خدارا! ہمیں معاف کر دو - عالیہ چوہدری

وہ روشن آنکھیں کیا ایسی تھیں کہ جنہیں بند کر دیا جاتا؟ وہ خوبصورت چہرہ ایسا تھا کہ اسے نوچ دیا جاتا؟ وہ معصوم جان ایسی تھی کہ کوئی اس کی جان لے سکے اور کوڑے کے ڈھیر پہ پھینک دے؟ نہیں! وہ ایسی نہیں تھی لیکن وہ ہماری معاشرتی حیوانیت کی نذر ہو گئی ہے۔ اسے اس معاشرے کے اس غیرت مند نے روند ڈالا ہے جو اپنے گھر میں عزت کا رکھوالا بنا پھرتا ہے مگر دوسرے کے گھر پہ بھوکے جانور کی طرح نظر رکھے ہوتا ہے۔ عورت کی چال سے اس کے لباس تک کو بے حیائی کہنے والے خود اپنی نگاہ کو جھکا کے نہیں چلتے، اپنے اندر کے وحشی کو شرافت اور عزت کی منڈیر پہ بٹھائے رکھتے ہیں۔ کیا غیرت یہ ہے کہ ایک معصوم سپارہ پڑھنے جانے والی بچی کو بھی اپنی نام نہاد عزت کی بھینٹ چڑھا دو؟ اتنی اکڑ ہے کہ ایک معصوم لڑکی سے ہار جاتے ہو؟ ایسے لوگوں کے لیے دائمی ذلت ہے۔ دنیاوی انصاف کی پکڑ میں تم ایک دفعہ جلو گے لیکن ایک جہاں اور ہے جہاں تمہارے وجود کو ایسی ہی سزا میں رہنا ہے، اصل انصاف ہوتا کیا ہے وہ اپنی شرافت کو کوڑے کے ڈھیر پہ پھینکنے والے کو خوب بتا دیا جائے گا۔ اس کوڑے میں وہ معصوم بچی نہیں بلکہ اس شخص کی غلاظت دکھائی دیتی ہے جس کی شرافت گندگی میں لپٹی پڑی ہے۔

انسانی دل کہاں تک لرزے؟ یہ آنکھیں کہاں تک روئیں؟ لفظ جو تحریر ہوتے ہوئے خود وہ منظر نہ بیان کر سکتے ہوں جو ہمارے اندر کو جکڑے ہوئے ہے۔ کچھ بھی کہنے اور لکھنے کے لیے نہیں تھا مگر زینب کی تصویر جسے ایک منٹ بھی دیکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی وہ جیسے سوال کر رہی ہو، میں اور میرے جیسی میری دوسری بہنوں کے لیے کیا آواز کبھی نہیں اٹھے گی؟ کیا کبھی کوئی ایسا قانون نہیں بنے گا جس کی سزا دیکھ کر پھر میری کوئی بہن، میرا کوئی بھائی اس درندگی کی نذر نہ ہو؟ میرے جیسے بچوں کے خواب پھر کبھی نہ دفن کیے جائیں؟ اے لوگو! جب میں گم ہوئی تب کوئی نہیں مجھے ڈھونڈنے نکلا، کوئی آواز مجھ تک نہیں پہنچی، نہ میری آواز تم نے سنی، بڑے بچوں کے محافظ ہوتے ہیں لیکن مجھے تو بڑوں نے مار ڈالا ہے۔ کیا بڑے ایسے ہوتے ہیں؟ دیکھو! اب میں تم سب کو تمہاری عزت کا مکروہ چہرہ گندگی کے ڈھیر پہ دکھا کے آ چکی ہوں، کیا اب بھی میرے لیے بول بھی نہیں سکو گے؟ اپنے بچوں کو کبھی کسی اچھے بڑے کے ساتھ اکیلے کہیں نہ بھیجنا۔ ہمیں کہتے ہو ہم بچے ٹافی لے کے بہل جاتے، نہیں! ہم اپنے بڑوں کی مسکراہٹ اپنے لیے دیکھ کے ان کے پاس جاتے ہیں، ہمیں لگتا انہیں ہم اچھے لگتے ہیں لیکن نہیں، ایسے بڑوں کو کوئی بھی اچھا نہیں لگتا۔ وہ بس خود کو اچھا سمجھتے ہیں۔ خدارا بخش دو ہمیں! خدارا ہمیں معاف کر دو! ہم تم سے کوئی ٹافی نہیں لیں گے بس ہمارا بچپن نہ چھینو!

