زینب مرڈر کیس اور ڈارک ویب؛ ملزمان کو کیسے ٹریس کیا جائے؟ - محمد اقبال قریشی

ایک مشہور مقولہ ہے : سو دن چور کے، ایک دن کوتوال کا یعنی مجرم جتنا مرضی چالاک ہو، ایک نہ ایک دن قانون کی گرفت میں آہی جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے قصور والے واقعے میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔

کل سے یہ بات سوشل میڈیا پر پورے وثوق سے پھیلائی جا چکی تھی کہ قصور انڈر ورلڈ پورن کا مرکز بن چکا ہے، حتیٰ کہ کیبنٹ ممبر پنجاب اور انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیئرمین جناب عمر سیف صاحب نے تو خاصی عرق ریزی سے ایک ایسا خاکہ بھی مرتب کیا کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے چاہیں تو ان سے مزید مدد لے کر اب بڑی ہی آسانی سے مجرموں تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن میں ایک بار پھر دہراتا ہوں، اگر وہ چاہیں تو، محترم جناب عمر سیف صاحب نے اپنی فنی مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف سافٹ ویئرز کی مدد سے مجرم کا سراغ لگانے کی چند ٹپس دی ہیں، جیسا کہ آپ ان تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے وقت اس ایریا میں موجود موبائل نمبرز کی معلومات ہیں، جب وہ شخص زینب کو ہاتھ سے پکڑ کر لے جارہا تھا تب جو ایکٹیو فون نمبر اسکرین پر فلوٹ کر رہا تھا، اس کا موازنہ اس مخصوص دائرے میں وجود دیگر نمبرز کے ساتھ کیا جائے تو خاصی مدد مل سکتی ہے، سب سے بڑھ کر وہی نمبر زینب کے گھر کے پاس بھی ایکٹیو تھا۔ اس کے علاوہ بھی واردات سے متعلق دنوں میں تمام کالز کا ریکارڈ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے۔

یہ ایک عام سی انفارمیشن تیکنیک ہے، حساس اداروں کے پاس اس سے کہیں زیادہ فعال طریقہ کار اور سافٹ ویئرز موجود ہیں۔ اس کے بعد آتے ہیں انٹرنیٹ ڈیٹا سے متعلق معلومات کی طرف :

جیسا کہ قوی امکان ہے کہ یہ ڈارک ویب کی ہی ایک پورن انڈسٹری واردات ہے جس میں ایک بچی کو پہلے اغوا کیا گیا، پھر اس کی تصاویر ڈارک ویب پر مشتہر کی گئیں اور بعدازاں جنسی عمل سے گزار کر تین مختلف طریقوں سے اس کی موت کا سامان کیا گیا، یعنی نسیں کاٹی گئیں، گلا دبایا گیا اور سانس بھی روکا گیا۔ ڈارک ویب کو ٹریس کرنا بے شک مشکل ہے لیکن قصور جیسے علاقے میں انٹرنیٹ صارفین کا پتا لگانا کوئی ایسا مشکل کام نہیں، سارا ریکارڈ ڈیٹا بیس میں موجود ہے، اگر میں کہوں کہ ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ کی گئی ایک ایک میگا بِٹ کا ریکارڈ موجود ہے تو غلط نہ ہوگا۔ پولیس متعلقہ محکمے کی مدد سے سارا ریکارڈ نکلوا سکتی ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج کے گردو نواح میں جتنے صارفین ہیں، ان کی اغوا کے دن سے لاش ملنے کی ڈیٹ تک اگر صرف اپ لوڈ سپیڈ اور اپ لوڈ کیا گیا ڈیٹا ریکارڈ ہی نکلوا جائے تو کیس کو حل سمجھیے۔

پھر یہ عمل رات کو ہی کیا گیا اور خاصی دیر تک جاری رہا، جب تک واردات ہوتی رہی، انٹرنیٹ خوب استعمال ہوا، ڈیٹا ڈاؤن لوڈ سے زیادہ اپلوڈ کیا گیا کہ یہی اس جرم کی سب سے بڑی ڈیمانڈ تھی۔ جب جرم ہو چکا تو یہ عمل رک گیا کیوں کہ لائیو اسٹریمنگ کی اب ضرورت نہ تھی۔ اب چند دنوں میں کون سے صارف نے انٹرنیٹ کا ایسا بے تحاشا استعمال کیا ہوگا، یہی سراغ لگا لیں تو کیس حل سمجھیں۔ یاد رکھیے، وی پی این استعمال کیا جائے تو بھی اپ لوڈ اور ڈاؤن لوڈ پیرامیٹرز کم از کم پی ٹی اسی ایل والوں سے چھپے ہوئے نہیں رہتے کیوں کہ وہ اسی کی بنیاد پر بلنگ انفارمیشن ترتیب دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ ایسے کام سست رفتار کنکشن پر تو کبھی نہیں کیے جاتے، پھر اس گروہ کے ہیڈکوارٹر میں ایک سے زائد کنکشن بھی ہوں گے اور کچھ تو چوبیس گھنٹے فعال رہتے ہوں گے۔ اس نقطہ نگاہ سے تفتیش کا دائرہ مزید سکڑ جاتا ہے۔

اب آتے قتل کے بعد کی چند روزہ رپورٹ کی طرف، قصور میں جن لوگوں نے یہ واردات کی، قوی امکان یہی ہے کہ انھوں نے رقم پاکستان منتقل کروائی، آن لائن ٹرانزکشن کی تفصیلات وغیرہ کا ان دنوں کا یا چند روز بعد کا ریکارڈ اس ضمن میں خاصا معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ قصور میں فعال منی ایکسچینج دفاتر سے بیرون ممالک سے آنے والی بھای رقوم کو ٹریس کر کے بھی کچھ نہ کچھ کلیو مل سکتا ہے۔ اگر یہ گینگ اس قسم کی وارداتوں میں ایک عرصہ سے ملوث ہے تو یقیناً قصور کی فارن کرنسی انڈسٹری بھی بہت اچھی جا رہی ہوگی۔ گروہ کے تمام ارکان تو اپنی رقوم بیرون ملک نہیں رکھتے ہوں گے، کچھ نہ کچھ بلکہ ایک بڑا حصہ قصور یا لاہور کے بینکوں میں ہی محفوظ کیا جاتا رہا ہوگا، بھاری منتقلی کا ریکارڈ وہ ابھی ان دنوں ميں کارآمد کلیو ہوگا۔

اس کے علاوہ بھی مجرموں تک پہنچنے کے ایک سو ایک طریقے ہیں۔ اگر سنجیدگی سے سیاسی پہلوؤں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے یہ سب کیا جائے تو کوئی شک نہیں کہ کل کا سورج طلوع ہوتے وقت جس شے پر اپنی روپہلی کرنوں کی روشنی ڈال رہا ہوگا وہ مجرموں کی زمین سے دس فٹ اوپر جھولتی لاشیں ہوں گی!