حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں - ربیعہ فاطمہ بخاری

گزشتہ روز ایک تحریر نظر سے گزری ــ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بیٹیوں کو بچا کر رکھیں‘‘ اور مجھے چنداں حیرت نہیں ہوئی کہ صاحب مضمون نے ساری کی ساری برائیوں کی جڑ ’’الباکستان‘‘ کے اسلام پر ڈال دی لیکن اگر مجھے اجازت ملے تو چند ایک گزارشات عرض کروں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام ہے کہاں کوئی مجھے بتا سکتا ہے؟

وہ ملک جہاں اسلامی حدود کے قانون کو سب قوانین سے زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑے،اسلامی سزاؤں کو نعوذ باللہ غیر انسانی قرار دیا جائے، مجرموں قاتلوں اور دہشت گردوں کو دی جانیوالی سزا موت پر واویلا کیا جائے، جہاں جب کوئی اداکارہ اخلاق باختگی اور بیہودگی کی حدود پھلانگتے اور سوشل میڈیا پر کوئی اسے تنقید کا نشانہ بنائے تو My Life My Rules کا راگ الاپا جائے، لوگوں کو Judgmentalہونے کا طعنہ دیا جائے،جہاں کی رول ماڈل قندیل بلوچ ہوں، جہاں منٹو کا تخلیق کردہ ادبUltimateگردانا جائے، جہاں ہر دوسرے ڈرامے میں محرم رشتوں کو پامال ہوتے ہوئے دکھایا جائے، دو بہنیں ہیں تو ایک لڑکے کے پیچھے فدا ہیں، دو سگے بھائی ہیں تو ایک لڑکی کے دیوانے، بھتیجی پھوپھا پر ڈورے ڈال رہی ہے اور سوتیلا باپ سوتیلی بیٹی پر بری نظر رکھے ہوئے ہے۔ جہاں آپ کا مین سٹریم میڈیا فحاشی اور عریانی کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے، جہاں چھوٹے چھوٹے بچوں کی رسائی پورنوگرافی سمیت ہر طرح کے مواد تک ہو، جہاں صبح کی ابتداء اللہ اور رسولﷺ کے نام سے ہونے کی بجائے مارننگ شوز کی بیہودگی سے ہو، جہاں اسلام کا نام لینا مضحکہ کا باعث بن جائے، جہاں لفظ مولوی کو گالی کے برابر درجہ دے دیا جائے، جہاں ہم جنس پرستی کے حق میں لمبے لمبے آرٹیکل لکھے جائیں اور لکھنے والے مسلمان ہوں، جہاں قانون تحفظ ختم نبوت کو ختم کرنا مسلمانوں کا مشن ہو، جہاں دن رات اسلامی تعلیمات کا تمسخر بنایا جائے، پردے اور داڑھی جیسے اسلامی شعائر کو مسلسل تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہو، جہاں اس بات پر انتہائی رنج و الم کا اظہار کیا جائے کہ Nudityکو پاکستان میں ایک آرٹ کے طور پر تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیا اس جکہ کو آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان کہہ سکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   اسلاموفوبیا - عبداللہ صدیقی

جن جن باتوں پے صاحب مضمون نے اعتراض کیے ہیں اکثر بجا ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کسی بھی شخص کا ذاتی فعل چاہے وہ ننھی زینت کے ساتھ زیادتی کرنے والا درندہ ہو، خودکش حملہ کرنیوالا کوئی نام نہاد مسلمان ہو، اسلامی تعلیمات کو جان کر بھی ان سے تحریف کرنیوالا کوئی عالم دین ہو، صاحبِ مضمون کی ننھی دس سالہ بیٹی کو گھورنے والا کوئی بدکردار مرد ہو ، ان سب کی حرکات و سکنات کا اِسلام سے کیا تعلق ہے؟ مغرب میں آئے روز سیریل کلرز سامنے آتے ہیں، فائرنگ کر کے کنسرٹ کے شرکاء کا قتل عام کیا جاتا ہے، سڑک پر عام لوگوں پرٹرالر چڑھا کر خون کی ندیاں بہا دی جاتی ہیں، ریپ کیسز میں دنیا بھر میں ٹاپ ٹین پر سارے غیر مسلم ممالک ہیں۔امریکہ آپ لوگوں کا نظریاتی قبلہ و کعبہ گزشتہ دو سال اِس لسٹ میں ٹاپ پر رہ چکا ہے، کیا کہیں کوئی آواز سنائی دی کہ مسیحی ممالک میں اپنی بیٹیوں کو بچا کر رکھیں؟

یہ دراصل ہمارے اندر کا خبث باطن ہے جو ہمیں اِس طرح کی سوچ پر مجبور کرتا ہے اور کوئی بھی سانحہ پیش آجاتے تو اس کے پس پردہ کارفرما عوامل پر غور و فکر کرنے کی بجائے مولانا طارق جمیل کی لیموزین اور خادم حسین رضوی کی گالیوں کو زیرِ بحث لانے لگتے ہیں۔ آپ اسلامی سزاؤں کو نافذ العمل تو کریں، کوئی دس بیس چور ہاتھ کٹوا کر ہمارے اردگرد موجود ہوں گے تو اور کسی کو چوری کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچنا پڑے گا۔ آپ دس زانیوں کو چوک میں سنگسار کریں تو میں دیکھتی ہوں زینب جیسے سانحات میں کیسے کمی نہیں آتی ۔ شرط یہ ہے کہ تفتیش ہماری پولیس نہ کرے اور اصل مجرم ہی گرفت میں آئیں۔ ہم اِسلام کے نام پر یوں بدکتے ہیں جیسے سانپ نے ڈس لیا ہو۔ آپ اسلام کو خود اسٹڈی کریں، اسلام کو قرآن و سنت کی تعلمات سے سمجھیں، مسلمانوں کے طرزِ عمل سے نہیں اور خود کو ایک باعمل مسلمان بنا کر دکھائیں۔ معاشرہ خود بخود سدھر جائے گا۔

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.