آج کا پاکستان کا نوجوان - کاشف احمد

پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں نوجوانوں کی آبادی بہت زیادہ ہے، وہ طبقہ جس کی وجہ سے ہمارا مستقبل روشن اور مضبوط ہو سکتا ہے لیکن افسوس ایسا نہیں ہے۔ آج ہمارا نوجوان ملک کی پالیسیوں اور حالات کی وجہ سے ناامید ہوچکا ہےجس کا فائدہ دشمن ممالک اور آستین کے سانپ بڑی چالاکی اورمکاری سے اٹھا رہے ہیں۔ وہ نوجوانوں کے ذہنوں میں ملک کے بنے اور اس کے نظریہ کے بارے میں سوالات پیداکر رہےہیں تاکہ وہ نظریہ پاکستان سے متنفر ہوں۔ یہ عناصر میڈیا، ملکی جامعات اور نام نہاد قوم پرست جماعتوں میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گرد تنظیمیں بھی اس بات کا خوب اٹھارہی ہیں۔

سب سے پہلےان عوامل پر نظر ڈالتے ہیں جن کی وجہ سے آج کا پاکستان کا نوجوان مایوس ہے۔ ان عوامل میں پہلا معاشی مسئلہ آتاہے۔ ملک کی سیکیورٹی، لوڈشیڈنگ اور کرپشن کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ سے بےروزگاری بڑھ رہی ہے اور پڑھے لکھے بےروزگار نوجوان ذہنی تناؤ کا شکار ہیں، ان کا غصہ اپنے عروج پر ہے۔

دوسرا مسئلہ سیکیورٹی کا ہے، کراچی کے میدانوں سے لے کر فاٹا کے پہاڑوں تک سیکیورٹی حالت ابتر ہے۔ وہ علاقے جو کبھی امن کا گہوارہ ہوا کرتے تھے ہماری غلط پالیسوں کی وجہ سے میدان جنگ بن چکے ہیں۔

تیسرا مسئلہ خارجہ پالیسی ہے۔ یہ تلخ حقیقت ہےکہ یہ دنیا میں واحد ایٹمی ملک ہےجس کی جب مرضی آئے اس کی سرحدوں کو روندا جاتا ہے۔ صبح وشام کچھ ممالک دھمکیوں سے نوازتے رہتے ہیں ان کے جواب کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں۔ امت مسلمہ کے مساںّل مثلا روہنگیا مسلمانوں کا مسّلہ، شام وعراق کےمسلمانوں کا مسئلہ، فلسطین کے مسلمانوں کا مسئلہ اور دوسرے مسائل کے لیے اس طرح آواز نہیں اٹھانا جس طرح ایک ایٹمی اسلامی جمہوریہ کو اٹھانا چاہیے حالانکہ ترکی ایک سیکولر اور چاروں طرف غیر مسلموں سے گھرے ملک نے جس طرح ان مسائل پر آواز اٹھائی اور آگے بڑھ کر مسلمانوں کی مدد کی ہمارے لیے قابل رشک ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہماری زبانوں کو تالا لگا کر ہاتھ باندھ دیےگئے ہیں۔ بھارت سے آج تک ہم چھنے ہوئے علاقے واپس نہ لا سکے اور نہ عالمی برادری کو قائل کرسکے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرائے۔

یہ بھی پڑھیں:   کاش میں بےگناہ ثابت نہ ہوتا - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

چوتھا مسئلہ جمہوریت کے تسلسل کا نہ ہونا، جس کا دل چاہے وہ جمہوری حکومت گرا کر کٹھ پتلیوں کے ساتھ مل کر ایوان اقتدار پر قابض ہوتے ہیں یا پیٹھ پیچھے حکومت کرتے ہیں جیسے اسٹبلشمنٹ کا نام دیا جاتا ہے۔

اب آتے ہیں اس طرف کہ ملک دشمن مایوس نوجوانوں کو اپنی طرف کس طرح کھینچتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ ملک میں کیا رکھا یہاں تمہارے لیے کوئی جگہ یا روزگار نہیں جلد از جلد کسی دوسرے ترقی یافتہ ملک کی شہریت حاصل کرو، تاکہ یہ لوگ ان ک ایمان پر آسانی سے ڈاکہ ڈال سکیں۔ دہشت گرد تنظیمیں بے روزگاری کا فائدہ اٹھا کر کچھ رقم کےعوض ان سے قومیت اور فرقوں کی بنیاد پر دہشت گردی کرواتی ہیں۔ ہمارا میڈیا اور جامعات میں سیکولر طبقے قوم پرستی اور سیکولرازم کا درس دیتے ہیں تاکہ وہ ملک پرستی اور مذہب پرستی کے راستے سے ہٹ جائے۔ وہ براہ راست ملک کی بنیاد کو تنقید کا نشانہ بناتےہیں۔ ان کی باتوں سے سادہ لوح نوجوان پھنس جاتے ہیں لیکن تاریخ پر نظر رکھنے والے ان کے ہاتھ نہیں آتے، وہ جانتے ہیں کس طرح ہندوستان کی تقسیم میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ خود بنگلہ دیش کو الگ کرنے میں سیکولرز کا بڑا ہاتھ تھا کہ آج بھی وہاں مذہبی لوگوں کو پاکستان سے محبت کی وجہ سے سزا دی جارہی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو مایوسی کے اندھیروں سے نکالیں اور ان عناصر کو موقع نہ دںیں کہ وہ ہمارے نوجوانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر سکیں۔ اپنے نظریہ کو عملی جامہ پہنائیں تاکہ کوئی اس پر حملہ آور نہ ہوسکے۔ اگر ہم یہ کرسکے تو کوئی بھی ہمارے ملک کو مضبوط ہونے سے نہیں روک سکے گا-ان شآ اللہ