آہ! زینب آج خود چپ ہے مگر اس کی خاموشی ہم سب کو رُلا رہی ہے۔ ہمارے ہاں ایک کے بعد ایک سانحہ ہو جاتا ہے اور ہم پھر وہیں آ کھڑے ہوتے ہیں جہاں جہالت کے ہاتھوں بیٹیاں زندہ درگور کر دی جاتی تھیں۔ جہاں فرعونیت کی وجہ سے بچوں کو چھپا کے رکھا جاتا تھا۔ یزیدیت جہاں چادر کے تقدس کو پامال کر رہی تھی۔ کدھر کھڑے ہیں ہم؟ کیا ہو گئے ہیں ہم؟ یہ ہے ہمارا پڑھا لکھا فلاحی معاشرہ؟ جدت پسندی ہمیں پھر واپس اسی جگہ چھوڑ آئی ہے جس زمانہ جاہلیت کے خلاف میرے پیارے نبی محمد صلی الله علیه وآله وسلم نے اسلام کا پرچار کیا تھا۔

دو سال قبل قصور میں 250 سے زائد بچوں کے ساتھ بدفعلی کی گئی، میڈیا ہائی لائٹ کرتا رہا، لوگ چیختے رہے اور پھر پتا چلا یہ 2007ء سے وہاں ایسا ہو رہا ہے اوراس کے پیچھے وہی ہاتھ جو ہمارے لیے اسمبلیوں میں حلف اٹھاتے ہیں۔ ہمارے سر شرم سے جھک گئے لیکن ہمارے حکمرانوں کا ضمیر نہیں جاگا۔ ایک وزیر نے بولا یہ سارا زمین کا معاملہ تھا۔ کچھ دن شور مچا اور پھر خاموشی چھا گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ آج تک میں اخبار اور سوشل میڈیا کی خبروں میں ان قصور کے بچوں کی خبر ڈھونڈ رہی ہوتی کہ کیا بنا ان ملزموں کا؟ ان بچوں کا ان کے والدین کا؟ شاید وہ خبر قصور کے اسی سکول کے اسی کھنڈر زدہ کنویں میں جا پڑی ہے جہاں بچوں کو دھمکا کے لٹکایا جاتا تھا۔ اس معاشرے میں بے حسی سے زیادہ ظلم رائج ہے جو کوئی آواز اٹھاتا اسے بھی خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ ہمارے محافظ ہی آواز اٹھانے والوں کو گولیاں مارتے ہیں۔ پچھلے سال سے اب تک قصور میں گیارہ بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ کیا کچھ کیا وہاں کی سول انتظامیہ نے؟ شیخوپورہ ہو، ڈیرہ اسماعیل خان یا کوئی بھی شہر جہاں جہاں غیرت کی طاقت دکھائی گئی وہاں انصاف دلوانے والے بہانے بازیاں کرتے نظر آئے۔ مجرموں کی سر پرستی کس ریاست کے سول ادارے کرتے ہیں؟ افسوس تو یہ ہے ہمارے ہاں جان کی بھی حرمت نہیں رہی۔ ضمیر مردہ ہو چکے ہیں اس انسانیت نما حیوانیت کے۔ جانور بھی اس چیز کی طرف نہیں بڑھتا جو اس کے لیے ممنوع ہو۔ پھر ہم اپنی حدیں کیوں پھلا نگ دیتے ہیں؟ یا تو پھر یہ لوگ اپنی غیرت کا دعویٰ بھی نہ کریں۔ ہوس زدہ معاشرے سے وہ تعفن اٹھتا ہے کہ وہاں کے باسی خیر اور شر میں تمیز کرنا بھول جاتے ہیں۔ اتنے واقعات شاید ہماری بے حسی کی نذر اسی لیے ہو گئے۔ جب قانون نہیں ہو گا پھر بھیڑیے دندناتے ہی پھریں گے۔

خدارا! اس معاشرے میں انسانیت کو پنپنے دیں، ان مجرموں کو پکڑیں اور ایسا نشان عبرت بنائیں کہ پھر کسی معصوم کے ساتھ ایسا نہ ہو۔ اسمبلیوں میں قراردادیں منظور کرنے سے بہتر قوانین بنائیں اور ان پہ اپنے ماتختوں سے عمل کروائیں۔ ورنہ زینب کے لہو کی قیمت آپ سے وصول ضرور ہو گی۔ وہ بچی روز محشر اپنے رب کے سامنے اپنا انصاف ضرور لے گی۔

اَج آکھاں وارث شاہ نُوں اُٹھ قبراں وچوں بول

تے اَج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

اک روئی سی دِھی پنجاب دی تُوں لِکھ لِکھ مارے وَین

اَج لکّھاں دِھیّاں روندیاں تینوں وارث شاہ نُوں کہن

اٹھ دردمنداں دے دردیا، اُٹھ تَک اپنا پنجاب

اَج بیلے لاشاں وِچھیاں تے لہو دی بھری چناب

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */