والدیت اور تربیت - اقبال شاہد

جب کوئی ڈرائیونگ سیکھنا چاہتا ہے تو کسی نہ کسی کی شاگردی اختیار کرتا ہے یا پھر رہنمائی لیتا ہے اور سڑک پر آنے سے پہلے کسی مستند حکو متی ادارے سے لائسنس لیتا ہے بالکل اسی طرح اگر آپ نے سی سی ایس یا پی سی ایس پاس کرلیا ہے تو اس بات سے قطع نظر کہ آپ علم و عمل کے کس نہج پر ہیں، مگر آپ کو تربیت کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ حتیٰ کہ اپ جج بن جاتے ہیں اور اس سے پہلے شاید عملی وکالت کا دس بیس سالہ تجربہ رکھتے ہوں مگر آپ کو جوڈیشل اکیڈمی سے ہوکر ہی کسی جگہ تعینات کیا جائے گا اور اسی طرح ہر چھوٹے بڑے نوکری سے منسلک ہوتے ہی ہر ملازم کو اس مرحلے سے واسطہ پڑتا ہے سوائے اس کے کہ اپ سیاستدان بنیں یا پھر والدین۔

گزشتہ دنوں مختلف اوقات میں دوستوں سے ماضی کی یادیں اور باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات، ازدواجی زندگی اور بچوں کے حوالے سے باتیں ہوئیں تو ایک نے جواب دیا کہ اس کا بچہ بہت شرارتی ہے ماں کے قابو میں آتا نہیں اور جب تک مجھ سے مار نہ کھائے تو سوتا نہیں۔ دوسرے نے کہا کہ میں تو بچوں کے ساتھ سختی کا قائل نہیں اور بیوی سے ہروقت اسی بات پر جھگڑ ا رہتا ہے کہ کم ازکم گھر میں ہونے کی وجہ سے تربیت کا حق تو ادا کرو۔ مگرغفلت کا حال یہ ہے کہ چند دن پہلے اس کا بچہ چھت سے گرا تو سب نے شکر کیا کہ زندہ بچ گیا، ورنہ حال ہی میں پڑوسیوں کی بچی گرگئی تھی مگر زندہ نہ بچ سکی۔ کچھ یہی حال کم و بیش سب والدین کا ہے۔ تیسرے دوست نے میری گود سے میرا نومولود بچہ لیا اور کہا کہ میں اسے سنبھال لوں گا کیونکہ جب ہم دبئی میں تھے اور پہلی مرتبہ والدین بننے والے تھے تو دوران علاج مجھے اور میری بیوی کو بچہ پکڑنے اور اس کی دیکھ بھال کے طریقہ کار کی مکمّل تربیت دی گئی۔ ہمارے ہاں تو بارات اور شادی کی رات تک ہر طرح کے مشورے لے لیتے ہیں مگر آگے جاکر وہ ازدواجی زندگی کے گلے شکوے کرتے ہی نظر آتے ہیں اور بالخصوص باپ بننے کے بعد اپنے بچے کے رونے اور رات کو جگائے رکھنے کے اقدامات کو اپنے سکون کے خلاف بیوی کی سازش قرار دیتے ہیں اور نتیجتاً قبل از وقت بڑا کرنے پر تلے ہوتے ہیں یا پھر راہ فرار اختیار کرکے کمرہ تبدیل کرلیتے ہیں۔ یوں وہ صرف اس وقت ہی نہیں بلکہ باقی ماندہ زندگی بھی بچوں کی دیکھ بال اور پرورش ماں کے ذ مے لگا لیتے ہیں اور اپنے حصے کا کام مستقل جاری رکھتے ہیں جیسے بچوں میں اضافہ اور طعنہ زنی۔

ہم نے ہمیشہ تعلیم و تربیت کی بات کی ہے حالانکہ اسے تربیت و تعلیم ہونا چاہیے کیونکہ تربیت پیدا ہوتے ہی شروع ہوجاتی ہے اور ذمہ داری ماں باپ سمیت پورے خاندان کی ہے۔ مگر تربیت تو وہی کرسکتا ہے جسے خود پتہ ہوتربیت ہوتی کیا ہے؟ وہ وقت دے سکتے ہوں اور رہنمائی کر سکتے ہوں ناکہ مائی باپ بن کر صرف احکامات جاری کریں۔ جو را ہ فرار اپنی سکون کی خاطرماں باپ نے اختیار کیا تھا کہیں وہ سا ری عمر کی بے سکونی کا با عث تو نہیں بنا۔ ہمیں بچوں کی تربیت سے زیادہ ماں باپ کی اچھی والدیت بمع پرورش اور دیکھ بھال کی تربیت کرنی ہوگی تاکہ بچوں کو سہانے مستقبل اور ادھورے خواب پورے کرنے کے لیے اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ مثالی تربیت کی ذمہ داری بھی ادا کرسکیں۔

بچوں کی تربیت اور ان سے تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے اپنے سکون کے لمحات پر سمجھوتے کرنا ہوں گے تاکہ ان کے مستقبل کا شرمندگی ور ندامتوں سے محفوظ کر سکیں اور ناکامی کی صورت میں اک دوسرے کو مورد الزام نہ ٹھہرائیں۔ یہ صرف ہمارے بچے ہی نہیں اس معاشرے کا حصہ ہیں جس کے اخلاقی زوال کی کہانیوں،معاشرتی ناکامیوں کی داستانو ں، ظلم، جبر و بربریت کے افسانوں کے چشم دید گواہ ہونے کے ساتھ ساتھ شریک جرم بھی ہیں۔ اچھی والدیت کے لیے کچھ ضروری باتیں حسب ذیل ہیں مگر یہ مکمل نہیں کیونکہ کہتے ہیں کہ سوشل سائنس میں "بچے، والدین" واحد موضو ع ہے جس پہ بے تحاشہ تحقیق ہوئی ہے ۔

بچوں کی نشوونما میں سرمایہ کاری کرنا

جس طرح انسان کسی بھی کاروبار کو کا میاب بنانے کے لیے سرمایہ کاری کرتے ہیں، وقت دیتے ہیں، لوگوں سے مشورے لیتے ہیں اور نتائج کا سامنا کرتے ہیں بالکل اسی طرح اپنے بچوں کی تربیت کے لیے وقت نکالیں، انٹرنیٹ، گوگل، دوست، رشتہ دار، سا یکالوجسٹ اور ماہرین تربیت وہ تعلیم سے رابطہ کریں، انکی حالت، نشونما کے مراحل، عادت وو اطوار پر بحث کریں اور ان سے مشورہ لیں، اگر کچھ فیس دینی پڑ جائے تو کوئی مسئلہ نہیں ڈاکٹر کی فیس سمجھ کر ادا کردیں۔ بچوں سے ہفتے میں ایک محدود نشست کا اہتمام کریں اور موضوعات کا انتخاب ان کی ضروریات اور وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوے کریں۔ اچھے آڈیو ویڈیو پیغامات کا انتخاب کرکے سوالات جوابات کا اہتمام کریں۔ آپ کا دیا گیا وقت اور لگا ہوا سرمایہ بہترین سرمایہ کاری ہوگی اور اس کےفوائد و ثمرات صرف آپ ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ سمیٹے گا۔

ساتھ دیں اور ان کی زندگی کا حصہ بنیں

اپنے بچوں کو کم سے کم وقت کے لیے اکیلا چھوڑا کریں۔ جب ٹی وی، موبائل و دیگر اشیا جیسے لیپ ٹاپ، گیمز ڈیوا ئسز کا استعمال کریں تو اپنے ساتھ بٹھائیں، براؤزر ہسٹری چیک کر لیا کریں،کوشش کریں کہ مل کر دیکھ لیا کریں اوراگر کوئی غلط مواد کھلا ہو تو رہنمائی کریں ناکہ سرزنش۔ بہرکیف، آئندہ کے لیے وارننگ ضرور دیں اور پھر اس پر عمل بھی کریں کیو نکہ خالی دعوے یا ڈرانا دھمکانا ان کو مزید غا فل اور باغی بنا دے گا۔ کھیلنے کے لیے بہن بھائیوں کو ساتھ بھیجیں یا پھرقابل اعتماد دوستوں کے ساتھ مگر دن کے کسی پہر ان سے جائزہ لیا کریں یا کم ازکم پوچھ لیا کریں کہ کیا ہوا تھا، کیا چل رہا تھا؟ یہی آپ کو حالا ت سے واقفیت اور ان کی رہنمائی کے لیے مکمل معلومات فراہم کریں گے اور اگر ممکن ہو تو وہاں کھیلنے کے لیے بھیجیں جہاں کوئی نظر رکھ سکے۔ ان کی زندگی کا حصہ بنیں تاکہ ان کو سکون اور مزے تلا ش کرنے کے لیے دوسروں کو تلا ش نہ کرنا پڑے۔ ان کے دوست بنیے مگر یہ نہ بھولیں کہ آپ ان کے والدین ہیں۔

محبت کیجیے، مگر حدود کا تعین کیجیے

ان سے محبت کریں نہ کہ رونے دھونے کی آوازیں سن کر یا ذہنی سکون کی تلاش کی خاطر راہ فرار اختیار کریں۔ آپ کے محبتوں کی حدود بھی متعین ہونے چاہئیں۔ بچے ضدی ہوتے ہیں ہر چیز کا مطالبہ کر تے ہیں، ان کی ہر خواہش کو پورا کرنا ہماری خواہش تو ہو سکتی ہے مگر یہ محبت کہیں بگاڑ کا سبب تو نہیں بن رہی؟ اس کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔ اتنی محبت ضرورو دیں کہ وہ اوروں کی محبت کے متلاشی نہ ہوں۔

خود اعتمادی اور حوصلہ افزائی کیجیے

بچوں کے اچھے اقدام، منفرد خیالات، تجربات اور احساسات کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ ان کے اندر خود اعتمادی کا فقدان نہ رہے۔ بات بات پہ ٹوکنا، نہ کرو کی رٹ لگانا، ان کی بے عزتی اور مارپیٹ کا فارمولا اب قابل عمل و قبول نہیں رہا۔ انہیں فیصلہ سازی کرنے دیں، بے شک کھانا پکانے یا کپڑے پہننے کی حد تک ہی کیوں نہ ہو لیکن یہاں بھی حدود کا تعین ضروری کریں۔ اتنا خود اعتماد نہ بنا ئیں کہ "اپنا جسم، اپنی مرضی" کے نعرے لگاتے پھریں۔

رویّے شخصیت کے عکاس ہوتے ہیں

آپ کا بچے سے تعلق ان کی شخصیت کا اہم جزو ہے۔ وہ اقدار کا خیال کیا رکھیں گے اگر والدین کو اس کی پامالی کرتے ہوئے نہ دیکھیں۔ آپ ان کو نہیں سنتے تو وہ بھلا کیسے سنیں گے؟ آپ ٹائم نہیں دیتے تو وہ اپنا فارغ وقت آپ کے ساتھ کیوں گزارے؟ بچوں کی شخصیت آپ کے رویوں کی عکا س ہے۔ ان کے رول ماڈل بنیے تاکہ وہ اوروں کی طرف مائل نہ ہوں۔ آپ کا رویہ اچھا ہوگا تو آپ کی اچھی توقعات کا حاصل بھی اچھا ہوگا۔

اچھے انکل، برے انکل

ہمیں اچھے انکل اور برے انکل کے چکر سے نکلنا پڑے گا کیونکہ اچھے کو برا بننے میں دیر نہیں لگتی۔ اجنبی -خطرہ (Stranger -Danger) ہے مگر اپنا تو ڈرون کی مانند ہے جو صرف خطرہ ہی نہیں اصل ٹارگٹ پہ حملہ آورہوتا ہے۔ اس کو پتہ ہوتا ہے کب کون کہاں پر ہے؟ اور وہ اعتماد کی آڑ میں جو نقصان پہنچائے گا اجنبی شاید ہی کبھی پہنچا سکے۔ دوسری قابل غور بات یہ کہ بچے کب اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ اعتماد میں چلائی گئی چال کو محسوس کریں ، لہٰذا بچوں کو دور سے سلام کرنے اور حفاظتی اقدامات کے بارے میں آگاہ کریں، کم سے کم جسمانی ملاپ رکھیں چاہے ہم جنس ہو یا مخالف جنس والا ۔

اچھا چھونا - برا چھونا

گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ اچھا تصور ہے مگر اس میں بچے کو صرف یہی سمجھایا جاتا ہے کہ جسم کے تین حصّوں پہ کسی کا حق نہیں اور کوئی اس کو نہیں چھوئے گا سوائے والدین کے، وہ بھی ضرورت کے وقت۔ مگر سوال یہ ہے کہ باقی جسم کا کیا ہوگا؟ غلط استعمال (abuse) تو غلط ہے اگر کوئی بچے بالخصوص بچی کے باقی جسم سے لطف اندوز ہو تو کیا وہ منع نہیں ہیں؟ اگر اچھے انکل بری نیت سے ٹچ کریں تو کیا اجازت دی جائے؟ اصل میں اچھی والدیت یہی ہیں کہ وہ بچوں کو سمجھا سکیں کہ آپ کا پورا جسم آپ کا ہے اور اس پہ کسی کا حق نہیں۔

مذہب کی تعلیم دینا

آپ چاہے لبرلزم سمیت جس مذہب کے بھی پیروکار ہیں مگر مذہب سے بغاوت آپ کے بچوں کو اثر انداز کرسکتی ہے۔ آپ کے مذہب میں شادی کا کوئی نہ کوئی تصور ہوگا اور اگر نہیں تو کم از کم بچوں کے تحفظ اور حقوق کا تصورتو ہوگا ہی، لہٰذا اس کی تعلیمات دی جائیں اور یہ بھی بتا دیجیے کہ مذہب آپ کے حقوق، ذمہ داریوں اور فرائض کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ کسی غیر اور اپنے سے تعلقات استوار کرنے سے قبل یہ تعلیمات ان کے کام آسکتی ہیں۔

تخیلاتی، تصوراتی اور مفروضا تی زندگی

بچوں کو حقائق پسند بنائیں، انہیں ماضی کی طرح پریوں، جاسوسوں کی کہانیوں اور فرسودہ رواجوں سے نجات دلائیں، جیسے پیدا ہوتے ہی ان کے رشتے طے کرنا۔ ان کے سامنے بار بار شادی کا ذکر کرنا اس مفروضے پر کہ اب ساری عمر یہ مخالف جنس کی طرف راغب نہیں ہوگا، آجکل بچے دلیل سے سمجھتے ہیں لہٰذا دلیل کا سہارا لیں۔ آپ تعلیم حاصل کریں گے تو لاکھوں کمائیں گے کی بجائے اچھا انسان بننے کا تصور دیں۔ وہ لاکھوں نہیں کمائیں مگر "لاکھوں میں ایک" ہوں گے۔

قابل قبول/نا قابل قبول، قابل برداشت / نا قابل برداشت

قابل قبول اور نا قابل قبول کاموں کاموں کی فہرست تیار کیجیے اور قابل برداشت اور نا قابل برداشت کاموں کے لیے حدود کا تعین کیجیے مگر بچے کی عمر کے مطابق۔ اپنی توقعات کو مہذب الفاظ کا رنگ دیجیے اور اس کے ساتھ ہی مستقبل کا لائحہ عمل دیجیے لیکن سال کے اختتام بالخصوص ان کی برتھ ڈیز پر اس کا فالو اپ ضرور کریں۔

بچوں پہ احسان نہ جتائیں

اگر آپ بچوں کی تربیت کے لیے اوپر دیے گئے کاموں میں سے کوئی سا بھی کام کر رہے ہیں، ان کی تربیت و تعلیم کے لیے وقت اور پیسہ لگا رہے ہیں، ان کی کامیابی اور زندگی کو پر لطف بنانے کے لیے خون پسینے کی کمائی کے ساتھ اپنی خوشیوں کو قربان کر رہے ہیں، کیجیے مگر احسان نہ جتائیں۔ اپنا فرض سمجھ کر ان کی تربیت کریں ورنہ وہ دن دور نہیں جب وہ سوالات کی صورت میں تابڑ توڑ حملے کرکے پوچھنے پہ مجبور ہوں گے کہ ہمیں جنم دینے سے پہلے آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ اس گھر میں پیدا ہونا ہے کہ نہیں؟ بیٹی یا بیٹے کی صورت میں رحمتوں اور نعمتوں کی دعاؤں سے پہلے سوچا تھا کہ مجھے جنم کیوں دے رہے ہیں؟ کوئی مقصد بھی تھا یا محض خواہشات کی ہوس نے اندھا کر دیا تھا؟ آج اپنے بچے کی تربیت کرکے آپ اپنا حق ادا کرہے ہیں تو کل وہ آپ کے بڑھاپے کا سہارا بن کر اپنا حق ادا کر رہے ہوں گے۔

بچوں کی تربیت کو اپنا شوق بنائیں

بچوں کی تربیت کو اپنا شوق بنائیں کیونکہ شوق پورا کرنے کے لیے انسان ہر ممکن قدم اٹھاتا ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر وو دیگر نیٹ ورکس پہ اپنا ٹائم کم کریں گے تو آپ کویہ شوق پورا کرنے کے لیے وقت مل جائے گا۔ آپ کو سینکڑوں لائیکس تو نہیں ملیں گے مگر اپنے بچوں کے دو چار لائیکس اور ایک دو کومنٹس ضرور ملیں گے۔

کہنے اور لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر جو نہیں ہے وو صرف ا ور صرف احساس ہے۔ جسے نہ خریدا جا سکتا ہے نہ زبردستی پیدا کیا جا سکتا ہے۔ بہرکیف، آجکل کے حالات میں سب والدین کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ اچھی والدیت کے کورسز میں شمولیت کریں، کسی سے مشورہ لیں اگر یہ نہیں کر سکتے تو گوگل اور انٹرنیٹ کی دوستی آپ کو یہ سب صرف چند منٹوں میں دے سکتی ہیں۔ یہ صرف ہمارے ہی نہیں پورے معاشرے کے بچے ہیں۔

اس بیمار معاشرے کو بہت مسیحاؤں کی ضرورت ہے اور شاید آپ کا یہ طرزِ تربیت صالح اولاد کی صورت میں کسی کے دکھوں کا مداوا کر سکے، کسی کا گھر آباد کر سکے، کسی کے چہرے پہ مسکان لا سکے اور وہ آپ بھی ہوسکتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */