۔ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ کے مصداق حسب ذیل چند عملی تجاویز پر عمل وقت کی ضرورت ہے:
  • پیمرا پر زور دیا جائے کہ وہ ٹی وی چینلز پر چلنے والے اشتہارات اور دیگر فحش مواد کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات اٹھائے، اکیس کروڑ کے ملک میں اگر پچاس لاکھ لوگ بھی اس موضوع پر پیمرا کو خطوط لکھ دیں تو ایک حُجت بھی تمام ہو جائے گی اور شاید ارباب اختیار پرکچھ نہ کچھ اثر بھی پڑے۔ برائے شکایات و توجہ کم سے کم یہ تو کیا جا سکتا ہے کہ ان کی ویب سائٹ پر اپنا فیڈ بیک دیا جائے
  • سول سوسائٹی اور سماجی تنظیمیں فحش اشتہارات بنوانے والی کمپنیوں مثلاً موبائل فونز، گارمنٹس، کاسمیٹکس کریمز وغیرہ کی کمپنیوں کے مالکان کو مل کر اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ اپنی مصنوعات کی فروخت کے لیے تہذیب اور اخلاقیات کے دائرے کے اندر رہ کر مواد تیار کروائیں۔ اگر اس سے اثر نہ پڑے توان کے دفاتر کے باہر پرامن احتجاج اور دھرنے کا اہتمام کریں، لیکن یہ تہذیب کے دائرے کے اندر رہ کر کیا جائے، کو ئی بھی غیر قانونی قدم نہ اُٹھایا جائے۔
  • جنسی درندوں کو فی الفور سزائیں دی جائیں اور سزاؤں سے قبل ان کے ماہرین نفسیات کے ساتھ سیشنز رکھے جائیں تاکہ اس بات کا ادراک کیا جا سکے کہ ان جرائم کے محرکات کیا ہیں اور ان کا تدارک کیسے کیا جا سکتا ہے؟
  • انٹرنیٹ مانیٹرنگ اور فلٹرنگ کا فی الفور انتظام کیا جائے۔ ایسی ویب سائٹس جوممنوعہ ویب سائیٹس کے لیے پراکسی سروس مہیا کرتی ہیں، کو بھی بند کیا جائے۔ اس ضمن میں پی ٹی اے حکام کو اپنا کام کرنے پر پابند کرنے کے لیے ایک عوامی سطح پر کوشش کی جائے اور ان کو بذریعہ ٹول فری فون نمبر 080055055 پر یا پھر تمام موبائل سے فری میسج 8866 پر ارسال کیے جائیں اور ای میل کے ذریعے بھی مندرجہ ذیل ایڈریس پر اپنا فیڈ بیک دیا جائے complaint@pta.gov.pk
  • ٹی وی کیبل آپریٹرز کو بھی کسی ضابطہ اخلاق کا پابند بنایا جائے، ایسے کیبل آپریٹرز کا بائیکاٹ کیا جائے جو فحش مواد اور فلمز دکھاتے ہیں۔
  • علمائے کرام اور دینی حلقے صرف فتویٰ دے کر اپنی جاں خلاصی نہیں کر سکتے، انہیں اس مقصد کے لیے دعوتی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ تمام مکاتب فکر اپنی اپنی دعوتی ونگز کے ذریعے اس مقصد کے لیے خصوصی مہمات چلائیں، مساجد میں اس موضوع پر دلیل اور ریسرچ کی بنیاد پر بات کی جائے تو ایک اجتماعی شعور بیدار ہو سکتا ہے۔
  • تمام جرائم بالخصوص جنسی جرائم میں ملوث تمام مجرموں کو سر عام سزائیں دی جائیں۔ مجرم کو سزا میں تاخیر بھی ایک جرم ہے جس کا خمیازہ پوری قوم بھگتی ہے۔

یہ تو چند اقدامات ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اس بارے میں قانون سازی سے لیکر اخلاقی تربیت تک کا اہتمام ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے روایتی سستی اور صرف گرجنے برسنے تک ہی اپنا کردار محدود رکھا تو پھر زینب کے لہو سے جلنے والے تندور میں نجانے کون کون روٹیاں لگا کر چلتا بنے اور ہمارے ہاتھ ننھی زینب کے لہو کی راکھ ہی آئے۔

Comments

انعام مسعودی

انعام مسعودی

انعام الحق مسعودی ماس کمیونیکیشن میں گریجوایشن کے ساتھ برطانیہ سے مینجمنٹ اسٹڈیز میں پوسٹ گریجوایٹ ہیں۔ سوشل سیکٹر، میڈیا اور ایڈورٹائزنگ انڈسٹری سے منسلک ہیں۔ برطانیہ میں 5سالہ قیام کے دوران علاقائی اور کمیونٹی ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز سے منسلک رہے ہیں۔ چیرٹی ورکر، ٹرینر اور موٹی ویشنل اسپیکر ہونے کے ساتھ قلمکار بھی ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.