سسکی اور نوحہ - حافظہ نمرہ لاسی

کچھ ہی سال پرانی بات ہے، جب زینب نامی یہ پھول ایک آنگن میں کھلا تھا۔ جس کی خوشبووں سے گھر اور اطراف گلیاں معطر رہتی تھی۔ اسی پھول کی پنکھڑیوں کی قلقاریوں سے زندگی، لرزش سے حرارت، اٹکھیلیوں سے شرارت اور تند سے دھماچوکڑی کے قطرے رستے تھے۔ دستور یہ تھا کہ زینب کو آنگن کا پھول، محلے کی گڑیا اور مکانوں کی پری سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے وہ گلی، کوچوں میں چکراتی، بام پر لہراتی اور آنگنوں میں مچلتی رہتی تھی۔ سب جانتے تھے اسے کہ ننھی پری ہے اس لیے چھریوں کی چمک اس سے پوشیدہ اور آہنی اوزاروں کی دھمک سے اسے محفوظ رکھا جاتا تھا۔ موم کی گڑیا، پلاسٹک کے کھلونے اور پتنگ کی ڈور اس کی کل کائنات تھی، جو خود والدین کی کائنات تھی۔

چھ سال دستور یونہی چلا اور ساتویں سال کے طلوع کے ساتھ ہی یہ دستور بدلا۔ ایک انہونی ہوگئی۔ پہلی بار اس نے گلی میں اجنبیوں کو دیکھا، جو چھری بدست تھے اور آہنی بے نیام آوزاروں سے لیس تھے۔ ان کے چہروں سے وحشت ٹپکتی تھی، آنکھوں سے خون ابل رہا تھا اور جسموں سے درندگی کا جل گر رہا تھا۔ پہلے انہوں نے چھری کی چمک دکھائی، وزنی آوزاروں کی دھمک سے ننھی زینب کو لرزایا، پھر اس سے موم کی گڑیا چھین کر دور پھینک دی، پلاسٹک کے کھلونے پیروں تلے روندا۔ کالے سیاہ پنجوں نے خوبرو، گبرو اور نازک پری کو دبوچا، مکانوں میں خاموشی، اور گلیوں میں سنساہٹ کا راج تھا۔ کوئی کھڑکی سے نہیں جھانک رہا تھا۔ نہ کوئی دریچہ وا تھا۔

ننگی بلائیں عذاب کی صورت نازک اندام گڑیا پر مسلط ہوکر اسے کالے بدبودار بھاری بھرکم جسموں تلے مسلتے رہے، مسلتے رہے، گھٹن اور کرب کا یہ زمانہ صدیوں پر محیط تھا۔ وہ تڑپتی رہی، مچلتی رہی، مگر عفریت کا سایہ دراز تھا اور پنجے مضبوط۔ ہر حرکت بے سود گئی، آہ رائیگاں اور سسکی بے معنی۔ عریاں درندوں کی ہوس پوری ہوئی، پہلی بار اس نے چھری کی چمک دیکھی اور ننگے آہنی آوزاروں کی دھار بھی۔ جسم خاک و خون سے لت پت تھا۔ اب روح سوہان ہوگئی، ادھر چھری چلی، آہنی دھار بلند ہوئی، یہاں جسم کچومر بن گیا اور روح قید سے آزاد ہوگئی۔

اب رات ہے، گلیاں خاموش، آنگن سوکھے، بام و در خالی خالی اور مکان اندھیرے، فضا میں کوئی قلقاری نہیں ہے۔ جیسے سب یہاں مکین مرمٹے ہیں۔ بس کبھی فضا میں دور تک ایک سسکی پھیلتی ہے جس کے فوراً بعد کتوں کا نوحہ شروع ہوجاتا ہے!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */