پاکستان کا نیا سیاسی نظام - پروفیسر عمران احسن خان نیازی

ترجمہ : محبوب عثمان

1. مقاصد

2. صدر اور انتظامیہ

3. مقننہ اور اس کے فرائض

4. زکٰوۃ

5. محصولات

6. انتخابات

7. عدالتی نظام

8. انسانی حقوق اور بنیادی حقوق

9. رابطہ کے لیے معلومات

دیباچہ

پارلیمانی نظام، برطانوی ماڈل میں پروان چڑھا ہوا، اس ملک میں نا کام ہو چکا ہے۔ برطانوی لوگوں نے اپنے حقوق کے لیے طویل جدوجہد کی اور اپنے پارلیمان کو بالادستی کے مقام تک لائے۔ پاکستان میں لوگوں کے لیے یہ ایک غیر ملکی نظام ہے۔ نہ تو لوگ اس کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان کو برطانیہ سے درآمد کنونشنز اور روایات سے غرض ہے، کیونکہ یہ بھی غیر ملکی ہیں۔ ارکان پارلیمان خود اس نظام کو نہیں سمجھتے۔ اس جہالت کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ہمارے سنیئر ارکان پارلیمان کا مسلسل دعویٰ جاری ہے کہ "پارلیمنٹ بالادست ہے،" اس بات کا احساس کیے بغیر کہ جہاں لکھا ہوا آئین ہے وہاں متون کی ایک درجہ بندی (hierarchy) ہے، اور یہاں آئین ہے جو بالادست ہے۔ وہ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ برطانیہ کا کوئی آئین نہیں ہے۔ اس کےعلاوہ، ہمارے ارکان پارلیمنٹ نے اس ملک کو چلانے اور اس کے لیے قوانین بنانے کا اخلاقی اور قانونی دونوں لحاظ سے جواز کھو دیا ہے۔ اگر یہ نظام موجودہ شکل میں جاری رہتا ہے، تو یہ شہریوں کی فلاح وبہبود اور ملک کے وجود کے لیے خطرناک ہو گا۔ ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے؛ ایک سماجی معاہد ہ جو اس ملک کی روح کے قریب ہو۔ مندرجہ ذیل صفحات اس طرح کے نظام کو پیش کرتے ہیں۔

1-مقاصد

1۔ ایک آئینی ماڈل تجویز کیا جائے جو اسلامی روح، تاریخ، قانونی روایات اور ثقافتی پس منظر کے قریب ہو۔

2۔ انصاف کا نظام پیش کیا جائے جو قدیم اسلامی قانونی معیار پر انحصارکرتا ہو اور تمام جدید اداروں کا استعمال بھی کرتا ہو۔

3۔ عوامی فنانس کے لیے ایک نظام پیش کیا جائے جو زکٰوۃ کے اسلامی ستون پر زیادہ انحصارکرتا ہواور مالیاتی ڈھانچے کی تعمیر کرے جو جدید، مناسب اور مؤثر ہو۔

2۔ صدر اور انتظامیہ

• لوگ صدر کا انتخاب سات سال کے لیے کریں گے۔ وہ کم از کم چالیس سال کی عمر کا ہو گا، اور مسلم مرد ہوگا۔

• وہ صرف ایک سات سالہ مدت کے لیے فرائض سرانجام دے سکتا ہے اور پھر کبھی بھی منتخب نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر کیے گئے اعتماد کی خلاف ورزی پر اس کا مواخذہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے قریبی رشتے داروں میں سے کوئی بھی اس کی مدت کے بعد فوری طور پر منتخب ہونے والے صدرکے لیے اہل نہیں ہو گا، نہ ہی صدر اپنے کسی قریبی رشتہ دار کو انتظامیہ میں لگائے گا۔

• صدر کو مکمل اور بلارکاوٹ انتظامی اختیارت حاصل ہوں گے۔ وہ تمام چیف جسٹس اور تمام بڑے اداروں اور عوامی شعبوں کے سربراہاں کا تقرر کرے گا۔ وہ مسلح افواج کے سربراہاں کا تقرر کرے گا۔ چیف جسٹس، سپریم کورٹ کے ججز، اداروں کے سربراہ اور عوامی شعبے کے اداروں کے سربراہان کی تقرری کی مقننہ کی طرف سے توثیق کی جائےگی۔

• جب مقننہ کا اجلاس نہیں ہورہا تو اس کو آرڈیننس جاری کرنے کا اختیارہو گا، لیکن ایسا جاری کردہ آرڈیننس تین ماہ کی مدت تک درست ہو گا اور تجدید نہیں کی جائے گی۔

• وہ اپنی کابینہ کا انتخاب کرے گا اور اس کو وزیر کے طور پر قریبی رشتہ دار کے علاوہ کسی کو منتخب کرنے کا اختیار ہو گا۔

• انتظامیہ کے ہر افسر کو مقاصدالشریعہ کے اسلامی طریقہ کار سے واقف ہونا ضروری ہے، جس کا جہاں ضروری ہو انتظامی فیصلوں میں عکس ہونا چاہیئے۔

3۔ مقننہ اور اس کے فرائض

• ایوان زیریں اور بالا براہ راست منتخب نمائندوں پر مشتمل ہوں گے۔ دونوں ایوانوں کو پانچ سال کی مدت کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ ان کے انتخابات کا صدرکے انتخاب سے کسی طرح کا تعلق نہیں ہو گا۔

• ایوان زیریں تمام قوانین بنائے گا۔ یہ تمام محصولات اور سالانہ بجٹ کی منظوری دے گا۔ اس کی سماعت کے لیے خصوصی کمیٹیاں ہوں گی جہاں صدر کی طرف سے کی گئی تعیناتیوں کی توثیق ضروری ہو۔ اس کی وزراء اور انتظامیہ کے کام کرنے والوں کی نگرانی کے لیے کمیٹیاں ہو ں گی۔

• جہاں ضروری ہو تبصرو ں کے ساتھ بلز (bills) کو واپس ایوان زیریں بھیجنے کے ساتھ ایوان بالا اسلامی نقطہ نظر اور دیگر تکنیکی نقطہ نظر سے ایوان زیریں کی رہنمائی کرے گا۔ ایوان بالا عوامی شعبے کی تنظیموں کے کاموں کی نگرانی کرے گا۔

• فنانس بل کے علاوہ، ہر بل ایوان زیریں کے ممبر کے ذریعے متعارف کرایا جائے گا۔ ہر بل کو لازمی طور پر بل میں شامل ہونے والے معاملات پر تحقیقاتی رپورٹ کے ساتھ ہونا چاہیے، جس کے لیے ممبر نجی قانون سازی بیورو کی مدد حاصل کرسکتا ہے۔

• کسی بھی طرح کے ترقیاتی یا اس طرح کے دوسرے فنڈز کبھی بھی ایوان زیریں یا ایوان بالا کے ممبرز بھی فراہم نہیں کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   سفر اعجاز ﷺ سے کرتار پور بارڈر تک - حسین اصغر

• جس کمیٹی کو بل بھجوایا جائے وہ لازمی طور پر قانون سازی کے بارے میں گواہی دینے کے لیے گواہان کو طلب کرے، جو لوگ گواہی دینے کے لیے نہیں آ سکیں گے ان سے لکھے ہوئے تبصر ے حاصل کیے جائیں گے۔

• ملک کے آئین میں دونوں ایوانوں کی دوتہائی اکثریت سے ترمیم کی جائے گی اور ترمیم کے موثر ہونے کے لیے صوبائی مقننہ کی سادہ اکثریت کی طرف سے منظوری ضروری ہو گی۔

• ایوان زیریں کے ممبرز کے لیے ترجیحی طور پر مقاصد الشریعہ کے اسلامی طریقہ کار کا علم ہونا چاہیئے۔ لیکن یہ علم ایوان بالا کے ممبرز کے لیے ضروری ہو گا۔

4۔ زکٰوۃ

• جہاں تک فائدہ مند کا تعلق ہے، زکٰوۃ کا نصاب سونے پر مبنی ہو گا نہ کہ چاندی پر، تاکہ ایک سال میں ایک غریب شخص کو ساڑھے سات تولہ تک دیا جاسکے۔ بشمول حکومتی نوٹ کے دیگر اشیاء پر ادائیگی کرنے کے لیے نصاب ہمیشہ سونے کی بنیاد پر ہونا چاہیئے نہ کہ چاندی کی بنیاد پر۔ اگر کسی کے پاس چاندی ہے، تو وہ چاندی کے لیے باون تولے کی بنیاد پر ادا کرے گا۔ لیکن دوسری چیزوں کے لیے نہیں۔ اگر فائدہ مند زکٰوۃ حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولے گا اور پکڑا جائے گا تو اس کو دس سال قید بامشقت دی جائے گی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ لازمی زکٰوۃ ریٹرنز فائل کیے جائیں گے۔ غلط تخمینے لگانے والے کو پانچ سال قید تنہائی کی سزا دی جائے گی۔ زکٰوۃ اہلکا روں کو زکٰوۃ فنڈ میں غبن کرنے پر چودہ سال کی قید بامشقت کی سزا دی جائے گی۔ جہاں ایک شخص نے براہ راست زکوٰۃ حقدار کو ادا کردی ہے، تو ثبوت کے طور پر ریٹرن کے ساتھ تصدیق شدہ دستاویزات کو منسلک کیا جانا چاہیے۔

• تمام افراد زکوٰۃ کے ذمہ دار ہوں گے۔ اصطلاح "فرد" میں قانونی افراد شامل ہوں گے۔

• اثاثوں میں شامل ہو گا: سونا اور چاندی (اڑھائی فیصد)؛ کرائے کی آمدنی ( اڑھائی فیصد)؛ کاروباری اثاثے (اڑھائی فیصد)؛ زمین کی پیداوار (پانچ اور دس فیصد)؛ معدنیات بشمول پٹرولیم (بیس فیصد نکالنے کے بعد)۔

• کوئی بھی فرقہ زکٰوۃ کی ادائیگی سے مبرا نہیں ہے: افراد مستحق نہ ہونے کا فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ ابن سبیل سے مراد بے گھر شخص یا پناہ گزین یا پھنسا ہو ااجنبی ہے۔ قرض کے تحت کا مطلب ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ جو اسکولوں، یونیورسٹیوں، اسپتالوں، قرض دینے والے اداروں کے قرض دار ہیں (جن کو حکومت نے بلا سود قرضے مہیا کیے ہوئے ہیں)۔ "اللہ کی راہ میں" سے مراد غازی فوجی ہیں۔

• یہاں ذکر کردہ بحث پر حنفی فقہاء کے قانون کے مطابق تفصیلی آراء موجود ہیں۔

5۔ محصولات

• زکوٰۃ کے لیے فراہم کردہ ڈیٹا محصول لاگو کرنے کی بنیاد بنے گا۔ زکوٰۃ ادا کرنے والا شخص محصول ادا کرنے کے لیے بھی ذمہ دار ہو گا، جو آمدنی پر ٹیکس (income tax)ہے۔

• تمام محصولات کی پہلے مجلس شوری کے ایوان زیریں سے منظوری ہو گی، جس کو عوام کی معلومات کے لیے اعلان کیا گیا ہو گا (announced اور publicly) صرف اس کے بعد محصول نظام میں شامل کیا جائے گا۔ محصول کے نفاذ کے لیے صد ر آرڈیننسز جاری نہیں کرسکے گا۔

• انکم ٹیکس۔ انکم ٹیکس کبھی بھی افراد کے لیے پانچ فیصد اور کمپنیوں کے لیے دس فیصد سے زیادہ نہ ہوگا۔ اگر یہ کم ہو تو یہ پسندیدہ ہے۔

• محصول فروخت۔ کسی بھی چیز میں محصول فروخت(sales-tax) چار فیصد سے زائد نہ ہو۔ اناج، آٹا، سبزیوں اور پھلوں پر محصول فروخت نہ ہو۔

• تمام محصول فروخت ریٹرن زکوٰۃ ریٹرنز کے ساتھ جمع کرائے جائیں۔

• دیگر تمام محصول عائد کرنا(levies) جیسا کہ منتقلی فیس، ھبہ، محصول دولت، اگر عائد کیا جائے، مجموعی قیمت کے نصف فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

• فیڈرل تقسیم ہونے والا پول (Divisible pool) صوبوں کے درمیان برابر طور پر تقسیم ہونا چاہیے تاکہ بڑے صوبوں کو اپنے آپ کو دو یا زیادہ میں تقسیم کرنے پر مجبور کیا جائے، اگر وہ اس ایوارڈ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ فیڈریشن بہت زیادہ تقسیم کو روک سکتی ہے، جیسا کہ یہ تحصیلیں اور ضلعے بنانے کو روک سکتی ہے۔

• جہاں ضروری ہو زکوٰۃ اور محصولات کے مقاصد کے لیے موجود ڈیٹا کو احتساب کے لیے استعمال کیا جائے گا، یہ کہ بیان کی گئی دولت کے علاو ہ وسائل کے دولت کا انبار کہاں سے کمایا گیا۔

6۔ انتخابات

• صدر کو ووٹ دینے والی عوام کے پورے ووٹوں سے منتخب کیا جائے گا۔ ہر کوئی جو اٹھارہ سال یا اس سے اوپر ہے ووٹ دینے کا اہل ہو گا۔ صدر کے لیے مسلمہ(declared)مسلمان ہونا ضروری ہے۔ کسی دوسری اہلیت کی ضرورت نہیں ہے، مگر اس کوقانون کی عدالت نے اخلاقی پستی کے لیے مجرم قرار نہ دیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   عدالت سے پہلے عدالت کا سلسلہ کب تک؟ حبیب الرحمن

• مقننہ کے ہر ممبر کے لیے پچیس سال یا اس سے زیادہ کا ہونا ضروری ہو، اور قانون کی عدالت کی طرف سے اس کو اخلاقی پستی کی سزا نہ دی گئی ہو۔

• ہر تحصیل سے ایوان زیریں کے لیے ایک ممبر ہوگا، اور ہر ضلع سے ایوان بالا کے لیے ایک ممبر ہوگا۔ تحصیل یا ضلع کی آبادی کا تعلق ممبران کی تعداد سے نہیں ہو گا۔ مقننہ کی طرف سے مقررکردہ معیار کے مطابق فیڈریشن تحصیلوں اور اضلاع کی تعداد کو محدود کرسکتی ہے۔

• ہر صوبے میں ہر مدت میں بیس فیصد تحصیلوں کو خواتین امیدواروں کے لیے براہ راست انتخاب کے لیے مخصوص رکھا جائے گا۔ اگلی مدت میں اگلے بیس فیصد منتقلی کے ساتھ خواتین کی نشتوں کے ساتھ گردش (rotation) کا نظام اپنایا جائے گا۔

• مقننہ کے لیے انتخابات ہر پانچ سال بعد ایک ایسے دن جوہوں گے جو ایک بار ہمیشہ کے لیے مقرر کردیا گیا ہے (جیسا کہ ایک مخصوص مہینے کے دوسرے ہفتے کے بدھ کے دن)۔

• اشخاص کو زیادہ سے زیادہ تین مدت کے لیے منتخب کیا جاسکتا ہے، چاہئیے ان کو کسی بھی ایوان کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

7۔ عدالتی نظام

• سول جج-جوڈیشل مجسٹریٹ جس کو علاقہ قاضی کہا جائے گا، ہرتھانے/پولیس اسٹیشن کے قریب بیٹھے گا، اس علاقہ قاضی کا دائرہ کار تھانے کے دائرہ کار تک بڑھایا جائے گا، جبکہ مالیات سے متعلق(pecuniary) اختیار موجودہ سول جج کے دائرہ اختیار کے مطابق ہو گا۔ علاقہ قاضی تمام کریمینل مقدمات بشمول قتل سنے گا۔ اس عدالت کا طریقہ کار پوچھ گچھ والا ہو گا (inquisitorial نہ کہ adversarial۔) اور شہری کی طرف سے درخواست یا پولیس کی رپورٹ کی بنیاد پر جج اپنے ہاتھوں سے تمام شکایات کو ریکارڈ کرے گا۔ منسلک تھانے کی مددسے تمام کریمینل تحقیقات کی جائیں گی اور قاضی پولیس اسٹیشن کی نگرانی بھی کرے گا۔ تمام مقدمات کا فیصلہ تین ماہ کے اندرکیا جائے گا۔ کسی بھی وکیل کو ا س عدالت میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ علاقہ قاضی ایک پانچ سالہ تجربے والا جوڈیشل افسر ہو گا جو علاقہ قاضی کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرچکا ہے یا جو ڈیشل سروس کے انتخاب کے بعد دوسری عدالتوں میں کام کرچکا ہے۔

• علاقہ قاضی کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر ہوں گی اور وہاں سے ڈویژنل کورٹ اور آخر میں صوبائی ہائی کورٹ میں۔ ان اپیلیٹ عدالتوں میں کاروائی adversarial ہو گی اور مقاصد الشریعہ کے طریقہ کار میں تربیت یافتہ وکلاء اپنا مکمل کردار ادا کریں گے۔

• سپریم کورٹ آئنیی مقدمات بشمول انسانی حقوق کے مقدمات سنے گی۔ یہ بین الصوبائی معاملات سے متعلق مقدمات بھی سنے گی۔ وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کو ختم کردینا چایئے اور سپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹس تمام اسلامی معاملات کا فیصلہ کریں گی۔ اسلامی پاکستان میں نئے ماڈل کے تحت، جو جج محسوس کرتے ہیں کہ وہ ایسے اسلامی مقدمات کا فیصلہ نہیں کرسکتے، اپنی پوزیشن سے استعفیٰ دے دیں۔

• تمام ججز کو کسی بھی جوڈیشل آفس کے اہل ہونے کے لیے، مقاصد الشریعہ کے اسلامی طریقہ کار میں اچھی طرح سے تربیت دی جانی چاہیے۔

8۔ انسانی حقوق اور بنیادی حقوق

• اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی عظیم شریعت کے ذریعے عطا کردہ تمام حقوق کو آئین کے بنیادی حقوق کے طور پر لیا جائے گا، اور یہ تمام حقوق، بغیر استشناء کے، عدالتوں کے ذریعے نافذالعمل ہوں گے۔ عدالتوں کو اپنے فیصلوں کے ذریعے ان حقوق کے بیانات کو بہتر بنانا چاہیے اور شریعہ کی طرف سے ان قوانین پر عائد کی گئی پابندیوں کی وضاحت کریں۔

• اقوام متحدہ کی طرف سے تمام انسانی حقوق کی حمائیت اور پاکستان کی طرف سے منظورکردہ انسانی حقوق کو ملکی قوانین تصورکیا جائے گا جہاں تک وہ عمومی اصولوں اور شریعہ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ اگر کوئی تنازعہ ہو عدالتوں کی طرف سے اس کی شریعت کے ساتھ مطابقت کو مدنظر رکھتے ہوئے حل کیا جائے گا۔ اس حد تک جہاں تک وہ مطابقت رکھتے ہیں، یہ حقوق عدالتوں کے ذریعے نافذ کیے جائیں گے۔

• لچک کو برقرار رکھنے کے لیے، مندرجہ بالا دو پیراگراف میں ذکر کردہ حقوق عدالتوں کے فیصلوں کے علاوہ کسی بھی سرکاری دستاویز میں تحریری شکل میں نہیں لکھیں جائیں گے۔

9۔ رابطہ کے لیے معلومات

ویب سائٹ

• ای-میل:info@nyazee.org

• موبائل: +92 (323)5414007

ان تمام تجویز کی وضاحت کے لیے ایک رپورٹ تیار کی جا رہی ہے جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور عنقریب جاری کی جائے گی۔ اس عرصہ میں، تبصروں اور تجا ویز کا خیر مقدم کیا جائے گا اور اگر مناسب ہوئے تو رپورٹ میں بھی شامل کئ جا سکتی ہیں۔