معصومیت کا قتل عام اور غور و فکر کے چند اہم پہلو - ارشد زمان

ننھی پری زینب میرا ہی جگر گوشہ تھا جسے مجھ سے چھینا گیا مگر بہت ہی بے دردی کے ساتھ، بے شرمی اور بے غیرتی کے ساتھ۔ ایک کلی تھی جو مسلی گئی بہت ہی بے رحمی، سفاکی اور شقاوت کے ساتھ۔ ہردرد مند دل مضطرب ہے، پریشان ہے اور درحقیقت اندیشوں، تحفظات، خدشات اور مایوسیوں کے گھپ اندھیرے میں بے یقینی سے دوچار ہے۔ مگر کیا یہ کوئی پہلا واقعہ ہے؟ نہیں، حقیقت بہت بھیانک ہے۔

  • مارچ 2017ء میں واہ کینٹ میں دس سالہ عائشہ کی لاش ایک گندے نالےسےملی۔
  • سات مہینے پہلے شانگلہ، بشام میں ایک سات سالہ بچی کےساتھ بیٹی زینب جیسا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔
  • سانحہ قصور سے دو دن بعد پتوکی لاہور میں گیارہ سالہ اشراق کی لاش ملی، جسے بدفعلی کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔
  • ابھی کل جب جناب سراج الحق زینب ودیگر شہداء کے گھر تعزیت کرنے قصور پہنچے تو دو ماؤں نے انہیں اپنا غم اور درد سناتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹیاں بھی گزشتہ کئی ماہ سے لاپتہ ہیں مگر ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔
  • اس سے پہلے بھی قصور میں ننھی بچیوں کے ساتھ زیادتی کے 12 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔
  • اسی قصور میں 280 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا اندوہناک واقعہ ابھی ہم بھول نہیں پائے۔
  • سال 2016ء کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 100 بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، تاہم اصل میں یہ تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔
  • سال 2016ء میں بچوں سے جنسی زیادتی سمیت اغوا، گمشدگی اور جبری شادیوں کے 4139 کیس رجسٹرڈ ہوئے اور یہ تعداد 2015ء کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعداد وشمار بہت ہی کم ہے اور اصل صورتحال اس سے بہت ہی زیادہ تشوشناک اور خطرناک ہے۔

اس ناگفتہ بہ اور افسوس ناک حالات اور ماحول پر یوں سیکولر اور لبرل رقصاں ہے کہ ڈوز کو زیادہ کردیا جائے یعنی معاشرے میں جس حیا کی کچھ رمق موجود ہے، اسے بھی دفن کیاجائے اور اسے ننگا کیاجائے تاکہ "نہ رہے بانس اور نہ رہے بانسری" کے مصداق یہ کوئی ایشو ہی نہ رہے یعنی جنس اتنی ارزاں ہو جائے کہ اس حوالے سے کوئی حساسیت باقی رہے اور نہ کوئی طلب۔

پاکستان میں جب بھی شرم و حیا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی بات کی جاتی ہے تو لبرل و سیکولر لابی کی جانب سے بالعموم اعتراض نما طعنہ دیا جاتا ہے کہ مسئلہ شرم و حیا یا لباس کا نہیں، گندی نظر اور گندی سوچ کا ہے جو عورت کو دیکھتے ہی ابنارمل ہوجاتی ہے۔ اگلی ہی سانس میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اصلاً یہ معاشرے کی جکڑ بندیوں کی وجہ سے ہے، پابندیاں ختم ہوں گی، آزادانہ میل جول میں اضافہ ہوگا تو پیمانے بدلتے جائیں گے اور نظر کی ہوس کیا، جنس کی کشش بھی ختم ہوتی چلی جائے گی۔

آئیے ذرا ان "مہذب" معاشروں کی ایک جھلک دیکھتے ہے جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ لبرل ہیں، سیکولر ہیں، جہاں خواتین کا احترام ہے، بچوں کے حقوق ہیں، سیکس کی آزادی کیا، فراوانی ہے اور کسی پابندی کے نہ ہونے کی وجہ سے گندی سوچ اور گندی نظر کا گزر تو ایک طرف وہاں تو آنکھ بھی ایسی پاکباز ہے کہ اسکرٹ تو کجا بکنی میں بھی دیکھ کر جذبات مشتعل نہیں ہوتے، جنس کی ارزانی سے وہاں کی نظر اور سوچ فرشتوں کو بھی شرمانے لگے ہیں۔

  • امریکہ میں شائع اعداد و شمار کے مطابق ہر 5 عورتوں میں سے ایک عورت اور ہر 71 مردوں میں سے ایک مرد کو ان کی زندگی میں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
  • 91 فیصد عورتیں عصمت دری اور جنسی ہراس سے متاثر ہیں، اور اسی طرح 9 فیصد مرد بھی۔ 10 میں سے 8 جنسی تعلقات میں وکٹمز، مجرم کو جانتے ہیں۔ 8 فیصد جنسی تعلقات ان کے کام کی جگہ پر ہی انجام پاتا ہے۔
  • بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کا یہ عالم ہے کہ ہر 4 لڑکیوں میں سے ایک اور ہر 6 میں سے ایک لڑکا، 18 سال سے پہلے جنسی ہراسگی کا شکار ہوتا ہے۔
  • 34 فیصد افراد کے ساتھ اپنے ہی خاندان کے افراد کی طرف سے جنسی زیادتی کی گئی ہے۔
  • 12.3 فیصد عورتیں 10 سال یا اس سے کم عمر میں جنسی ہراسگی کا شکار ہوتی ہیں اور 30 فیصد 11 سے 17 سال کے درمیان۔
  • 27.8 فیصد مرد 10 سال یا اس سے کم میں جنسی ہراس کا شکار ہوتے ہیں۔
  • خواتین کی ایک تہائی سے زیادہ نے کہا ہے کہ جو 18 سال کی عمر سے پہلے عصمت دری کا شکار ہوئی ہیں، بڑی عمر میں بھی عصمت دری کا نشانہ بنی ہیں۔
  • جو افراد بچوں کو جنسی ہراس کا نشانہ بناتے ہیں ان میں 96 فیصد مرد اور 76.8 بڑی عمر کے افراد ہیں.
  • سوا تین لاکھ بچوں کو ہر سال جنسی ہراسگی کا خطرہ ہوتا ہے۔
  • لڑکیوں میں عصمت فروشی کے آغاز کی اوسط عمر 12 سے 14 اور لڑکوں میں 11 سے 13 ہے۔
  • ہر 5 میں سے 1 عورت اور ہر 16 میں سے 1 مرد یونیورسٹی میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے۔
  • 63 فیصد جنسی زیادتی کی رپوٹ پولیس کو نہیں دی گئی، بلکہ صرف 12 فیصد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی رپوٹ کی جاتی ہیں۔

یہ ایک تلخ ترین حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ زبردست اخلاقی گراوٹ سے دوچار ہے اور آئے روز بےحیائی، بےشرمی اور بےغیرتی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور اس میں میڈیا کا مکروہ ترین کردار بالکل عیاں ہے۔ جب تمام ترڈراموں، فلموں اور حتی کے مارننگ شوز کا مرکزی خیال، بے باکی، آزادی، بےحیائی اور اسلامی و معاشرتی اقدار سے بغاوت ہو تو اور کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ پردہ سکرین ہی پر کیا اب تو عملی طور پر تعلیمی اداروں، بازاروں اور گلی کوچوں میں نوجوان لڑکیاں جس لباس میں اور جس طرح اپنے جلوے بکھیر رہی ہیں، اس کا نوجوانوں پر کیا اثر پڑے گا؟

سائنس دانوں کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ اگر بندروں کو بھی مستقل تشدد سے بھرپور مناظر دکھائے جاتے رہیں تو وہ ان میں بھی وحشیانہ جذبات کو انگیز کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ انسانوں کی بستیوں میں تو ایسے کتنے ہی ذہنی مریض پھرتے ہیں جن کے اندر شر انگیز خیالات اور وحشیانہ جبلتیں چھپی ہوتی ہیں۔ خاص طور پر ایسے مریضوں کی شیطانیت کو میڈیا بری طرح بھڑکانے کا کام کر رہا ہے۔ جرائم اور اخلاق باختگی کے ایسے ایسے طریقے گھر بیٹھے سکھائے جاتے ہیں کہ جو عام لوگوں کے احاطہ خیال میں بھی نہیں آ سکتے۔

کیا پورن ویب سائٹ کی تباہ کاریوں کی روک تھام کے لیے کوئی سنجیدہ اور موثر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں؟ شترمرغ کی طرح انکھیں بند کرکے خطرات ٹل جانے کی امید رکھنا بے وقوفی ہے۔ اپنی کوتاہیوں، ناکامیوں اور غلطیوں کو دوسروں کی جھولیوں میں ڈالنے کی بجائے اصلاح احوال کے لیے بہت درمندی، دل سوزی اور واضح ویژن کے ساتھ ہمہ پہلوں اقدامات اٹھانے کی شدید ترین ضرورت ہے۔

جب آپ کے ادارے اور میڈیا چیخ چیخ کر ذہنوں میں غبار انڈیلیں اورمغربی گٹر کا بہاؤ تیز سے تیز تر ہوتا چلا جائے تو اس بدبودار خمیر سے ایسے تعفن زدہ شیطان ہی وجود میں آتے ہیں کہ جن کی ناپاک رال معصوم بچیوں پر بھی ٹپکتی ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ معاشرے میں جنسی فرسٹریشن خطرناک حد تک موجود ہے۔ ایک لاوا ہے جو پک رہا ہے اور اب پھٹتا جا رہا ہے۔ فی الوقت حکومت سے تو توقع ہی فضول ہے کہ وہ اس وباء کی روک تھام کے لیے کوئی موثر قدم اٹھائے گی۔ مگر والدین کو اپنے طور پر بچوں کی تحفظ کے حوالے سے خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ اپنے بچوں کی اس نہج پر ذہنی اورخلاقی تربیت پر توجہ کی ضرورت ہے کہ نہ صرف وہ بد اخلاقی، بدکرداری، بےحیائی اور بےشرمی کے اثرات سے دور رہ سکیں بلکہ خود بھی حیوانیت اور درندگی کےراستے پر نہ چل پڑیں۔

سیکولرولبرل حلقے ایسے واقعات کو ایک خاص اینگل سے دکھا کر معاملے کو کسی اور جانب لے جانے کی جتن میں مصروف کار رہتے ہیں ہیں۔ ایک بار پھر بہت منظم انداز میں اس ایشو کو اٹھایا گیا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں سیکس ایجوکیشن کا اہتمام کرناچاہیے۔ یہ ایک خوشنما نعرہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کوجنسی تشدد سے بچاؤ کی تدابیر بتائی جائے۔ مگر حقیقت کچھ اور ہے۔ یہ عالمی استعماری ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہے کہ مسلمان ملکوں کے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کو لبرلائز کرکے نسل نو کو اسلامی شعائر، اقدار، روایات اور تہذیب وثقافت سے دور لے جایا جائے اور اس حوالے سےموجود حساسیت کوختم کرنا، اسے مشکوک ٹھیرانا اور متنازع بنانا اس ایجنڈے کا بنیادی نکتہ اور ہدف ہے۔ اسی تعلیم کو مغربی تصور کے مطابق دینے سے اباحیت کے دروازے کو چوپٹ کھلوانے کی جسارت ہوگی۔

مغربی معاشروں میں جنسی تباہ کاریاں الگ اور مستقل موضوع ہیں، جس کے حوالے سے وہ خود بھی مضطرب ہے مگر گندے پانی سے سفید کپڑوں کی دھلائی کی حماقت کے مصداق وہ مزید غلطیوں کے ذریعے غلطیوں کا تدارک کرناچاہتے ہیں مگر”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی”والی صورتحال ہے۔ اس معاشرےکی اپنے حرکیات ہیں، اس کی اپنی ترجیحات ہیں، اپنی مجبوریاں اور ضروریات ہیں اور اس کے بالکل الگ تقاضے ہیں۔ اسی تناظر میں اپنے معاشروں کو دیکھنا اور ان کی تجویز کردہ دواؤں کا کھانا اور کھلانا پرلے درجےکی حماقت ہے۔ ٹائیفائيڈ کے لیے تیارکردہ اینٹی بایوٹک کو زکام کے لیے تجویز کرنا کون سی عقلمندی ہوگی؟ سیکس ایجوکیشن ایک نازک اور حساس موضوع ہے۔ بلاشبہ اس پر غوروفکر کرناچاہیے مگر اسے اپنی ضرورت سمجھ کر ہی رسمی و غیر رسمی تعلیم کے ذریعے تربیت کے خاطر معاشرے کو ایجوکیٹ کیا جانا چاہیے مگراس احتیاط کے ساتھ کہ

  • ہماری اپنی ضروریات اور ترجیحات کا تعین ہوں۔
  • ہمارے اپنے کلچر، تہذیب اور ثقافت کے تقاضے سامنے ہوں۔
  • ہمارے اپنے شعائر اور اقدار کا خیال ہوں۔
  • حیا، عفت، عصمت، عزت اور غیرت کے مفاہیم بالکل سامنے ہوں۔
  • آداب اور حدود کا مکمل خیال اور لحاظ ہوں۔

یہ موضوع ماروی سرمد، شرمین عبید، فرزانہ باری، شہزاد رائے، جبران ناصر، امتیازعالم، وجاہت مسعود اور پرویز ہود بھائی جیسے لوگوں کے حوالے کرنا قابل تشویش ہے۔ جن لوگوں کا فلسفہ یہ ہوں کہ “زنا بالجبر تو برائی ہے مگر زنا بالرضا تو نفوس کی خواہشات کی تسکین ہے” تو اس طرح کے لوگوں سے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے؟اسلامی سکالرز، اہل دانش، علماء اور ماہرین تعلیم کو آگے بڑھ کر پورے اعتماد کے ساتھ اس موضوع پر بولنا بھی چاہیےاور ایک جامع نصاب بھی ترتیب دیناچاہیے۔

Comments

ارشد زمان

ارشد زمان

ارشد زمان اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسلام اورمغربی تہذیب پسندیدہ موضوع ہے جبکہ سیاسی و سماجی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ تعلیم و تربیت سے وابستگی شوق ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */