یہ محبتوں کے بندھن - ام محمد سلمان

"نوشی آپا! آج دوپہر کو کھانے میں کیا بنانا ہے؟ ذرا جلدی سے بتا دیجیے۔" فرح نے کچن میں سے برتن دھوتے دھوتے آواز لگائی۔

"پہلے تم میرے لیے ایک کپ چائے بنا لاؤ پھر کھانے کا بھی سوچتے ہیں"۔ نوشی آپا نے بڑے مصروف سے انداز میں جواب دیا۔

"اففف۔ نوشی آپی! صبح سے تین کپ چائے کے پی چکی ہیں آپ، میں کیا سارا دن چائے ہی بناتی رہوں گی؟ حد ہوتی ہے یعنی کہ، جب سے شادی ہوئی ہے آپ کی، آپ تو بالکل ہی مہمان بن جاتی ہیں میکے آکر۔ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی، ذرا ہمیں بھی سکھ کا سانس لینے دیا کریں آپا جان! "

"ارے خدا کا خوف کرو فرح! ذرا سا چائے بنانے کو کیا کہہ دیا تم نے تو اگلے پچھلے سارے لحاظ بھلا دیے۔" نوشی آپا ایک دم ملکہ جذبات بن گئیں۔

"ہاں! بس ہر وقت چائے ہی بناتے رہیں کچن میں کھڑے کھڑے۔ پتا نہیں اماں ابا کو بھی کیا سوجھی اس وقت بھارت جانے کی؟ اور ہماری رکھوالی کے لیے آپ کو یہاں چھوڑ گئے! "

"اب کے فون آئے گا ابا میاں کا تو بتاؤں گی یہاں کیا کیا ظلم کررہی ہیں آپ ہمارے ساتھ" فرح نے بھی جم کے جواب دیا۔

"اچھا! ذرا میں بھی تو سنوں کون سے ظلم کیے ہیں میں نے تمہارے ساتھ؟ نوشی کو بھی جوش چڑھا۔

"سارا سارا دن چائے بنواتی ہیں اور صفائیاں کرواتی ہیں اور تو اور روٹی پکانے میں کتنا ستاتی ہیں، گول روٹی بناؤ، گول روٹی بناؤ۔ بھلا گول روٹی نہ ہوئی جان کا عذاب ہو گئی۔" فرح نے چلتی زبان کے ساتھ ساتھ گرم بھاپ اڑاتی چائے کا کپ بھی لا تھمایا نوشی آپا کو اور سامنے ہی منہ بسور کر بیٹھ گئی۔

"ہائے فرح! کتنی اچھی ہو تم،" نوشی چائے دیکھ کر خوش ہو گئی۔ "بھلا جب چائے بنانی ہی تھی تو اتنی باتیں سنانے کی کیا ضرورت تھی؟" نوشی آپا ہنسنے لگیں۔ "پتا ہے صبح سے مجھے زکام ہورہا ہے اس لیے بار بار چائے کی طلب ہورہی ہے۔ "

"جی جی اور نہائیے شام کے وقت، منع بھی کیا تھا کہ آپا اس وقت مت نہائیے ٹھنڈ لگ جائے گی آپ کو۔ لیکن نہیں… میری تو کوئی سنتا ہی نہیں۔ مجھے تو چھوٹی سمجھ کے نظر انداز کر دیتے ہیں سب! میں تو کسی کھیت کی مولی، گاجر، ہری مرچ، شملہ مرچ کچھ بھی نہیں ہوں ناں؟ میری بات کو کون اہمیت دیتا ہے بھلا؟ " فرح نے منہ بسورا۔

"ہا ہا ہا ہا،" نوشی آپا نے بے اختیار قہقہہ لگایا "بس کرو فرح! کامیڈی میں پی ایچ ڈی کررہی ہو کیا آج کل؟ بات بات پر ہنساتی ہو!"

" بس رہنے دیجیے آپا، بہت ظالم ہیں آپ۔" فرح روٹھے سے لہجے میں بولی۔

" اچھا بابا معاف کردو، پیاری بہن ہو ناں؟" نوشی آپا نے پیار سے اس کی ٹھوڑی کو چھوا "اور یہ سب تمہارے بھلے کے لیے تو کرتی ہوں میں، تاکہ اچھی طرح گھر کے کاموں میں طاق ہوجاؤ اور کل کو کسی کی باتیں نہ سننی پڑیں تمہیں۔"

"جی جی! میں سب بہت اچھی طرح سمجھتی ہوں۔ یہ سب کچھ اس لیے ہورہا ہے تاکہ میں ایک اچھی باورچن، ایک بہترین دھوبن، ایک شاہکار ماسی اور ایک ہوشیار چوکیدارنی بن جاؤں۔! اور، اور، اور… آپی میں سوچ رہی ہوں کہ شوہر نامدار کے لیے ایک مشرقی محبوبہ کا کردار بھی تو آنا چاہیے بیویوں کو۔" فرح نے ایک ادا سے اپنا دوپٹہ لہرایا اور ساتھ ہی چائے کا خالی کپ دونوں ہاتھوں میں بہت ادب سے پکڑ کے کھڑی ہوئی اور نوشی آپا کے آگے بڑھایا۔

"سرتاج! چائے پی لیجیے"، نوشی آپا نے بھی سرتاج کا کردار ادا کرتے ہوئے چائے پکڑی اور ایک میٹھی سی نظر اس پر ڈالی۔ فرح نے ایک دم شرما کے چھوٹی انگلی دانتوں میں دبائی اور ہائے اللہ کہتی ہوئی اندر بھاگ گئی۔

نوشی آپا اس کی اداؤں پر ہنس ہنس کے دہری ہو گئیں "فرح! کی بچی تم ضرور پاگل کر دوگی فراز کو۔ "

"ویسے آپا! یہ سب کچھ جو مجھے سکھایا جاتا ہے، سسرال میں رہنے کے طور طریقے، شوہر کے آداب اور گھر گرہستی کے سارے فن۔ تو کیا فراز کو بھی کوئی کچھ سکھاتا ہے یا نہیں؟ کوئی اسے بھی کچھ بتاتا ہے کہ کل کو بیوی کے ساتھ کس طرح رہنا ہے؟ بیوی کے ماں باپ، بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے؟" فرح ایک دم ہی سنجیدہ ہو گئی۔

"اب یہ تو مجھے نہیں پتا فرح، لیکن فراز بہت سمجھدار ہے بچپن کا دیکھا بھالا ہے، مجھے امید ہے وہ یقیناً ایک اچھا شوہر ثابت ہوگا ان شاء اللہ۔" نوشی آپا نے بہت امید افزا لہجے میں کہا۔


رات ہوئی تو فرح بہت دکھی سی ہو کر نوشی آپا کے پاس آکر بیٹھ گئی، "ایک بات کہوں آپا: مجھے بہت ڈر لگتا ہے شادی کے نام سے۔ میں نے بہت دیکھا سنا ہے کہ یہ شوہر حضرات شادی ہوتے ہی بلکہ پہلی ہی ملاقات میں دلہن پر واضح کر دیتے ہیں کہ اس کے والدین اور بہن بھائیوں کا خیال رکھے لیکن کبھی یہ نہیں سوچتے کہ جیسے مجھے اپنے ماں باپ، بہن بھائی پیارے ہیں ویسے ہی میری بیوی کو بھی یہ سب رشتے پیارے ہوں گے۔

"آپا! آپ کو وہ ستارہ بھابی یاد ہیں جو ہمارے پرانے محلے میں رہتی تھیں؟ مجھے وہ بہت اچھی لگتی تھیں، اکثر میں ان کے گھر جایا کرتی تھی۔ وہ بہت نرم لہجے اور رحم دل طبیعت کی مالک تھیں، سب گھر والوں کا بہت خیال رکھتی تھیں اپنے ساس، سسر، نند، دیور سب کی خدمت کرتیں، پورا گھر سنبھالتیں… مگر پھر بھی ان کے میاں ذرا ذرا سی بات پر انہیں ڈانٹتے، ان کے ماں باپ کو برا بھلا کہتے۔ کبھی جہیز کے کم حیثیت ہونے کا طعنہ دیتے، کبھی کسی رشتہ دار کی برائیاں کرتے، کبھی ان کی کسی بہن کو برا کہتے، کبھی بھائی کو، کبھی ماں باپ کو۔ کبھی ان کے میکے جانے پر پابندی لگاتے، جبکہ ان کی خود کی بہنیں ہر ہفتے باقاعدگی سے میکے آیا کرتی تھیں اور اس کے باوجود ستارہ بھابی اتنی ہی تندہی سے گھر کے کام اور سب کی خدمت کیے جاتیں، سب سے خندہ پیشانی سے ملتیں، کبھی کوئی بل نہ آتا ماتھے پر۔

"ایک بار میں نے کہا جب حسام بھائی آپ کے گھر والوں کو برا بھلا کہتے ہیں تو آپ کیوں نہیں کہتیں؟ آپ کو تکلیف نہیں ہوتی برا نہیں لگتا؟ آپ اس کا بدلہ ان کے گھر والوں سے لیا کریں ناں؟ تو پتا ہے؟ ستارہ بھابی ہنس پڑیں۔ کہنے لگیں تم ابھی بچی ہو، بہت ناسمجھ ہو، میرے ایسا کرنے سے بات اور بڑھ جائے گی اور جب مجھے ان کے گھر والوں سے کوئی شکوہ ہے ہی نہیں، تو میں ان سے حسام کے برے رویّے کا بدلہ کیوں لوں؟ اس میں ان کا کیا قصور؟ میں کہتی لیکن جب ان کی بہنیں آتی ہیں تو آپ کیوں بڑھ بڑھ کے ان کی خدمتیں کرتی ہیں؟ آپ بھی منہ بنا کے اپنے کمرے میں بیٹھ جایا کریں تاکہ حسام بھائی کو پتا تو چلے ذرا۔

"میں نے اپنی دانست میں بڑی عقل مندی والی بات کی تھی مگر پتا ہے ستارہ بھابی کیا بولیں۔ کہنے لگیں: ارے بیوقوف لڑکی! تم کیا جانو اپنی نندوں کے آنے سے مجھے کتنی خوشی ہوتی ہے؟ گھر میں کتنی رونق ہو جاتی ہے اور وہ دونوں یہاں آکر کتنی خوش ہوتی ہیں۔ میں بھی انہیں دیکھ کر خوش ہوجاتی ہوں، ساس امی کے چہرے پر بھی بہار آجاتی ہے ان کے آنے سے۔ اور ان کے بچے گھر میں آتے ہی میرے پاس کچن میں بھاگے چلے آتے ہیں ممانی ہم آگئے، ممانی ہم آگئے۔

"پرخلوص محبتوں سے گھر بنتے ہیں فرح! کبھی کسی ایک کی زیادتی کا بدلہ کسی دوسرے سے مت لینا۔ دکھ سکھ سب اللہ کی طرف سے ہیں، لوگ تو بس ذریعہ بن جاتے ہیں۔ میں تو اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے بہت سی آزمائشوں سے بچایا ہوا ہے۔ ورنہ بہت سارے گھرانوں میں اس سے کہیں زیادہ سنگین حالات ہوتے ہیں۔ شوہر کے ساتھ ساتھ سسرال والے بھی سنگ دل ہوتے ہیں، مالی پریشانیاں ہوتی ہیں، بیماریاں ہوتی ہیں۔ یہاں تو ایسا کچھ نہیں الحمدلله! سوچ بڑی رکھو تو زندگی گزارنا آسان ہوجاتا ہے چندا! ستارہ بھابی نے بہت رسان سے اس دن مجھے یہ بات سمجھائی تھی۔

"مگر آپا میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتی۔ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں آخر؟ اگر فراز نے میرے ماں باپ کو خواہ مخواہ برا بھلا کہا تو مجھے بہت دکھ ہوگا۔ میں کیسے فراز کی عزت کر پاؤں گی کیسے اسے اپنے دل میں جگہ دے پاؤں گی؟ فرح تڑپ کر بولی۔

"ارے پگلی ایسا کچھ نہیں ہوگا تم اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھو،" نوشی آپا نے اسے سمجھایا۔ "اور ہاں وہ دعا ضرور مانگا کرو، رَبَّنَا ھَب لَنَا مِن اَزوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعیُنٍ وَّاجعَلنَا لِلمُتَّقِینَ اِمَامَا "اے ہمارے رب! ہماری بیویوں /شوہروں اور بچوں کو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دیجیے اور ہمیں متقیوں کا امام بنا دیجیے۔ " دعاؤں سے ہمارے بہت سارے مسئلے حل ہوجاتے ہیں فرح! لیکن ہم لوگ دعاؤں میں محنت نہیں کرتے۔ محبت، یقین اور تڑپ کے ساتھ نہیں مانگتے۔ اگر مانگتے بھی ہیں تو قبولیت کا یقین نہیں رکھتے۔ دعا اس یقین کے ساتھ مانگنی چاہیے کہ ضرور قبول ہوگی، کچھ نہ کچھ بھلائی ضرور ملے گی اس دعا کے بدلے۔ بس مانگتے رہو، مانگتے رہو۔ کریم آقا کے در ہمیشہ کھلے ہیں، نہ دن رات کی کوئی قید ہے اور نہ امیر غریب کی۔ جس کا جی چاہے مانگے۔" فرح بہت غور سے نوشی آپا کی نصیحتیں سن رہی تھی۔

"جی آپا میں یہ دعا ہر نماز میں مانگتی ہوں"۔

"ویسے تم فکر نہ کرو میں ایک زبردست سا آرٹیکل لکھوں گی کہ شوہر حضرات بیوی کے والدین اور دیگر رشتہ داروں کو برا بھلا نہ کہا کریں بلکہ اپنی بیوی کے دل میں اترنے کے لیے ان رشتوں کا احترام اور محبت ازحد ضروری ہے۔ ورنہ بیوی اپنے دل کا مین گیٹ کبھی نہیں کھولے گی، بس کھڑکی سے ہی آنا جانا لگا رہے گا میاں جی کا"

"اور یہ آرٹیکل چھپے گا کب؟" فرح نے بے تابی سے پوچھا۔

"ارے ہمیں چھپوانے کی کیا ضرورت ہے، بس لکھ کر فراز کو واٹس اپ پر بھیج دوں گی اور اس آرٹیکل کا نام ہوگا "منکوحہ کی فریاد"، بس اب خوش ہو ناں؟ نوشی آپا نے اس کے گال پر ہلکی سی چٹکی لی اور فرح ایک بار پھر شرما گئی۔ "اچھا! ذرا سبز چائے تو بنا لاؤ میری پیاری گڑیا۔ "

"نوشی آپا! پھر چائے؟" فرح نے انتہائی بے چارگی سے بہن کی طرف دیکھا۔ مگر وہاں صرف ایک پیار بھری مسکراہٹ تھی۔

اور فرح ایک بار پھر کچن میں بڑبڑاتی ہوئی چائے بنا رہی تھی "ہر وقت چائے، ہر وقت چائے، بس چائے ہی بناتے رہیں سارا دن!"

Comments

Avatar

ام محمد سلمان

کراچی میں مقیم اُمِّ محمد سلمان نے زندگی کے نشیب و فراز سے جو سبق سیکھے، ایک امانت کے طور پر دوسروں کو سونپنے کے لیے قلم کو بہترین ساتھی پایا۔ اُن کا مقصد ایسی تحاریر لکھنا ہے جو لوگوں کو اللہ سے قریب کریں اور ان کی دنیا و آخرت کی فلاح کا سبب بنیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */