باہمی اختلافات کا حل – محمد فیصل

صبح سویرے اُٹھ کر دفتر جانے سے لے کر رات کو تھکے ہارے بستر پر ڈھیر ہونے تک ہر طرف، ہرجگہ یعنی گھر ہو یا دفتر، محلہ ہو یا بازار، راستے ہوں یا تفریح گاہیں ہر سمت ایک ہی منظر کرداروں کی تبدیلی کے ساتھ کثرت سے دیکھنے کو ملتا ہے اور وہ ہے باہمی تکرارو اختلاف۔ذراذر ا سی بات پر تُو تکار، گالی گفتار تو معمول ہے ہی لیکن بات بڑھ جائے توباہم دست و گریباں ہونا بھی کوئی بڑی بات نہیں۔ لگتا ہے کہ کہیں بھی کوئی بھی کسی کو بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ صبر و تحمل کی باتیں اب افسانہ معلوم ہوتی ہیں۔ عفو و درگذر کی نصیحتیں سب ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔ باہمی الفت و محبت دن بدن معاشرہ سے مفقود ہوتی جارہی ہے۔ایک دوسرے کی ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ ڈھونڈے سے بھی دکھائی نہیں دیتا۔

بظاہر غور کرنے پر اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے اور وہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر شخص خود کو نہایت اہم ہستی سمجھنے کے خبط میں مبتلاہے۔ سب کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے کہ ہم چو ما دیگرے نیست۔اپنی رائے کے خلاف کوئی بات سننا ہمیں اپنی شان کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ ہمارا یہی رویہ معاشرہ میں انتشار و افتراق پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اسی کی بدولت ہمارے گردوپیش کی فضا مسموم ہوتی جارہی ہے۔لگتا ہے کہ میر تقی میر کے شعر کو سب نے وظیفہ سمجھ لیا ۔

سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا

مستند ہے میرا فرمایا ہوا

یہی وہ دماغ کا خنّاس ہے جو آدمی میں غرور و تکبرکی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے حالانکہ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے کہ جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ہوگا اس کو جنت کی خوشبو تک نہ ملے گی(مسلم شریف)۔ یہ بہت ہی خطرناک مرض ہے۔ شیطان کو اسی بیماری نے مردود کیا تھا۔اسی تکبر کی وجہ سے آدمی خود کو علم یا عبادت یا دینداری یا دولت یا عزت یا عقل یا کسی اور بات میں دوسروں سے افضل اور برتر سمجھتا ہے اور خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہوئے دوسروں کو کمتر سمجھتا ہے۔ ایسا شخص کسی کی نصیحت کو قبول نہیں کرتا بلکہ نصیحت کرنے والوں سے لڑ بیٹھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کمائی ہوئی نیکی کیا ہے؟ - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اس معاشرتی بگاڑ کا علاج تلاش کیا جائے تو مایوسی کے اندھیرے چھٹتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کے مطابق اتحاد و اتفاق کا راز جس بات میں پوشیدہ ہے وہ تواضع و انکساری ہے۔ سرورِ کونین حضرت محمد مصطفی ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اور خاکساری اور عاجزی سے رہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے لوگوں میں بلندی اور عزت بخشتا ہے، اگرچہ وہ اپنے آپ کو اپنے دل میں کمتر سمجھتا ہے اور جو تکبر اور بڑائی سے رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کردیتا ہے یہاں تک کہ متکبر شخص لوگوں میں کتے اور خنزیر سے بھی زیادہ ذلیل ہو جاتا ہے اگرچہ اپنے دل میں یہ خود کو بہت بڑاسمجھتاہے(کنزالعمال)۔

ایک عربی کہاوت ہے کہ متکبر آدمی کی مثال پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے شخص کی مانند ہے جسے پہاڑ کے دامن پر موجود لوگ چھوٹے چھوٹے بونوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ خود سب لوگوں کی نظروں میں چھوٹا اور ننھا منا دکھائی دیتا ہے۔ اگر ہم میں سے ہر شخص خود کو کمتر سمجھتے ہوئے دوسروں کے ساتھ احترام و اکرام کا معاملہ کرے تو لا محالہ سب کے رویوں میں خود بخود نرمی پیدا ہوجائے گی۔ہر کوئی دوسرے کو عزت و وقعت دینے لگے گا۔ سب کے مزاج میں خوشگوار تبدیلی پیدا ہونے لگے گی۔ آپس کے اختلافات کا خاتمہ ہونے لگے گا اور ان شاء اللہ جلد ہی ہمارا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ میں تبدیل ہو جائے گا۔